بلے پر فلسطینی پرچم پر جرمانہ، سابق کرکٹرز کی تنقید

قومی کرکٹر اعظم خان سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہے ہیں جس کی وجہ ٹی ٹوئنٹی میچ کے دوران ان کا اپنے بلے پر فلسطینی پرچم کا سٹکر لگانا اور پی سی بی کی جانب سے ان پر جرمانے کی اطلاعات ہیں۔

تین مارچ، 2023 کی اس تصویر میں پاکستانی کرکٹر اعظم خان پاکستان سپر لیگ کے ایک میچ کے دوران شاٹ کھیلتے ہوئے(اے ایف پی)

گذشتہ رات سے قومی کرکٹر اعظم خان سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہے ہیں جس کی وجہ مقامی ٹی ٹوئنٹی میچ کے دوران ان کا اپنے بلے پر فلسطینی پرچم کا سٹکر لگانا اور پی سی بی کی جانب سے ان پر جرمانے کی خبریں ہیں۔ 

سوشل میڈیا پر چلنے والی خبر کے مطابق بیٹ پر فلسطین کا جھنڈا لگانے پر پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے اعظم خان پر میچ فیس کا 50 فیصد جرمانہ عائد کردیا گیا۔

سپورٹس جرنلٹس کے مطابق یہ کوئی انٹرنیشنل میچ نہیں تھا بلکہ مقامی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ تھا جس میں اعظم خان کراچی وائٹس کی جانب سے کھیل رہے ہیں۔

سپورٹس جرنلسٹ فرید خان کی خبر کے مطابق اعظم خان کو فلسطین کے جھنڈے کا سٹکر کا استعمال جاری رکھنے کی صورت میں معطلی کی وارننگ بھی دی گئی تھی۔

اس خبر کے سامنے آنے کے بعد سے پی سی بی کو سوشل میڈیا پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اعظم خان کا نام ایکس پر دوسرے نمبر پر ٹریند کر رہا ہے۔

تاہم کچھ صارفین کا یہ بھی ماننا ہے کہ سیاست اور مذہب کو کھیل کا حصہ نہیں ہونا چاہیے۔

سپورٹس جرنلسٹ فرید خان نے خبر دیتے ہوئے ایک اور پوسٹ میں اعظم خان کے اس جرمانے کو خود ادا کرنے کی پیشکش بھی کی اور کہا کہ ’اگر پاکستان میں فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی غلط ہے تو میں اس غلطی کی قیمت چکانے کو تیار ہوں۔‘

صحافی حامد میر نے بھی ایکس پر اعظم خان کی میچ کے دوران تصویر شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ ’کیا پی سی بی بتائے گی کہ پاکستان میں کرکٹ بیٹ پر فلسطین کا جھنڈا لگانا کب سے جرم ہو گیا؟ بیٹ پر فلسطین کا جھنڈا لگانے پر اعظم خان کو جرمانہ کرنے والوں کو پی سی بی سے فارغ کر کے عبرت کی مثال بنانا چاہئے۔‘

حامد میر کی اس پوسٹ کے نیچے فضل حسن نامی صارف نے  پی سی بی، حکومت پاکستان اور نگران وزیراعظم کو ٹیگ کرتے ہوئے سخت ردعمل دیتےہوئے لکھا کہ ’کیا پی سی بی آئین پاکستان کا پابند ہے؟ یا ان کا اپنا کوئی آئین ہے؟

اسی پوسٹ کے نیچے عباسی نامی صارف نے ایک الگ نظریہ پیش کرتے ہوئے لکھا کہ ’فلسطین کے لیے ہمارے برادرانہ جذبات سے قطع نظر، کھیلوں کو کسی بھی قسم کی سیاسی حمایت سے پاک ہونا چاہیے۔ کھیلوں کی تقریبات کو سیاست کے لیے استعمال کرنا نامناسب ہے۔ ہر چیز میں سیاست اور مذہب کو کیوں لاتے ہیں؟‘

سابق کھلاڑی راشد لطیف اور اینکر پرسن ڈاکٹر نعمان نیاز نے بھی اپنے پروگرام میں اس پر تبصرہ کرتے ہوئے اعظم خان کی ہمت کو سراہا اور کہا کہ ’اس عمل کے لیے دلیری چاہیے۔‘

ڈاکٹر نعمان نیاز نے کہا کہ ’اعظم خان پر ہمیں فخر ہے ان کو بیٹ سے سٹکر ہٹانے کے لیے پیغام دیا گیا تھا لیکن انہوں نے انکار کر دیا، انہوں نے یہ بھی کہا شاید ڈیڈی( والد) یہ کام نہ کرتے لیکن اس نے کر دکھایا۔‘

واضح رہے اعظم خان پاکستان کے سابق کپتان اور وکٹ کیپر معین خان کے صاحبزادے ہیں۔

تاہم راشد خان نے تعریف کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’یہاں جرمانہ دے دیں گے لیکن انٹرنیشنل میچز میں گریز کریں کیونکہ وہاں مشکل ہوجائے گی۔‘

 انہوں نے ساتھ ورلڈ کپ 2023 کا ذکر بھی کیا اور بتایا کہ ’پاکستانی کھلاڑی محمد رضوان کی ورلڈ کپ کے دوران غزہ پر کیے جانے والی پوسٹ کو پی سی بی کی جانب سے ڈیلیٹ کرانے کی بھی بہت کوشش کی گئی تھی جو کامیاب نہیں ہو سکی تھی۔‘

ایک اور صارف ثانیہ اشرف نے پوسٹ کی کہ ’پی سی بی کو اپنے کیے پر شرم آنی چاہیے، اگر فلسطین کے ساتھ کھڑا ہونا جرم ہے تو نہ صرف اعظم خان بلکہ ہم سب کو جرمانہ ادا کرنا پڑے گا!‘

 تاہم خان نامی ایک صارف نے اعظم خان کے اس عمل کو خاص پسند نہیں کیا اور کہا کہ ’کھلاڑی پر معاہدے کی خلاف ورزی کرنے پر پابندی عائد ہونی چاہیے، سوچیں اگر دوسرے کھلاڑی اسرائیل کے حامی لوگو پہننا شروع کر دیں تو کیا انہیں بھی اجازت دی جائے؟‘

پی سی بی کے ایک عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کی نامہ نگار فاطمہ علی کو بتایا کہ اعظم خان کو ادارے کی طرف سے جرمانہ کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ڈومیسٹک کرکٹ کے پروٹوکولز کے مطابق ہم صرف وہی چیزیں استعمال کر سکتے ہیں جن کی ہمیں اجازت دی گئی ہو۔ اگر کوئی کھلاڑی اس کے علاوہ کوئی چیز استعمال کرے گا تو اسے جرمانہ لگے گا۔‘

ان کے مطابق ’کرکٹ بیٹ پر کچھ بھی لگانے کی اجازت نہیں ہے۔ اعظم خان نے بیٹ پر جھنڈا لگا کر ادارے کے لیگل پروٹوکولز کی خلاف ورزی کی تھی جس کی وجہ سے ان پر جرمانہ لگا جو ان کی میچ فیس کا 50 فیصد ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ’ پی سی بی اپنا یہ فیصلہ واپس نہیں لے گا کیونکہ اعظم خان نے پی سی بی کے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ٹرینڈنگ