لوگ نیند کے دوران کام کرسکتے ہیں: سٹارٹ اپ کا دعویٰ

ایک امریکی سٹارٹ اپ پروفیٹک کا کہنا ہے کہ اس کی ہالو ڈیوائس کی مدد سے لوگ سوتے وقت بھی کام کر سکیں گے۔

پروفیٹک نامی کمپنی کی ہالو ڈیوائس واضح خواب دکھانے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے (پیکسلز)

ایک امریکی سٹارٹ اپ کا کہنا ہے کہ اس کی ہیڈ بینڈ ڈیوائس کی مدد سے لوگ سوتے وقت بھی کام کر سکیں گے۔

پروفیٹک نامی کمپنی کی ہالو ڈیوائس واضح خواب دکھانے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے، جس سے پہننے والوں کو سونے کا احساس ہوتا ہے اور وہ اپنے تجربے کو کنٹرول کرسکتے ہیں۔

پروفیٹک کے مطابق ہالو ’غیر جارحانہ نیوروسٹیمولیشن آلہ‘ ہے جو ’مختلف مسائل کو حل کرنے کے لیے حتمی تجربہ گاہ‘ پیش کرتا ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ صرف پہننے والے کا تخیل ہی اس کی صلاحیت کو محدود کرنے والا عنصر ہے۔

اس کا مقصد خواب دیکھنے کی حالت کو فعال کرنے کے لیے فوکسڈ الٹرا ساؤنڈ سگنلز کا استعمال کرنا ہے، جس کے بارے میں کمپنی کے بانی ایرک وولبرگ کا دعویٰ ہے کہ اس کے بعد کارکنوں کو ڈیمو مشق کرنے یا مشکل کاموں کے لیے تخلیقی حل نکالنے کا موقع مل سکتا ہے۔

سٹارٹ اپ کی ویب سائٹ پر کہا گیا: ’واضح خوابوں میں، آپ طبیعیات (فزکس) کے روایتی قوانین سے آزاد ہو جاتے ہیں جیسے کہ کشش ثقل، (قانون) بقائے توانائی اور (قانون) بقائے مادہ۔‘

مزید کہا گیا: ’اس کی وجہ ہے کہ سائنس، ریاضی اور آرٹ میں تاریخ کی نامور شخصیات اپنی سب سے اہم دریافتوں کا سہرا اپنے واضح خوابوں کو دیتی ہیں۔‘

کمپنی پہلے ہی ہیڈ بینڈ تیار کرنے کے لیے 10 لاکھ ڈالر سے زیادہ جمع کرچکی ہے اور مبینہ طور پر ایلون مسک کی نیورالنک ڈیوائس کے ڈیزائنرز میں سے ایک کے ساتھ کام کر رہی ہے۔

نیورو سائنس دانوں کا اندازہ ہے کہ تقریباً 70 فیصد لوگ اپنی زندگی میں کم از کم ایک بار واضح خواب دیکھنے کا تجربہ کریں گے، حالیہ تحقیق میں اس بات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے کہ انہیں کس طرح دکھایا جائے۔

 2017 میں ایڈیلیڈ یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے تین تکنیکوں کا تجربہ کیا تھا، جو ان کے وقوع پذیر ہونے کے امکانات کو بڑھا سکتی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پہلے مرحلے میں دن میں کئی بار آپ کے ماحول کی جانچ پڑتال کرنا شامل ہے تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ کیا آپ خواب دیکھ رہے ہیں، دوسرے میں آپ کو ترغیب دی جاتی ہے کہ سونے کے پانچ گھنٹے بعد کا الارم لگائیں اور نیند کے آر ای ایم (ریپڈ آئی موومنٹ) یعنی نیند کا وہ مرحلہ، جہاں زیادہ تر خواب آتے ہیں، کے لیے سو جائیں، جبکہ تیسرے میں لوگوں کو یہ فقرہ دہرانا ہوتا ہے کہ اگلی بار جب میں خواب دیکھوں گا، مجھے یاد رہے گا کہ میں خواب دیکھ رہا ہوں۔‘

تجربات سے پتہ چلا کہ تیسری تکنیک کو آزماتے وقت 46 فیصد شرکا نے واضح خواب دیکھے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسی تکنیک موجود ہیں، جو واضح خواب دیکھنے کے امکانات کو بہتر بناسکتی ہیں۔

پروفیٹک پہلا سٹارٹ اپ نہیں ہے جس نے واضح خواب دیکھنے کی صلاحیت کا وعدہ کیا، لیکن کوئی بھی ابھی تک ایسی مصنوعات نہیں لا سکا جس سے صارفین مستقل تجربہ کر سکیں۔ 

فارچیون میگزین کے مطابق 2025 میں لانچ ہونے والے ہالو ڈیوائس کی قیمت 1500 ڈالر سے 2000 ڈالر کے درمیان ہونے کی توقع ہے۔ صارفین 100 ڈالر کے ساتھ اپنے لیے ایک (ڈیوائس) بک کروا سکتے ہیں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی