پاکستان میں سب زیادہ ووٹ لینے والے قومی اسمبلی کے امیدوار

جمال احسن خان حالیہ انتخابات میں دو لاکھ 17 ہزار 424 ووٹ لے کر پاکستان بھر کے امیدواروں میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے امیدوار بن گئے ہیں۔

الیکشن 2024 میں عمران خان کی نااہلی کے بعد ان کی سیٹ پر الیکشن لڑنے والے جمال احسن خان ملک بھر میں سب سے زیادہ ووٹ لینے کا ریکارڈ قائم کیا ہے۔

میانوالی کی تحصیل عیسیٰ خیل کے زمیندار گھرانے سے تعلق رکھنے والے جمال خان اپنے چچا ایم این اے مقبول خان کی وفات کے بعد 2002 میں تحریک انصاف میں شامل ہوئے اور اس وقت سے تاحال اسی جماعت سے ہی وابستہ چلے آ رہے ہیں۔

جمال احسن خان تحریک انصاف کے دھرنوں، اجلاسوں اور دیگر اجتماعات میں باقاعدگی سے حصہ لیتے چلے آ رہے ہیں۔

انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹ لینے کے بعد انڈپینڈنٹ اردو کو دیے جانے والے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ ان کا محبت کا رشتہ ہے۔

2013 کے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف نے انہیں عیسیٰ خیل سے ٹکٹ دیا لیکن مقابل فریق سے محض چند ہزار ووٹ کے فرق سے ہار گئے تھے۔

جمال احسن خان کو ان کی کوششوں سے ٹولہ منگلی کے مقام پر کیڈٹ کالج عیسیٰ خیل کا قیام کریڈٹ بھی دیا جاتا ہے۔

2018 کے عام انتخابات میں بھی ان کو ٹکٹ نہیں دیا گیا اور پی ٹی آئی کا ٹکٹ عیسیٰ خیل سے ہی تعلق رکھنے والے عبدالرحمٰن خان المعروف ببلی خان کو دیا گیا جو یہ نشست جیت گئے تھے۔

اس دوران جمال خان نے اپنی تعمیراتی کمپنی بھی ختم کر دی کیوں کہ اپنے اثاثے وہ تحریک انصاف کے انتخابات پر خرچ چکے تھے۔

بقول جمال خان گذشتہ عشرے میں وہ سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے کارکن تھے لیکن وہ اب اپنا سب کچھ داؤ پہ لگا چکے ہیں۔

نو مئی کے بعد انہیں روپوش ہونا پڑا اور کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

پارٹی نشان ختم ہونے کے بعد عمران خان چوں کہ انتخابات کے لیے نااہل ہو چکے تھے تو انہوں نے اپنے حلقہ این اے 89 میں اپنی جگہ انتخاب لڑنے کے لیے جمال احسن خان کا انتخاب کیا۔ یہ حلقہ عیسی خیل، داود خیل، کالا باغ کے علاوہ میانوالی تحصیل کے بعض علاقوں پر مستمل ہے۔

یوں جمال احسن خان حالیہ انتخابات میں دو لاکھ 17 ہزار 424 ووٹ لے کر پاکستان بھر کے قومی اسمبلی کے امیدواروں میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے امیدوار بن گئے ہیں۔ اس حلقے میں ووٹروں میں مجموعی تعداد چار لاکھ 65 ہزار سے زیادہ ہے۔

ان کے مخالف مسلم لیگ ن کے عبید اللہ خان شادی خیل نے محض 34 ہزار 68 ووٹ حاصل کیے۔

جمال احسن خان کی اس حلقے میں ایک لاکھ 83 ہزار کی برتری تھی جو پاکستان بھر میں کسی بھی ایم این اے کی سب سے زیادہ سبقت ہے۔

حلقہ این اے 89 میں عمران خان نے بھی کبھی اتنے زیادہ ووٹ حاصل نہیں کیے جتنے جمال احسن خان کو ملے ہیں۔

جمال احسن خان نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’اس میں میرا رتی بھر بھی کمال نہیں ہے، یہ سب عمران خان کی شخصیت، ان کی سوچ، ان کی جوان مردی اور ڈٹ کر کھڑے رہنے کا صلہ ہے جو میانوالی کے عوام نے عمران خان کے نام پر میرے حوالے کیا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے انتخابی مہم چلانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، میری حکمت عملی یہ تھی کہ میری انتخابی مہم سے میرے کارکنان کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔‘

جمال احسن خان نے کہا کہ ’میں نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز اڈیالہ جیل کے باہر کھڑے ہو کر کیا اور میانوالی کے عوام نے مجھ پر اور عمران خان پر اعتماد کا اظہار کیا جس پر میں ان کا بےحد شکر گزار ہوں۔ میں نے تو ابھی تک ٹی وی ہی نہیں دیکھا کہ میں اتنے بڑے فرق سے جیتا ہوں۔ لوگ مجھے بتا رہے ہیں کہ آپ نے پاکستان کی تاریخ کے سب سے زیادہ ووٹ اور برتری حاصل کی ہے۔

’لیکن یہ سب ووٹ مجھے عمران خان کی وجہ سے ملے ہیں۔ عمران خان ایک رہنما ہے اور بہادر انسان ہے یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم ان کے ساتھی ہیں۔ میں نے اپنا سب کچھ تحریک انصاف پہ قربان کیا ہے۔ میری کنسٹرکشن کمپنی تھی جو اب ختم ہو گئی اور میں نے عمران خان کے دور اقتدار میں بھی کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔‘

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’نو مئی کا باب اب ختم کر دینا چاہیے اور ملک کو آگے لے کر جانا چاہیے۔ آئندہ حکومت سازی میں میں صرف اور صرف تحریک انصاف کا ساتھ دوں گا، نہ بکوں گا، نہ جھکوں گا اور عمران خان کے ساتھ کھڑا رہوں گا۔‘

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان