سپاٹی فائی کی آڈیو بکس مطالعے کی عادت ختم کر سکتی ہیں

سپاٹی فائی کا اصرار ہے کہ زیادہ آڈیو بک سامعین کا مطلب مصنفین اور پبلشرز کے لیے زیادہ آمدنی ہوگا لیکن یہاں صورت حال پیچیدہ ہوجاتی ہے۔

تین اکتوبر، 2023 کو جینیٹ میک کرڈی نیویارک میں سپاٹی فائی آڈیو بکس کی تقریب میں (نوم گلی/ اے ایف پی)

مارچ کے دوسرے ہفتے میں کتابوں کی دنیا سے تعلق رکھنے والے لوگ لندن کتاب میلے کے لیے کینسنگٹن میں اولمپیا کے نمائشی مرکز میں جمع ہوں گے۔ یہ میلہ بین الاقوامی اشاعت کی سب سے بڑی تقریبات میں سے ایک ہے۔

 لیکن اس بار لندن کتاب میلہ گذشتہ برسوں کے مقابلے میں مختلف دکھائی دے رہا ہے یعنی موسیقی کی سٹریمنگ سروس سپاٹی فائی اپنی آڈیو بک سٹریمنگ کی پیش کش کے ساتھ ادب کی مارکیٹ میں داخل ہونے والی تازہ ترین سروس ہے۔ آپ جہاں دیکھیں وہاں سپاٹی فائی فائی دکھائی دے گی۔ سپاٹی فائی مختلف ایونٹس کی سپانسرشپ کرے گی اور آڈیو کے مستقبل پر کئی پلیٹ فارموں پر ہونے والی بحث میں حصہ لے گی۔

قارئین، مصفین اور اشاعتی ادارے ذہن میں رکھیں کہ مستقبل میں سپاٹی فائی کو مرکزی حیثیت حاصل ہو گی۔

اب تک آڈیو بک کے قارئین کے لیے صورت حال  اتنی اچھی کبھی نہیں تھی۔ پچھلی دہائی میں صوتی شکل میں کتابوں کی مقبولیت میں زبردست اضافے کی جزوی وجہ انہیں کے سننے میں آسانی ہے۔ آڈیو بکس کی سٹریمنگ شروع کرنے کے سپاٹی فائی کے فیصلے کے بعد یہ کام اور بھی آسان ہو گیا ہے۔ لیکن اس میں ایک مسئلہ ہے۔ یعنی یہ کہ اگرچہ سپاٹی فائی سامعین کو مزید سہولت ، رسائی اور سہولتیں فراہم کرنے کے لیے تیار ہے لیکن آگے چل کر سٹریمنگ کا عمل آڈیو بکس کے شائقین کے لیے برا ثابت ہو گا۔

میں کتابوں کے معاملے میں ٹیکنالوجی سے خائف نہیں ہوں۔ ایک ایسے شخص کی حیثیت سے جس نے اپنی زندگی کے زیادہ تر حصے میں آڈیو بکس کو سنا، میں نے آڈیو بکس کے ارتقا کو دیکھا ہے۔ وینائل ریکارڈز سے لے کر کیسٹ ٹیپس تک۔ کمپیکٹ ڈسک سے لے کر انٹرنیٹ پر شیئر کی جانے والی ایم پی تھری فائلوں تک ہر نئی چیز کے فوائد موجود ہیں۔

تاہم میں ایک ایسے راستے پر چلنے کے ممکنہ نتائج کے بارے میں فکر مند ہوں جس نے پہلے ہی دیگر تخلیقی صنعتوں کو تباہ کر دیا ہے۔ سٹریمنگ کے تخلیق کاروں کے معاوضے پر تباہ کن اثرات کے علاوہ  سٹریمنگ میوزک کی دنیا میں سپاٹی فائی کے داخلے نے خود فن کی ہیئت میں واضح اور پریشان کن تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔

یہ تبدیلیاں البم سنتے ہوئے جوان ہونے والے ہر شخص کو فوری طور پر دکھائی دینے لگیں گی۔ اب گانوں کا اغاز پرکشش انداز میں ہوتا ہے۔ یہ گانے مختصر ہوتے ہیں۔ ہر البم میں زیادہ گانے ہوتے ہیں۔ نئی اور مختلف آوازوں کی دریافت محدود ہو چکی ہے۔ اب لوگ موسیقی پر زیادہ توجہ نہیں دیتے۔ ان کا ذہن کہی اور ہوتا ہے۔ وہ اپنی دوسری سرگرمیوں کے دوران موسیقی سنتے ہیں۔ اس موسیقی پر اکثر بڑے ناموں اور لیبلز کا راج ہوتا ہے۔

موسیقی کو فن کے اظہار کے لیے تخلیق کرنے کا رجحان تبدیل ہو رہا ہے جس کا مقصد سپاٹی فائی کے الگورتھم کو مطمئن کرنا ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ اگلا نشانہ کتابیں ہوں گی۔

اسی طرح کے ادبی مستقبل کا تصور کرنا آسان ہے یعنی ایسی کتابیں لکھی جائیں گی جن کے پہلے 30 صفحات میں کلائمیکس موجود ہو گا۔ اس عمل کا مقصد قارئین کی طرف سے ’آگے بڑھ جانے کی شرح‘ کو کم کرنا اور الگورتھم کو مطمئن کرنا ہے۔ کتابوں کے پلاٹ اس انداز میں ترتیب دیے جائیں گے کہ وہ ’ڈسکوری چارٹس‘ اور توجہ حاصل کرنے کے تقاضے پورے کریں۔

پبلشرز مصنفین کی کتابوں کو ’نیو بک فرائی ڈے‘ کے موقعے پر نمایاں کرنے کے لیے رقم خرچ کریں گے یا آپ کے پسندیدہ ناول نگار اپنی نئی کتاب کو موسیقی ’ٹریکس‘ کی طرح ٹکڑوں میں سامنے لائیں گے۔ کتابوں کی ان خیالی دنیاؤں میں ڈوب جانے کے اس عمل میں خلل کے لیے تیار ہو جائیں جس سے لطف اندوز ہونا قاریئن کا حق ہے۔ یہ خلل ان اشتہارات کی شکل میں ہو گا جن میں سوال کیا جائے گا کہ کیا آپ اس ناول کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ آلو کے چپس کھانا پسند کریں گے۔

سٹریمنگ آڈیو بکس کو چھپنے والی کتابوں سے مزید دور کرتے ہوئے سمعی و بصری تفریح کی طرف لے جائے گی جس میں موسیقی، فلم، ٹیلی ویژن، ریڈیو اور پوڈ کاسٹ شامل ہیں جن کا انداز زیادہ ’آڈیو‘ اور کم ’کتاب‘ والا ہے۔

سپاٹی فائی سٹریمنگ آڈیو بکس کا تجربہ کرنے والی پہلی سروس نہیں ہے اور ابتدائی اعدادوشمار کسی بھی ایسے شخص کے لیے حوصلہ افزا نہیں ہیں جو ادب کی پروا کرتا ہے۔ سویڈن میں جہاں آڈیو بک اور ای سٹریمنگ سروس ’سٹوری ٹیل‘ چھائی ہوئی ہے ’بہترین سٹریمرز‘ عملاً جرم پر لکھے گئے ناول پیش کرتے ہیں۔ جرم وسزا کی کہانی بیان کرنے والے ناولوں کا پلاٹ اور مکالمہ بہت زوردار ہوتا ہے۔

اپسالا یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے کارل برگلنڈ اور میٹس ڈہلوف کی  اس موضوع پر کی جانے والی تحقیق اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ سب سے زیادہ مقبول آڈیو بکس انہیں کتابوں کے پرنٹ ایڈیشن کے مقابلے میں مختصر، زیادہ سیدھی سادی اور اسلوب کے اعتبار سے آسان ہوتی ہیں۔ اگرچہ کوئی بھی چیز لوگوں کو موبی ڈک نامی ناول کو سننے سے نہیں روکتی لیکن جس انداز میں لوگ کتابیں پڑھتے ہیں وہ ان کے منتخب کردہ کتابوں کی اقسام پر اثر انداز ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ سٹریمنگ سیدھے سادے انداز کے حق میں ہے۔

مالی مشکلات سے دو چار مصنفین سامعین کی توجہ حاصل کرنے کے اس نئے انداز کے دباؤ اور افادیت کا جواب کیسے دیں گے؟ کیا ادب تخلیق کرنے کے طریقہ کار میں تبدیلی کو  کا مطلب یہ ہے کہ سامعین ’ڈوب کر پڑھنے‘ سے ہمارے دماغ کو ہونے والے وسیع فوائد سے محروم ہوجائیں گے؟ کیا مصنفین کو اگلا ناول ’دا کیچر ان دی رائی‘ کے انداز میں لکھنے کی بجائے موسیقی کے تڑکے ساتھ ادب تخلیق کرنے کی ترغیب دی جائے گی؟ کیا نئے مصنفین کو اس الگورتھم کی بنیاد پر تلاش کیا جائے گا جو ہمارے مزاج پر اثرانداز ہونے یا سننے کے وقت کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کے لیے بنایا گیا ہو؟

سٹریمنگ آڈیو بکس کا مستقبل ہوسکتا ہے۔ نارڈک ممالک  (ڈنمارک، فن لینڈ، آئس لینڈ، ناروے اور سویڈن) پڑھنے کے دوسرے طریقوں پر آڈیو بکس کو سٹریم کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

 2020 میں سویڈن میں فروخت ہونے والی تمام کتابوں میں سے نصف سے زیادہ ڈیجیٹل سٹریمنگ سروسز کے ذریعے آئیں۔ سٹاک ہوم میں قائم سٹوری ٹیل نے کتابوں کی سٹریمنگ کی کامیابی کا جواب ’آڈیو فرسٹ‘ کے انداز بیان کے ساتھ دیا ہے جس میں چھپائی کے عمل کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آڈیو بکس کا فروغ کان کی بجائے آنکھ کے لیے لکھنے کے عادی مصنفین کو کس طرح متاثر کرے گا۔

سپاٹی فائی کا اصرار ہے کہ زیادہ آڈیو بک سامعین کا مطلب مصنفین اور پبلشرز کے لیے زیادہ آمدنی ہوگا لیکن یہاں صورت حال پیچیدہ ہوجاتی ہے۔ یعنی پہلی بات یہ ہے کہ سامعین کی تعداد زیادہ ہونا کوئی ضمانت نہیں ہے۔ جیسا کہ ایپل اور گوگل کے سابق اعلیٰ افسر کم سکاٹ نے خبردار کیا ہے کہ سٹریمنگ کے دور میں موسیقی کی نئی مارکیٹ سکڑ رہی ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ سٹریمنگ سے قارئین کو صرف اسی صورت میں فائدہ ہوگا جب آڈیو بکس بنانے کے ذمہ دار افراد یعنی مصنفین، ایڈیٹرز، ساؤنڈ انجینئرز اور وائس اوور کروانے والوں کو فیصلہ سازی کے عمل یا منافعے سے الگ نہ کیا جائے۔

 وہ لوگ جو لکھ لکھا کر گزر بسر کرتے ہیں وہ خاص طور پر موسیقاروں کی غائب ہوتی رائلٹی کے بارے میں خوفناک کہانیوں سے خوفزدہ ہیں۔ مصنفین کو اس سے بھی زیادہ سنگین ممکنہ صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیوں کہ کتابوں کو عام طور پر دوبارہ نہیں خریدا جاتا اور کھوئی ہوئی آمدن کو کتابوں کی تشہیر کے لیے کیے جانے والے دوروں یا کتابوں کی تجارتی بنیاد پر فروخت سے واپس نہیں لایا جا سکتا۔

امریکہ میں مصنفین کی تنظیم اور برطانیہ میں مصنفین کی سوسائٹی نے  کئی خدشات کا اظہار کیا ہے جن میں یہ اعتراضات بھی شامل ہیں کہ سپاٹی فائی کے لائسنسنگ معاہدوں پر پبلشرز کے ساتھ بات چیت کی گئی اور ایجنٹوں یا مصنفین کے معاملے میں کوئی شفافیت نہیں تھی۔ کچھ مصنفین کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ان کی کتابیں سپاٹی فائی پر دستیاب ہیں۔

اگر ان کے خدشات کو دور نہیں کیا جاتا تو مصنفین کو سبسکرپشن خدمات سے انکار کا حق محفوظ رکھنا ہو گا۔ موجودہ کرداروں کے ساتھ اس کی مثالیں موجود ہیں۔ کوری ڈاکٹرو اور برینڈن سینڈرسن نے پلیٹ فارم کی ادائیگی کی شرائط اور دیگر پالیسیوں کے خلاف احتجاج کے طور پر سٹریمنگ سروس آڈیبل سے اپنی کتابیں واپس لینے کے بعد ذرائع ابلاغ کی سرخیوں میں جگہ بنائی۔ اگرچہ انہیں اس کی کافی قیمت ادا کرنا پڑی جس کے تمام مصنفین متحمل نہیں ہو سکتے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ وہ مقام ہے جہاں صارفین اس طریقے سے اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں کہ وہ کیا سننا چاہتے ہیں۔ پائیدار سماعت کا مطلب ایسے پلیٹ فارمز کا انتخاب کرنا ہے جو پبلشرز، وائس اوور فن کاروں اور اعلیٰ معیار کی آڈیو بکس تیار کرنے کے لیے ضروری ماحول کی فراہم کرتے ہیں جو اس فارمیٹ کے ساتھ انصاف ہے۔

آڈیو بکس سروس لبرو ڈاٹ ایف ایم ہر خریداری کے ساتھ  کتابوں کی مقامی دکانوں کی معاونت کرتی ہے۔ مثال کے طور پر اوورڈرائیوز لبی نامی ایپلی کیشن آپ کی مقامی لائبریری سے آڈیو بکس لیتی ہے۔

چھوٹے اور آزاد پبلشرز کے کام کو فروغ دینے والی ایپس بھی ابھرنا شروع ہوگئی ہیں۔ کچھ پبلشرز براہ راست بھی کتابیں پیش کرتے ہیں جیسا کہ پرنسٹن یونیورسٹی پریس کی ایپ جس سے زیادہ تعلیمی عنوانات کو آڈیو بکس میں تبدیل کرنے میں مدد کرتی ہے۔

تفریح کی دوسری صورتوں کو سٹریم کرنے کی جلدی میں کی جانے والی غلطیوں سے گریز کرنا ہو گا کیوں کہ اگرچہ میرے خدشات حقیقی ہیں لیکن میں آڈیو بک صنعت کے ارتقا کے بارے میں پرامید ہوں بشرط یہ کہ اس صنعت کو بنانے والے لوگ خود معدوم نہ ہو جائیں۔

میتھیو روبری لندن کی کوئین میری یونیورسٹی میں جدید ادب کے پروفیسرہیں۔ وہ ’دی ان ٹولڈ سٹوری آف دی ٹاکنگ بک‘ کے مصنف اور اس شعبے سے وابستہ تخلیق کاروں کی تنظیم کے رکن ہیں۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی