ایم کیو ایم پاکستان کا صدر کے لیے زرداری کی حمایت کا اعلان

خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ ’صدارتی انتخاب میں ہم آصف علی زرداری کی حمایت کریں گے اور انہیں ووٹ دیں گے۔‘

ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے درمیان جمعرات کی شب اسلام آباد میں ملاقات ہوئی (سکرین گریب/سما نیوز)

پاکستان میں عام انتخابات 2024 کے بعد حکومت سازی اور دیگر سیاسی سرگرمیوں پر انڈپینڈنٹ اردو کی لائیو اپ ڈیٹس۔

  • پشاور ہائی کورٹ: سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں پر حکم امتناعی میں توسیع
  • پنجاب میں مخصوص نشستیں نہ ملنے پر لاہور ہائی کورٹ میں درخواست مقرر
  • مودی کی مبارک باد پر وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ

8 مارچ: رات 12 بج کر 05 منٹ

ایم کیو ایم پاکستان نے جمعرات کی شب صدر پاکستان کے انتخاب کے لیے آصف علی زرداری کی حمایت کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

اسلام آباد میں ایم کیو ایم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کی جس میں خالد مقبول صدیقی اور بلاول بھٹو زرداری سمیت دونوں جماعتوں اور مسلم لیگ ن کے رہنما بھی موجود تھی۔

اس موقع پر خالد مقبول صدیقی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان کا فیصلہ ہو گیا ہے اور صدر پاکستان کا فیصلہ ہونا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’ہماری روایتوں میں یہ بات رہی ہے کہ مختلف سیاسی جماعتیں اس حوالے سے دوسری جماعتوں کے پاس جا کر اس عمل میں شریک ہونے اور اپنے لیے حمایت کا تقاضہ کرتی ہیں۔‘

’مجھے بڑی خوشی ہے کہ آج بلاول بھٹو ہمارے درمیان ہیں۔ ہم پہلے بھی یہ کرتے رہے ہیں اور سب کے علم میں ہے کہ زرداری صاحب کی سب سے پہلے ایم کیو ایم نے صدر کے لیے تجویز دی تھی۔‘

خالد مقبول صدیقی اس موقع پر بلاول بھٹو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ آئے ہیں اور ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ صدارتی انتخاب میں ہم آصف علی زرداری کی حمایت کریں گے اور انہیں ووٹ دیں گے۔‘


7 مارچ: رات 9 بج کر 50 منٹ

 


7 مارچ: رات 8 بج کر 00 منٹ

مودی کی مبارک باد پر وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ

شہباز شریف نے پاکستان کا وزیر اعظم منتخب ہونے پر انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کی مبارک باد پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

اپنی ایکس پوسٹ میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’میں اپنے وزیر اعظم منتخب ہونے پر آپ کی مبارک باد کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘


7 مارچ: 5 بج کر 45 منٹ

پنجاب میں مخصوص نشستیں نہ ملنے پر لاہور ہائی کورٹ میں درخواست مقرر

پنجاب میں مخصوص نشستیں نہ ملنے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں سنی اتحاد کونسل کی درخواست سماعت کے لیے مقرر ہو گئی۔

جسٹس عابد عزیز شیخ کل (جمعے کو) درخواست کی سماعت کریں گے۔ ‏

درخواست میں الیکشن کمیشن سمیت دیگر کو فریق بناتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نہ تو ٹریبونل ہے نہ عدالت، اسمبلی میں سیٹوں کے تناسب سے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں ملنی چاہییں، سنی اتحاد کونسل نے الیکشن لڑا یا نہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ 

‏درخواست کے مطابق: ’الیکشن کمیشن کا عمل آئین میں ترمیم کے مترادف ہے، الیکشن کمیشن کا فیصلہ اپنے اختیارات سے تجاوز ہے، عدالت الیکشن ایکٹ کا سیکشن 104، رول 94 خلاف آئین قرار دے۔‘


7 مارچ: 5 بج کر 30 منٹ

وزیر اعظم شہباز شریف کا سعودی ولی کا شکریہ

وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز السعود کی جانب سے وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے پر نیک خواہشات اور دعاؤں پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

ایکس پر اپنے ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گہرے تعلقات باہمی احترام، مذہبی اور ثقافتی وابستگی اور مشترکہ اقدار پر مبنی تاریخی بندھنوں میں بندھے ہیں۔

انہوں نے کہا ’مجھے یقین ہے کہ یہ برادرانہ رشتے آنے والے وقتوں میں مزید پروان چڑھتے رہیں گے۔‘

شہباز شریف نے کہا کہ دونوں برادر ممالک کے عوام کے باہمی مفاد کے لئے وہ اپنے بھائی سعودی ولی عہد کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں۔


7 مارچ: 5 بج کر ایک منٹ

پشاور ہائی کورٹ: سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں پر حکم امتناعی میں توسیع

پشاور ہائی کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کے خلاف دائر درخواست میں اگلی بدھ تک حکم امتناعی جاری کر دیا۔

پانچ رکنی بینچ کر رہے تھے۔

نامہ نگار اظہار اللہ کے مطابق الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ پارٹی نے کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت مخصوص نشستوں کے لیے فہرست جمع نہیں کی ہے۔

الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔

بدھ کو عدالت نے قومی اسمبلی میں دیگر سیاسی جماعتوں کو بقیہ مخصوص نشستیں الاٹ ہونے کے بعد امیدواران سے حلف نہ لینے کا حکم دیا تھا۔

آج دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جسٹس اشتیاق ابراہیم کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ سے وقت مانگتے ہوئے کہا کہ کیس کی تیاری کے لیے وقت چاہیے اور اٹارنی جنرل آج سپریم کورٹ میں پیش ہوئے ہیں۔

اس پر عدالت نے کہا کہ اٹارنی جنرل کو آج طلب کیا گیا تھا۔ درخواست گزار کے وکیل قاضی انور ایڈوکیٹ نے بتایا کہ نئے ایڈوکیٹ جنرل کی تعیناتی آج ہو گی۔

عدالت نے بتایا کہ اٹارنی جنرل آئندہ سماعت پر ہوں اور اس کیس میں آئندہ بدھ 13 مارچ  تک حکم امتناع جاری کر دیا۔


7 مارچ: 4 بج کر 30 منٹ

فارم 45 میں مبینہ بے ظابطگیاں: پی ٹی آئی کے بابر اعوان کا عدالتی کمیشن کا مطالبہ
 
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما بابر اعوان نے الیکشن کمیشن کے جاری کردہ فارمز 45 میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کا مطالبہ کیا ہے۔
 
جمعرات کو پشاور ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف اسمبلیوں میں مخصوص نشستیں حاصل کرنے کے لیے قانونی لڑائی جاری رکھے گی۔
 
ان کا کہنا تھا کہ ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کے لیے صرف دو راستے ہیں۔ ’پہلا راستہ یہ کہ عمران خان کے خلاف تمام جھوٹے مقدمات اور فرضی ایف آئی آرز کو ختم کیا جائے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’پورے ملک نے عمران خان کو مینڈیٹ دیا، مینڈیٹ چوری کر کے نہیں چھینا جا سکتا۔

’جب پشاور ہائی کورٹ نے بلے کا نشان پی ٹی آئی کو واپس کر دیا تھا تو الیکشن کمیشن کو اسے چیلنج کرنے کے لیے کس نے کہا؟‘

7 مارچ: 4 بج کر 15 منٹ

فارم 45 کا معاملہ سپریم کورٹ میں اٹھائیں گے: بیرسٹر علی ظفر

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ ان کی جماعت الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ فارم 45 میں مبینہ ردوبدل کے معاملے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر ایک سوال کے جواب میں ظفر نے کہا کہ ’ہم اس معاملے (فارم 45) کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔‘

سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں الاٹ نہ کرنے کے معاملے پر ان کا کہنا تھا کہ مقدمہ پشاور ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے جس کے فیصلے کا اطلاق صوبائی اور قومی اسمبلیوں پر ہوگا۔


5 مارچ: 7 بج کر 55 منٹ

پنجاب اسمبلی کے سپیکر ملک محمد احمد خان نے صدارتی انتخاب کے لیے اجلاس نو مارچ کو طلب کر لیا ہے۔

اس حوالے سے جاری بیان کے مطابق پنجاب اسلمبلی کا اجلاس نو مارچ دن 10 بجے طلب کیا گیا ہے۔

سپیکر ملک محمد احمد خان کا کہنا ہے کہ اجلاس میں پنجاب اسمبلی کے ارکان نئے صدر کے انتخاب کے لیے اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔


5 مارچ: 6 بج کر 33 منٹ

آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی زیر صدارت منگل کو 263 ویں کور کمانڈرز کانفرنس کے اختتام پر ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان کی مسلح افواج نے دیے گئے مینڈیٹ کے مطابق عام انتخابات 2024 کے انعقاد کے لیے عوام کو محفوظ ماحول فراہم کیا اور اس سے زیادہ افواجِ پاکستان کا انتخابی عمل سے کوئی تعلق نہیں تھا۔‘

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق فورم نے کہا کہ ’کچھ مخصوص مگر محدود سیاسی عناصر، سوشل میڈیا اور میڈیا کے کچھ سگمنٹس کی طرف سے مداخلت کے غیر مصدقہ الزامات کے ساتھ پاکستان کی مسلح افواج کو بدنام کر رہے ہیں جو انتہائی قابل مذمت ہے۔‘

فورم کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ گڈ گورننس، معاشی بحالی، سیاسی استحکام اور عوامی فلاح و بہبود جیسے حقیقی مسائل پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے، ایسے مفاد پرست عناصر کی پوری توجہ اپنی ناکامیوں کو پس پشت ڈال کر سیاسی عدم استحکام اور غیر یقینی صورت حال پیدا کرنے پر مرکوز ہے۔‘

بیان کے مطابق عام انتخابات میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مینڈیٹ کے مطابق، تمام تر مشکلات کے باوجود محفوظ ماحول مُہیا کرنے پر فورم نے سول انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی فورسز کی کوششوں کو سراہا۔

اس موقعے پر آرمی چیف کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام کو پاکستانی قوم کی مکمل سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت حاصل ہے اور ہم مسئلہ فلسطین کے پائیدار حل کے لیے اپنے بھائیوں کے اصولی موقف کی حمایت جاری رکھیں گے۔


5 مارچ: 5 بج کر 11 منٹ

وزیراعظم شہباز شریف نے حالیہ بارشوں میں لقمۂ اجل بننے والے افراد کے لواحقین کو 20 لاکھ جبکہ زخمیوں کو پانچ لاکھ روپے فی کس امداد کا اعلان کیا ہے۔

منگل کو گوادر کے دورے کے موقعے پر انہوں نے کہا کہ مکمل تباہ ہونے والے گھروں کے مالکان کو ساڑھے سات لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے گا۔

اے پی پی کے مطابق گوادر میں وزیراعظم کو بتایا گیا کہ حالیہ بارشوں سے گوادر میں 3100 گھر متاثر ہوئے۔ جیوانی میں 125، پسنی میں 25، سنسر میں 260 گھروں کو نقصان پہنچا۔ 93 گھر مکمل تباہ ہو گئے۔ بارشوں سے 200 جانوروں کو نقصان پہنچا ہے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں حالیہ بارشوں کے باعث ہونے والے نقصانات اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لینے منگل کو گوادر پہنچے۔

اسلام آباد سے گوادر تک کی پرواز کے دوران چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے انہیں گوادر کی صورت حال پر بریفنگ دی۔  

بریفنگ میں وزیرِ اعظم شہباز شریف کو ملک کے دیگر علاقوں میں حالیہ طوفانی بارشوں سے ہونے والے نقصانات اور متاثرین کی مدد کے لیے اقدامات پر بھی تفصیلاً بتایا گیا۔   

اس موقعے پر وزیر اعظم شہباز شریف نے جدید ٹیکنالوجی اور سیٹلائٹ کے ذریعے قدرتی آفات کے قبل از وقت تعین کے لیے نظام وضع کرنے کی ہدایت جاری کی۔   

انہوں نے متعلقہ حکام سے ملک بھر میں بارشوں سے متاثر ہونے والے مواصلاتی ڈھانچے کی بحالی اور نجی املاک کے نقصانات کے بارے میں تفصیلی جائزہ رپورٹ بھی پر طلب کر لی۔  

وزیر اعظم نے این ڈی ایم اے اور دوسرے سرکاری اداروں کو طوفانی بارشوں کے متاثرین کی امداد و بحالی کے لیے جامع منصوبہ مرتب کرنے اور انہیں پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔   

انہوں نے متعلقہ سرکاری حکام کو بارشوں کے متاثرین کے ریسکیو اور امداد میں کوئی کسر نہ چھوڑنے کی سختی سے ہدایت کی۔  


5 مارچ 2 بج کر 13 منٹ

عمران خان کی رہائی کے لیے قرار داد قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع

پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور جیل میں قید ان کی جماعت کے دیگر رہنماؤں کی رہائی کے لیے منگل کو قومی اسمبلی میں قرارداد جمع  کرائی گئی۔

سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، تحریک انصاف کے رہنما عمر ایوب خان اور دیگر کئی اراکین نے قرار داد قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کروائی اور اسے آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کا کہا۔

قرار داد میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ عمران خان کے خلاف مقدمات سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے جو ان کے بقول ’غیر قانونی‘ ہیں۔

قرارداد کے متن کے مطابق ’انتقامی سیاست ملک کے مفاد میں ہے نہ ہی عوام کے مفاد میں۔‘  

قرارداد میں تحریک انصاف کے جیل میں بند جن دیگر قیدیوں کا ذکر کیا گیا ان میں شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد، پرویز الہی اور صنم جاوید شامل ہیں۔


5 مارچ صبح 11 بج کر 15 منٹ

نریندر مودی کی شہباز شریف کو وزیر اعظم بننے پر مبارکباد

انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے شہباز شریف کو منگل کو پاکستان کی وزارت عظمی کا منصب سنھبالنے پر مبارک باد دی ہے۔ 8 فروری 2024 کے عام انتخابات کے بعد مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اتحادی جماعتوں کی حمایت سے ملک وزیراعظم منتخب ہوئے ہیں۔

انڈیا اور پاکستان کے تعلقات کشیدہ رہے ہیں اور جوہری طاقت کے حامل جنوبی ایشیا کے دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان جنگیں بھی ہو چکی ہیں تاہم گاہے گاہے پاکستان کی طرف سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ دنیا کی ایک چوتھائی آبادی والے خطے جنوبی ایشیا کی ترقی کے لیے پڑوسی ممالک کے درمیان پرامن اور اچھے تعلقات ضروری ہیں۔

پاکستان اور انڈیا کے تعلقات میں کشیدگی کی ایک بڑی وجہ مسئلہ کشمیر بھی ہے۔ کشمیر کا ایک حصہ پاکستان جبکہ دوسرا انڈیا کے زیرانتظام ہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کا حل وہاں کی آبادی کی خواہش اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق چاہتا ہے جبکہ انڈیا اسے اپنے ملک کا حصہ تصور کرتا ہے اور اس نے اگست 2019 میں آرٹیکل 370 کے ذریعے اس کا از خود الحاق اپنے ساتھ کر لیا ہے۔

وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد اتوار کو ایوان میں اپنی پہلی تقریر میں شہباز شریف نے ایک بار پھر مسئلہ کشمیر کے حل پر زور دیا تھا۔


5 مارچ صبح 7 بج کر 50 منٹ

مریم نواز کا وزیراعلیٰ منتخب ہونا پاکستانی سیاست میں سنگ میل ہے: امریکہ

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر کا کہنا ہے کہ مریم نواز کا بطور وزیر اعلیٰ انتخاب پاکستانی سیاست میں ایک سنگ میل ہے۔

یہ بیان انہوں نے پیر کو واشنگٹن ڈی سی میں امریکی محکمہ خارجہ کے دفتر میں بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم خواتین کو ملک کی سیاسی زندگی، معیشت میں، بشمول یو ایس-پاکستان ویمنز کونسل، سول سوسائٹی، اور فیصلہ سازی کے دیگر شعبوں میں مزید مکمل طور پر ضم کرنے کے لیے پاکستان کے ساتھ تعاون کرنے کے منتظر ہیں۔‘

میتھیو ملر کے مطابق: ’ایک جامع پاکستان ایک مضبوط، خوشحال ملک بناتا ہے جس سے تمام پاکستانی مستفید ہوتے ہیں اور اسی لیے جب ہم دنیا میں کہیں بھی شیشے کی چھت میں دراڑیں دیکھتے ہیں تو ہم ہمیشہ خوش ہوتے ہیں۔‘

شہباز شریف کے وزیر اعظم بننے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر کا کہنا تھا کہ ’میں نئے وزیر اعظم کے حوالے سے بات نہیں کرنے جا رہا ہوں، لیکن جیسا کہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں، ہم پاکستان کے ساتھ اپنی دیرینہ شراکت داری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ہمیشہ ایک مضبوط، خوشحال اور جمہوری پاکستان کو امریکہ پاکستان کے لیے اہم سمجھتے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ نئے وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کی حکومت کے ساتھ ہماری مصروفیت ان مشترکہ مفادات کو آگے بڑھانے پر توجہ مرکوز رکھے گی۔‘


5 مارچ صبح 6 بج کر 55 منٹ

نقصان میں جانے والے حکومتی ملکیتی اداروں کی نجکاری کریں گے: شہباز شریف

وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف کا کہنا ہے کہ نقصان میں جانے والے حکومتی ملکیتی اداروں کی نجکاری کی جایے گی تاکہ وہ ملک کے وسائل پر بوجھ نہ بنیں۔

یہ بیان انہوں نے پیر کو اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے چند ہی گھنٹوں بعد ملکی معیشت کی بحالی کے حوالے سے ایک طویل اعلی سطح کے اجلاس کی صدارت کے دوران دیا۔

اجلاس میں وزیر اعظم کو سیکریٹری خزانہ کی طرف سے ملکی معاشی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

وزیراعظم نے معاشی صورتحال کی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر لائحہ عمل تیار کرنے کہ ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں ملک کی معیشت کو بہتر کرنے کا مینڈیٹ ملا ہے اور یہی  ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ہماری حکومت ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ اور کاروباری برادری کو سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے بھرپور طریقے سے کام کرے گی۔‘

اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے 65 ارب روپوں کے ٹیکس ریفنڈز کلیئر کر دیے ہیں۔

وزیر اعظم نے  ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلیٹی کے حوالے سے آئی ایم ایف سے بات چیت کو فوری طور پر آگے بڑھانے کی ہدایت کی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ’ایسے ٹیکس پیئرز جو کہ ملکی برآمدات میں اضافے اور ملکی معیشت میں ویلیو ایڈیشن کے لیے کام کر رہے ہیں وہ ہمارے سروں کا تاج ہیں ہم انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں، ایسے ٹیکس پیئرز کی حکومتی سطح پر پذیرائی کی جائے گی۔‘

وزیراعظم نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں شفافیت لانے کے لیے آٹومیشن نا گزیر ہے۔

انہوں نے ایف بی آر اور دیگر اداروں کی آٹومیشن پر فی الفور کام شروع کرنے کی بھی ہدایت کی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نقصان میں جانے والے حکومتی ملکیتی اداروں کی نجکاری کی جائیگی تاکہ یہ ادارے ملکی معیشت پر مزید بوجھ نہ بنیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے حکومتی بورڈز کے ممبران کی مراعات میں کمی کے لیے واضح حکمت عملی ترتیب دینے کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی۔

وزیر اعظم نے پاور اور گیس سیکٹرز کی سمارٹ میٹرنگ پر منتقلی کے لیے لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت کی جس کی بدولت  اسمارٹ میٹرنگ سے لائین لاسز کم کرنے مدد ملے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ تمام بینکس اور مالیاتی ادارے درمیانے اور چھوٹے درجے کے کاروبار کے فروغ کے لیے حکمت عملی تیار کریں تاکہ ملک کے نوجوانوں کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے میں مدد مل سکے۔

میاں محمد شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’حکومتی حجم کم کیا جائے گا اور ایسے ادارے جن کی ضرورت نہیں انہیں یا تو ضم کر دیا جائے یا پھر بند کر دیا جائے، اس حوالے سے حکمت عملی بنائی جائے۔‘

انہوں نے کہا کہ سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل ملک میں معاشی  استحکام کے حوالے سے ایک انتہائی اہم قدم ہے جس کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اگلا اجلاس فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے حوالے سے منعقد کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں گے، کاروباری برادری، سرمایہ کاروں اور نوجوانوں کو سہولیات فراہم کرنے کی یقین دہانی کراتے ہیں۔

اجلاس میں سینیٹر مصدق ملک، ارکان قومی اسمبلی عطا تارڑ، شزا فاطمہ، رومینہ خورشید، احد چیمہ، جہانزیب خان اور دیگر اہم عہدیداران نے شرکت کی۔


4 مارچ شام 5 بج کر 40 منٹ

سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں: الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پیر کو جاری فیصلے میں کہا ہے کہ سنی اتحاد کونسل خواتین اور مخصوص نشستوں کے کوٹے کا حقدار نہیں ہے۔

اپنے فیصلے میں الیکشن کمیشن نے وجوہات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ سنی اتحاد کونسل کی درخواست میں قانونی سقم ہیں جن کا کوئی حل موجود نہیں اور قانون کے مطابق جماعت نے مخصوص نشستوں کے لیے ضروری فہرستیں بھی مقرر کردہ وقت میں فراہم نہیں کی تھیں۔

فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی کی نشستیں خالی نہیں رہیں گی بلکہ سیاسی جماعتوں کو ان کی جیتی گئی سیٹوں کے تناسب سے دی جائیں گے۔ الیکشن کمیشن دفتر کو اس حوالے سے کوٹے کے تعین کا حکم دیا گیا ہے۔

مخصوص نشستوں کے حوالے سے کیس کی کارروائی چیئرمین سکندر سلطان راجہ اور چار دیگر اراکین (نثار احمد درانی، شاہ محمد جتوئی، بابر حسن بھروانہ اور جسٹس (ر) اکرام اللہ خان) نے سنی۔ تاہم بابر حسن بھروانہ نے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے اختلافی نوٹ لکھا۔

دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر علی ظفر نے سینیٹ میں بات کرتے ہوئے مخصوص نشستوں کو مسترد کیے جانے کے بعد صدر اور سینیٹ کے الیکشن نہیں ہو سکتے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں اور اسے چیلنج بھی کریں گے۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان