ملند سومن سے 26 برس چھوٹی ان کی بیوی انہیں ’پاپا جی‘ بھی کہتی ہیں

ٹی وی پر دکھائے گئے ایک ٹوتھ پیسٹ کے اشتہار میں ملند سومن جب سوشل میڈیا پر تبصرے پڑھ رہے تھے تو ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ کیا انکیتا کو انہیں ’پاپا جی‘ کہنا چاہیے؟ جس پر انہوں نے جواب دیا: ’وہ کبھی کبھی ایسا کہتی ہیں۔‘

ملند سمن اور  انکیتا کنور (سوشل میڈیا)

بھارتی ماڈل ملند سومن نے جب یہ انکشاف کیا کہ ان کی جواں سال اہلیہ انکیتا کنور انہیں کبھی کبھار ’پاپا جی‘ کہہ کر پکارتی ہیں، تب سے سوشل میڈیا پر ایک بھونچال سا آ گیا ہے۔ ٹوئٹر صارفین طرح طرح کے تبصرے کر رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق ملند، انکیتا سے 26 سال بڑے ہیں اور عمر کا یہ فرق اتنا ہے جتنا خود ملند سومن اور ان کی والدہ کی عمر کے درمیان ہے۔

ویسے تو اس مشہور سلیبرٹی جوڑے کو ان کی عمروں میں وسیع فرق کے باعث اکثر آن لائن تمسخر کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن سابقہ ماڈل کی جانب سے حالیہ تبصرے نے ان کے اپنی اہلیہ سے تعلقات کے اس خاص پہلو پر سب کی توجہ حاصل کر لی۔

ملند کے اس جواب پر سوشل میڈیا سے ملا جلا رد عمل سامنے آیا۔

باشوسوبیدی نامی ایک صارف نے لکھا: ’اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔ انہوں نے ایسا کہہ کر بہادری کا مظاہرہ کیا ہے، عمر تو صرف ایک ہندسہ ہے۔‘

ماوی میمری ہینڈل سے کی گئی ٹویٹ میں کہا گیا: ’مجھے امید ہے کہ ملند سومن ایسی باتیں کہتے رہیں گے تاکہ میری ان کے لیے پسندیدگی میں ہر گزرتے دن کمی آتی رہے۔ اور ایک دن میں یہ بھول جاؤں کہ وہ کتنے پرکشش ہیں۔‘

ایک اور صارف نے بڑی عمر کے بالی وڈ اداکار سلمان خان کا ملند سے تقابل کرتے ہوئے لکھا: ’سلمان خان یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ میں کروں تو سالا کریکٹر ڈھیلا ہے۔‘

راہول گپتا نے لکھا: ’پھر پاپا شوہر کیسے ہوا، یہ کیا لوچا ہے بھائی؟

اومیش دتا نے ملند کی حمایت کرتے ہوئے لکھا: ’کیا سچی محبت کو عمر میں خلیج سے کوئی فرق پڑتا ہے؟ بے عیب محبت دو دلوں کو اکٹھا کرتی ہے۔ میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی؟‘

اشتہار کے آخر میں ملند کا کہنا تھا: ’روایتی طور پر ہمارے معاشرے نے لوگوں کے لیے محبت  کرنے میں رکاوٹیں پیدا کی ہیں۔ پیار کرنے والوں کو ایک ساتھ رہنا چاہیے۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہیں اکٹھا ہونا چاہیے۔  محبت نسل، مذہب، ملک، صنف اور عمر کی غلام نہیں ہے۔ میرے خیال میں ہر ایک کو آزادانہ انتخاب کا حق ہونا چاہیے کہ وہ کس سے محبت کرتے ہیں اور یہ صرف ان احساسات پر مبنی ہونا چاہیے جو ان کے دل میں ہیں اس کا معاشرے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل