انسانی تاریخ میں پرکشش خواتین صحت مند تھیں یا دبلی پتلی؟

پرانے زمانے میں جو کچھ بیماری کی علامت سمجھا جاتا تھا، آج فیشن میں ہے۔ چاہے وہ ٹوینٹی ایٹ کی کمر ہو، نکلی ہوئی کندھے کی ہڈیاں، گنی جانے والی پسلیاں ہوں یا سوکھی چمرخ ٹانگیں۔

صوفیہ لورین ہوں، آندرے ہپبرن، سلمی ہائیک، مادھوری، مدھو بالا ہوں یا اب سے 20 سال پہلے تک پائی جانے والی کوئی بھی فلمی ہیروئین کی مثال لے لیجیے، سب کا جسم آج کل والے سائز زیرو کے حساب کتاب میں کہیں فٹ نہیں بیٹھتا تھا۔ اس کی بہت عمدہ مثال کرینہ کپور ہیں جنہوں نے چند برس پہلے فاقہ مستی کے وہ عالمی ریکارڈ قائم کیے کہ نظر آنا ہی ختم ہو گئیں۔ 

فلمی اداکاراؤں کی مثال اس لیے دی چونکہ زندگی میں عام انسان عموما انہیں ہی دیکھ کر حسن کے معیارات قائم کرتا ہے اور یہیں سے عورتوں کو متناسب جسم نہ ہونے کے طعنے دیے جاتے ہیں۔ دبلے پن بلکہ بھوکے مرنے کا یہ سلسلہ کیا زمانہ قدیم سے عورت کے مقدر میں لکھا تھا یا یہ سب کچھ آج کل کا مسئلہ ہے، آئیے ایک نظر ڈالتے ہیں۔ 

دنیا کی قدیم ترین تصویریں یا تو التامیرا کے غاروں کے اندر بنائی گئی تھیں۔ ان تصویروں سے اس زمانے کی عورتوں کی خوبصورتی کے معیار کا اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد اگر اب سے تقریباً 25 ہزار سال پہلے کی بات کریں تو وینس فگرائین نامی مجسمے تبھی سے تعلق رکھتے ہیں۔

ان میں سے زیادہ تر یورپ سے دریافت ہوئے۔ اگر وینس فگرائین کو دیکھا جائے تو اس زمانے کی عورت کا جسم اب کی خواتین سے بالکل برعکس تھا۔ وہ ناشپاتی کی شکل کا تھا۔ وہ ایک ایسی خاتون کا جسم تھا جس نے بچے بھی پیدا کرنے ہیں، انہیں پالنا بھی ہے اور اس زمانے کے حساب سے دوسری ڈیوٹیاں بھی دینی ہیں۔ 

اس کے علاوہ ہمارے پاس ایک اہم سورس زمانہ قدیم سے آج تک بنی مختلف مذہبی تصاویر اور مجسموں کا ہے۔ ہر مذہب کے لوگ جب اپنی مقدس ہستیوں کی تصویر بناتے ہیں یا ان کے مجسمے تیار کرتے ہیں تو اپنے زمانے کے حساب سے انہیں خوبصورت ترین اور عمدہ جسم کا مالک دکھاتے ہیں۔ افریقہ میں پائی جانے والی انکا تہذیب ہو، ریڈ انڈینز ہوں، مصری ہوں، بدھ مذہب والے ہوں یا ہندو، سب کے یہاں آپ کو اس زمانے کی تصاویر میں دیوی کا روپ ایک اچھے کھاتے پیتے جسم والی خاتون کا دکھائی دے گا۔

کوئی بھی دیوی آپ کو ایسی نظر نہیں آئے گی جس کا پیٹ بھوک سے اندر گیا ہوا ہو اور پسلیاں گنی جا سکیں۔ ایسا یوں تھا کہ اس زمانے میں عورت ایک نارمل انسان تھی، اسے بیوٹی انڈسٹری کے تقاضے نہیں نبھانے ہوتے تھے۔

تصویروں کی بات کریں تو ویسٹرن آرٹ کا سارا کلاسیک دور بھرے جسم کی مالک خواتین پر مشتمل ہے۔ برتھ آف وینس، لا ماجا، ریکلائننگ نیوڈ، وینس آف اربینو، بینیفٹس سپروائزر، بیتھشیبا ایٹ باتھ یا چودھویں پندرھویں صدی سے لے ساٹھ ستر سال پہلے تک کی کوئی بھی مغربی تصویر دیکھ لیں، سب میں نسوانی حسن کا معیار وہی ہے جو ہمارے گاؤں دیہات کی عام خواتین میں پایا جاتا ہے۔ 

عربوں کی پرانی شاعری پڑھ لیں، ایران میں لکھی داستانوں کے ساتھ بنے منی ایچر دیکھ لیں، ہندومائتھالوجی کی بات کریں، چینی تصویریں دیکھیے، وہاں بھی خواتین ایک مکمل روپ میں نظر آئیں گی۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان میں چغتائی آرٹ بڑا مشہور ہوا، عبدالرحمن چغتائی کی تصویروں میں خواتین کیسی تھیں؟ وہ بھی عین ویسی تھیں جیسے ان سے کئی ہزار سال پہلے اجنتا، ایلورا اور کھجوراہو کے غاروں میں پائی جاتی تھیں۔ تو یہ تبدیلی کب آئی؟ 

یہ دور جدید کی پیداوار ہے۔ 1890 کے بعد اس کی ایک جھلک نظر آنا شروع ہوتی ہے جب ایک امریکی ڈیزائنر چارلس ڈانا گبسن نے کچھ تصویریں ایسی بنائیں جو اس دور کی ماڈرن امریکی نسل میں پسندیدہ ترین بن گئیں۔ یہ ایسی خواتین کے سکیچز تھے جن کے جسم میں کمر نہ ہونے کے برابر تھی اور باقی سب کچھ عام سے دوگنا تھا۔ یوں سمجھیے جیسے پرانے زمانے کی ریت والی گھڑی ہوتی تھی بس وہی معیار انہوں نے عورتوں کے لیے قائم کر دیا۔ اس طرح کی ماڈلز یا ویسے جسم والی لڑکیاں گبسن گرلز کہلاتی تھیں اور یہ قابل فخر بات تھی۔ 

یہ رجحان جب تک فیشن انڈسٹری میں رہا تب تک ٹھیک تھا۔ خواتین کی محدود تعداد اس سے متاثر ہوتی تھی۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد جب دنیا بھر میں تعمیر نو کا سلسلہ چلا تو اسی زمانے میں فیشن انڈسٹری نے بھی کروٹ لی۔ اس زمانے کے جنگی پروپیگنڈے سے اشتہار بازوں نے یہ سیکھا کہ وہ چیز جو ایک عام خریدار کو بالکل نہیں چاہیے، وہ اسے کیسے بیچی جا سکتی ہے۔ اس کے بعد چل سو چل۔ کیا رنگ گورا کرنے کی کریم، کیا دبلا ہونے کی دوائیں، کیا نسوانی حسن کے لوشن اور کیا گنجے پن کے علاج، سب کچھ بکنے لگا، سب کچھ چلنے لگا۔

اس اندھی اشتہار بازی کا ایک غلط نتیجہ یہ نکلا کہ عام انسان بھی اسی کی بھینٹ چڑھ گیا۔ ڈائٹنگ کے نام پر لڑکیوں نے کھانا کھانا چھوڑ دیا، فگر کے نام پہ ماؤں نے بچوں کا دودھ چھڑوا دیا، فیشن ماڈلز پہ تو ایسا کڑا وقت آیا کہ انہوں نے چرس پینی اور روئی کھانی شروع کر دی کہ روئی سے پیٹ بھرا رہے اور نشے سے وزن جلدی کم ہو۔ 

تو کل ملا نتیجہ یہ ہے کہ پرانے زمانے میں جو کچھ بیماری کی علامت سمجھا جاتا تھا جو آج فیشن میں ہے۔ چاہے وہ ٹوینٹی ایٹ کی کمر ہو، نکلی ہوئی کندھے کی ہڈیاں، گنی جانے والی پسلیاں ہوں یا سوکھی چمرخ ٹانگیں۔ 

جان ہے تو جہان ہے بھائی۔ حد سے زیادہ موٹاپا بے شک بیماری ہے لیکن ایک نارمل صحت مند جسم قدرت کا انعام ہے۔ اسے دوسروں کی باتوں میں آ کر پریشان مت کریں۔ کھائیں پئیں، آدھے گھنٹے واک کر لیں، گھر کے تھوڑے بہت کام کر لیں، مولا رنگ لگائے گا! 

زیادہ پڑھی جانے والی میگزین