کشمیر میں انٹرنیٹ بند: دلہنیں شادی کے جوڑوں کی منتظر

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں اگست سے انٹرنیٹ کی بندش سے کاروباری حلقہ پریشان ہے اور بھاری نقصان کا سامنا کر رہا ہے۔

نئی دہلی کی مرکزی انتظامیہ کی جانب سے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے اور وادی میں کرفیو اور انٹرنیٹ سروس کی بندش سے آن لائن کاروبار اور ای کامرس سے منسلک افراد کو گذشتہ دو ماہ سے بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ابتدائی اندازوں کے مطابق بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں آن لائن کاروبار کرنے والوں کو روزانہ 50 لاکھ کا نقصان ہو رہا ہے۔

آن لائن کاروبار کرنے والے ظہور احمد نے بتایا: ’کشمیر میں تمام ای کامرس بزنس کا دارومدار انٹرنیٹ اور موبائل فون پر ہے۔ وادی کی حالیہ صورت حال کے باعث کاروبار پر شدید اثر پڑا ہے اور فروخت صفر ہوگئی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ 5 اگست کے بعد سے کوریئر سروس بھی بند ہے، جس کی وجہ سے ای کامرس کا شعبہ مزید متاثر ہو رہا ہے۔

ظہور کے مطابق: ’ہمارے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے کہ انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا انتظار کریں۔‘

مقامی نوجوانوں اور ذاتی کاروبار کرنے والوں کی جانب سے بنائے گئے آن لائن شاپنگ پورٹل بھی انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک بڑے کوریئر آپریٹر کے مطابق ان کے ساتھ دو ہزار سے زائد نوجوان منسلک ہیں جو اپنے صارفین تک اشیا پہنچانے کے لیے ان کی ڈیلیوری سروس استعمال کرتے ہیں۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’لیکن چونکہ کشمیر میں موبائل فون اور انٹرنیٹ بند ہے تو کاروبار مکمل طور پر مندی کا شکار ہے۔‘

موبائل انٹرنیٹ سروس کو بھارتی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 کے خاتمے سے ایک دن پہلے ہی بند کردیا گیا تھا، تاکہ اس فیصلے کے بعد آنے والے عوامی ردعمل کو دبایا جاسکے۔

آن لائن کاروبار کرنے والی صائمہ اشرف نے انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ ان کا کاروبار پھل پھول رہا تھا اور انہوں نے گذشتہ دو برس کے دوران سوشل میڈیا کے ذریعے اچھے خاصے گاہک بنا لیے تھے، تاہم گذشتہ دو ماہ سے انٹرنیٹ بند ہونے کی وجہ سے ان کی ساری محنت ضائع ہوگئی ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’میرا کاروبار مکمل طور پر ختم ہوچکا ہے۔‘

عید کے سیزن میں وہ اچھا خاصا کاروبار کرتی ہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس بقرعید پر وہ انٹرنیٹ کی بندش اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے کچھ بھی فروخت نہیں کرسکیں۔

صائمہ اشرف ’سٹائل چیمبر کشمیر‘ کے نام سے ایک آن لائن کپڑوں کا سٹور چلاتی ہیں، جس کے انسٹاگرام پر 17 ہزار سے زائد فالورز ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ عید پر انہیں 50 ہزار بھارتی روپوں سے زیادہ کا منافع ہوتا ہے، لیکن اس سال بالکل بھی فروخت نہیں ہوئی۔

صائمہ کے مطابق: ’میں نے سرکاری ملازمت پر کاروبار کو ترجیح دی اور اس میں اپنا سرمایہ اور توانائی لگائی لیکن بدقسمتی سے صورت حال نے ایک خراب موڑ لیا اور اپنے کاروبار پر کئی سال لگانے کے بعد ہم اسی جگہ پر آکھڑے ہوئے ہیں جہاں سے ہم نے شروع کیا تھا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی