آرٹیکل 370 کا خاتمہ: بھارت کو جوابدہی کے لیے 4 ہفتوں کی مہلت

بھارتیہ جنتا پارٹی کی سربراہی میں بھارتی حکومت نے پانچ اگست کو اپنے زیرانتظام کشمیر کی نیم خودمختار حیثیت ختم کر دی تھی اور ممکنہ جھڑپوں سے بچنے کے لیے وادی میں مکمل سکیورٹی لاک ڈاؤن اور مواصلاتی پابندیاں نافذ کر دی تھیں۔

کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی فیصلے پر خطے میں غم و غصہ پاتا جاتا ہے، جہاں اب پولیس اور مقامی انتظامیہ وفاقی کنٹرول میں ہیں اور کشمیریوں کو خدشہ ہے کہ ان کی ثقافت اور آبادی کی شناخت کو خطرہ ہے۔ (اے ایف پی)

 

بھارتی سپریم کورٹ نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی خود مختار حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 کے خاتمے کے خلاف درخواست پر بھارتی حکومت سے چار ہفتوں میں جواب طلب کرلیا۔

قبل ازیں آرٹیکل 370 کے خاتمے اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دینے کے خلاف درخواستوں کی ابتدائی سماعت کے دوران بھارتی حکومت نے موقف اختیار کیا تھا کہ کورٹ میں بذریعہ نوٹس اپنے فیصلے کی وضاحت جمع کروانے پر پاکستان اقوام متحدہ میں اسے زیر بحث بھارتی فیصلے کے خلاف استعمال کر سکتا ہے۔ تاہم بھارتی حکومت کے اس موقف کو بھارتی چیف جسٹس رانجن گوگوئی اور ان کے دو ساتھیوں نے رد کر دیا۔

نیز بھارتی سپریم کورٹ نے وفاق کو حکم جاری کیا تھا کہ وہ اس معاملے پر کورٹ میں دائر 14 پیٹیشنز کے حوالے سے اپنے جواب جمع کروائے اور بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں جاری میڈیا پر پابندیوں سمیت انسانی حقوق کی پامالی کے واقعات پر وضاحت پیش کرے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بھارتی ویب سائٹس  کے مطابق سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ نے آرٹیکل 370 کے خاتمے پر آئینی جواز کو چیلنج کرنے والی کسی نئی درخواست کو دائر کرنے پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔

عدالت میں دائر کی جانے والی ان درخواستوں میں مقبوضہ وادی میں مواصلاتی نظام کے معطل ہونے، بچوں کی غیر قانونی حراست اور پابندیوں سے صحت عامہ پر پڑنے والے اثرات کو چیلنج کیا گیا۔

بھارتی اخبار دی ہندو کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے درخواست گزار کی اس استدعا کو مسترد کردیا کہ جواب کے لیے دو ہفتوں سے زائد کا وقت نہ دیا جائے۔

تاہم ایک اور ویب سائٹ  کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ کے سینئر وکیل راجو راما چندرن نے یہ نکتہ اٹھایا کہ پانچ اگست کو بھارتی پارلیمنٹ کی جانب سے منظور کی گئی بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی تقسیم 31 اکتوبر سے نافذ العمل ہو گی۔ نیز انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’یہ عمل ناقابل واپسی ہوگا اور درخواستوں کو بے بنیاد نہیں قرار دینا چاہیے۔‘

بھارتی حکومت کے خلاف عدالت میں دائر ان درخواستوں میں سے 3 درخواستیں ایڈووکیٹس ایم ایل شرما، شاکر شبیر اور صہیب قریشی نے دائر کی ہوئی ہیں۔ ان میں سے ایم ایل شرما پہلے درخواست گزار تھے جنہوں نے صدارتی حکم نامے کے ذریعے آرٹیکل 370 کے خاتمے کو چیلنج کیا تھا۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی سربراہی میں بھارتی حکومت نے پانچ اگست کو اپنے زیرانتظام کشمیر کی نیم خودمختار حیثیت ختم کر دی تھی اور ممکنہ جھڑپوں سے بچنے کے لیے وادی میں مکمل سکیورٹی لاک ڈاؤن اور مواصلاتی پابندیاں نافذ کر دی تھیں۔

کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی فیصلے پر خطے میں غم و غصہ پاتا جاتا ہے، جہاں اب پولیس اور مقامی انتظامیہ وفاقی کنٹرول میں ہیں اور کشمیریوں کو خدشہ ہے کہ ان کی ثقافت اور آبادی کی شناخت کو خطرہ ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا