آدم خور انسانوں پر بنی پاکستانی فلم ’دُرج‘ کو نمائش کی اجازت نہ مل سکی

ذرائع کے مطابق فلم ’دُرج‘ میں قبروں سے مردے نکال کر انہیں کھائے جانے کے عمل نے سینسر بورڈ کے اراکین کو کافی برانگیختہ کردیا۔

شمعون عباسی کی فلم ’دُرج‘ 18 اکتوبر کو پاکستان میں نمائش کے لیے پیش کی جانی تھی، جبکہ اسے 11 اکتوبر کو دنیا بھر میں نمائش کے لیے پیش کیا جا رہا ہے (بشکریہ فیس بک)

پاکستان کے مرکزی اور صوبائی فلم سینسر بورڈز نے مشترکہ طور پر پاکستانی فلم ’دُرج‘ کو سینسر سرٹیفیکیٹ جاری کرنے سے انکار کردیا ہے جس کے بعد اس فلم کی پاکستان میں نمائش کے امکانات تقریباًختم ہوگئے ہیں۔

پاکستان کے مرکزی فلم سینسر بورڈ کےچیئرمین دانیال گیلانی نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا: ’اس فلم کو سینسر بورڈ کے اراکین نے مروجہ قوانین کی روشنی میں دیکھا اور متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ یہ فلم عوامی نمائش کے لیے کسی طور موزوں نہیں ہے۔‘

تاہم ان کا مزید کہنا تھا: ’ہم کسی فلم پر پابندی نہیں لگاسکتے کیونکہ یہ ہمارے  دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔‘

 دانیال گیلانی کے مطابق وہ صرف سینسر سرٹیفیکیٹ جاری کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔

پاکستان میں تین فلم سینسر بورڈز ہیں، سندھ اور پنجاب کے اپنے اپنے سینسر بورڈز ہیں جبکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا مرکزی بورڈ کی ہدایات پر عمل کرتے ہیں۔ یہ فلم تینوں میں سے کسی بھی سینسر بورڈ کی جانب سے نمائش کے لیے منظوری حاصل نہیں کرسکی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یاد رہے کہ پاکستانی فلم ’دُرج‘ دراصل آدم خور انسانوں کی کہانی پرمبنی ہے اور اس میں مبینہ طور پر چند افراد کو آدم خوری میں مبتلا دکھایا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق فلم ’دُرج‘ میں قبروں سے مردے نکال کر انہیں کھائے جانے کے عمل نے سینسر بورڈ کے اراکین کو کافی برانگیختہ کردیا۔ سینسر بورڈ کے کئی اراکین نے اس عمل پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ’ اس طرح کی فلمیں پاکستان کے عالمی امیج کو سخت خراب کرتی ہیں اور اس فلم سے یہ گمان ہوتا ہے جیسے یہ معاملہ پاکستان میں بہت عام ہے کہ لوگ قبر سے مردے نکال کر کھاتے ہیں۔‘

ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ سینسر بورڈ میں موجود سکیورٹی اداروں کے نمائندوں کی جانب سے اس فلم پر سب سے زیادہ اعتراض اٹھایا گیا تھا۔

سینسر بورڈ کی جانب سے فلم کو سرٹیفیکیٹ نہ دینے کے فیصلے کے بعد فوری طور پر پاکستان بھر کے سینماؤں میں اس فلم کے ٹریلر کی نمائش روک دی گئی ہے جبکہ فلم کے پوسٹرز بھی اتاردیے گئے ہیں۔

اس ضمن میں سینئر صحافی کامران جاوید کا کہنا تھا کہ پاکستانی موشن پکچر آرڈینینس 1979 کے تحت پاکستان میں صرف تین صورتوں میں فلم کی نمائش روکی جاسکتی ہے۔ اول یہ کہ فلم میں ریاست پاکستان کے خلاف بات کی گئی ہو، دوئم یہ کہ پاکستان کی مسلح افواج کے خلاف بات کی گئی ہو اور تیسرایہ کہ کسی مذہبی یا لسانی اقلیت کے خلاف کچھ دکھایا گیا ہو۔ اس لیے ذرائع کے مطابق جو اعتراض سامنے آیا ہے وہ سمجھ سے بالآ تر ہے۔

فلم میں اہم کردار ادا کرنے والی اداکارہ مائرہ خان نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس فیصلے پر بہت افسوس ہوا ہے کیونکہ وہ اس فلم سے بہت پرامید تھیں۔ یہ ایک مختلف موضوع پر بنائی گئی فلم تھی اور اسے عوام تک پہنچنا چاہیے تھا۔  

شمعون عباسی کی فلم ’دُرج‘ 18 اکتوبر کو پاکستان میں نمائش کے لیے پیش کی جانی تھی، جبکہ اسے 11 اکتوبر کو دنیا بھر میں نمائش کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔

کچھ عرصہ قبل شمعون عباسی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اس فلم کی تکمیل میں بہت سے رکاوٹیں آئی تھیں اور بہت سے اداکاروں نے اس فلم میں کام کرنے کے دوران ہی اسے چھوڑ دیا تھا کیونکہ شمعون عباسی کے مطابق ان میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ پہاڑی علاقوں کے سخت حالات میں اس فلم کی عکس بندی کرسکیں جب کہ کچھ لوگوں کو اس فلم کی تکمیل پر یقین نہیں تھا۔

پاکستانی فلم’ دُرج‘ کی ہدایات دینے کے ساتھ اس کی کہانی بھی شمعون عباسی نے خود ہی لکھی ہے۔

اس فلم کے مرکزی کرداروں میں خود شمعون عباسی کے علاوہ مائرہ خان، شیری شاہ، نعمان جاوید اور حفیظ علی بھی شامل ہیں۔

شمعون عباسی کے مطابق انہوں نے اور ان کی پروڈکشن ٹیم نے فلم کو حقیقی رنگ دینے کے لیے کئی ماہ تحقیق کی اور کافی وقت دنیا سے الگ تھلگ غاروں میں رہنے والے انسانوں کے ساتھ گزارا تاکہ ان کے طرز زندگی کو صحیح روپ میں دکھا سکیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی فلم