غزہ میں جھڑپوں کے دوران دو اسرائیلی فوجی ہلاک، چار لاپتہ: عبرانی میڈیا

اسرائیلی میڈیا نے بتایا کہ ’حماس نے اندھیرے میں دیکھنے کے قابل بنانے والے آلات سے اسرائیلی فوجیوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی اور گھات لگا کر حملہ کیا جس کے بعد شدید جھڑپیں شروع ہو گئیں۔‘

8 جولائی 2025 کو اسرائیلی فوج کے سپاہی ایک فوجی مشق کے دوران ایک ساتھی کو سٹریچر پر لے جا رہے ہیں )اے ایف پی)

اسرائیلی میڈیا نے ہفتے کو رپورٹ کیا ہے کہ غزہ میں فلسطینی تنظیم حماس کے ساتھ ہونے والی تین جھڑپوں میں کم از کم دو اسرائیلی فوجی مارے گئے، 13 زخمی ہوئے جبکہ چار لاپتہ ہیں، جن کی تلاش جاری ہے۔

القدس نیوز نیٹ ورک کا کہنا ہے کہ اسرائیلی میڈیا کے مطابق مختصر وقت میں کئی ’سنگین سکیورٹی واقعات‘ پیش آئے۔ ان میں سے ایک واقعہ غزہ شہر کے مشرق میں الزيتون کے علاقے میں پیش آیا اور رات گئے تک صورت حال برقرار رہی۔

اردن کے خبر رساں ادارے رویا نیوز نے کہا ہے کہ اسرائیلی میڈیا نے اس حملے کو سات اکتوبر 2023 کے حملے بعد سب سے زیادہ تشویس ناک قرار دیا ہے۔

اسرائیلی اطلاعات میں تصدیق کی گئی کہ کم از کم دو فوجی مارے گئے اور 13 دوسری فلسطینی مزاحمتی کارروائیوں میں زخمی ہوئے۔ بتایا گیا کہ حماس نے اندھیرے میں دیکھنے کے قابل بنانے والے آلات سے اسرائیلی فوجیوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جس کے بعد شدید جھڑپیں شروع ہو گئیں۔

اسرائیلی میڈیا نے کہا کہ القسام بریگیڈ کے عسکریت پسندوں نے الزيتون میں اسرائیلی فوج کے خلاف سخت کارروائی کی۔ انہوں نے گھات لگا کر حملے کی تیاری کی اور قلعہ بند پوزیشنوں کو نشانہ بنانے کے لیے بڑی تعداد میں جنگجو تعینات کیے۔

اسرائیلی فوج کے ہیلی کاپٹروں نے شدید فائرنگ کی اور اس دوران فوجیوں کو نکالنے کے لیے کارروائی کی۔ اسرائیلی رپورٹس کے مطابق انخلا کے لیے بھیجے گئے چھ ہیلی کاپٹر الزيتون میں شدید فائرنگ کی زد میں آگئے۔ پہلے ’سنگین واقعے‘ کی اطلاع ملنے کے چند منٹ بعد مزید دو واقعات پیش آئے جن میں مزید فوجی زخمی ہوئے۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ ایک اسرائیلی ریسکیو یونٹ ابتدائی لڑائی کی جگہ سے فوجیوں کو نکالنے کی کوشش کرتے ہوئے گھات لگا کر کیے گئے حملے شکار ہو گیا۔

اسرائیلی میڈیا نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ فوج نے ’ہنی بال پروٹوکول‘ فعال کر دیا، جو اس وقت نافذ کیا جاتا ہے جب خدشہ ہو کہ فوجی پکڑے جا سکتے ہیں، اور اس میں طاقت کے جان لیوا استعمال کی اجازت ہوتی ہے خواہ اس سے اپنے ہی فوجی کیوں نہ مارے جائیں۔

غزہ ’جنگی علاقہ‘ قرار

اسرائیل نے غزہ کے سب سے بڑے شہر کو جنگی علاقہ قرار دے دیا ہے اور جمعے کے روز دو یرغمالیوں کی باقیات برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جب کہ عالمی سطح پر اس تازہ کارروائی کی مذمت کی جا رہی ہے۔

فوج کے لڑائی دوبارہ شروع کرنے کے اعلان کے ساتھ ہی غزہ کی وزارت صحت نے بتایا کہ اموات کی تعداد 63 ہزار 25 تک پہنچ چکی ہے۔ صرف گذشتہ 24 گھنٹوں میں ہسپتالوں نے 59 اموات کی اطلاع دی۔ وزارت کے مطابق جنگ کے دوبارہ آغاز سے اب تک غذائی قلت کے باعث 322 اموات ہو چکی ہیں جن میں 121 بچے شامل ہیں۔

امدادی تنظیموں اور ایک مقامی چرچ نے، جو متاثرین کو پناہ دے رہا ہے، کہا ہے کہ وہ غزہ شہر میں ہی موجود رہیں گے اور بھوکے اور بے گھر افراد کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ پیش رفت ان منصوبوں کے بعد سامنے آئی ہے جو اسرائیل نے چند ہفتے قبل شہر میں کارروائی کو وسیع کرنے کے لیے تیار کیے تھے۔ حالیہ دنوں میں اسرائیلی فوج نے شہر کے نواحی علاقوں میں حملے تیز کیے ہیں۔ جمعے کی صبح جنوبی اسرائیل کی سرحد کے پار دھوئیں کے بادل اور زوردار دھماکے دیکھے اور سنے گئے۔

وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو حماس کی صلاحیتوں کو مفلوج کرنا ہوگا تاکہ سات اکتوبر 2023 جیسے حملے دوبارہ نہ ہو سکیں۔ تاہم اقوام متحدہ اور بین الاقوامی امدادی ادارے اسرائیل کی تازہ کارروائی کو انسانی بحران میں مزید اضافے کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔

اگرچہ اقوام متحدہ کی ایجنسیاں اور امدادی تنظیمیں اسرائیل کی تازہ کارروائی کی مذمت کر رہی ہیں، لیکن غزہ شہر کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سے زیادہ فرق نہیں پڑا۔

غزہ شہر سے بھیجے گئے ایک پیغام میں علاقے کے رہائشی محمد ابوالہادی نے کہا کہ ’قتل عام کبھی نہیں رکا یہاں تک کہ انسانی ہمدردی کے وقفوں کے دوران بھی۔‘

غزہ کے رہائشی محمد ابو الہادی نے بتایا: ’قتل عام کبھی نہیں رکا، یہاں تک کہ انسانی ہمدردی کے وقفوں کے دوران بھی۔‘

بہت سے شہری اپنی رہائش گاہیں ایک سے زیادہ مرتبہ چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ کچھ نے جمعے کو وسطی غزہ کے نصیرات کیمپ کے قریب خیمے نصب کیے اور بدترین حالات کا ذکر کیا جنہیں وہ سہتے رہے ہیں۔ محمد معروف نے کہا: ’ہمیں سڑکوں پر پھینک دیا گیا ہے، جیسے کتوں کی طرح۔ لیکن ہم کتے نہیں، کتے ہم سے بہتر ہیں۔‘

غزہ کی وزارت صحت نے جمعے کو کہا کہ جنگ کے آغاز سے اب تک 63 ہزار سے زیادہ فلسطینی جان سے جا چکے ہیں۔ جنگجو اور عام شہریوں میں فرق نہیں کیا گیا۔ وزارت نے یہ بھی کہا کہ گذشتہ 24 گھنٹے میں غذائی قلت سے متعلق وجوہات کے باعث پانچ لوگ جان سے گئے جس کے بعد جنگ کے دوبارہ آغاز سے اب تک ایسی اموات کی تعداد 322 ہو گئی جن میں 121 بچے شامل ہیں۔

یہ وزارت حماس کے زیر انتظام حکومت کا حصہ ہے اور طبی ماہرین پر مشتمل ہے۔ اقوام متحدہ اور آزاد ماہرین اسے جنگی میں ہونے والی اموات کے بارے میں سب سے معتبر ذریعہ سمجھتے ہیں۔ اسرائیل اس کے اعداد و شمار کو مسترد کرتا ہے لیکن اس نے اپنے اعداد و شمار فراہم نہیں کیے۔

جمعے کی دوپہر اسرائیلی فوج نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک تمام یرغمالیوں کو بازیاب اور حماس کو ختم نہ کر دیا جائے۔ فوجی ترجمان اویخائی ادرعی نے شہریوں کو جنوب کی جانب نکلنے پر زور دیتے ہوئے انخلا کو ’ناگزیر‘ قرار دیا۔

اقوام متحدہ کے مطابق صرف گذشتہ ہفتے 23 ہزار افراد نے انخلا کیا، لیکن غزہ کے بیشتر باشندوں کا کہنا ہے کہ ان کے لیے کوئی محفوظ جگہ باقی نہیں۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا