راوی مسکین بے قصور ہے

بارش تو ہو گی، کسی سال زیادہ ہو گی کسی سال کم ہو گی۔ دریا بے قصور ہے۔ وہ اپنی زمین کو لوٹا ہے جہاں وہ صدیوں سے بہہ رہا تھا۔ دریا تو وہیں بہے گا۔

دریائے راوی کے کنارے ایک خاتون 30 اگست 2025 کو اس مکان کے ملبے پر کھڑی ہیں جو حالیہ بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں منہدم ہو گیا ہے (اے ایف پی)

راوی میں پانی آگیا۔ لاہوریے دوڑے، دوڑے پل پہ پہنچے تاکہ اپنے دریا کے درشن کرسکیں۔ راوی بڑے سالوں بعد آیا ہے اور ابھی تک میری ناقص رائے میں  کم سے کم لاہور میں تو یہ سیلاب نہیں ہے، صرف اپنی جگہ پہ بہہ رہا ہے۔

راوی سے پہلی نہر غالبا شاہ جہاں نے نکالی تھی لیکن چونکہ واٹس ایپ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل لوگوں کو یقین ہے کہ انگریزوں سے پہلے حکمران صرف پھول سونگھتے تھے، عشق لڑاتے تھے اور شراب پیتے تھے (انگریز ان تینوں کاموں میں سے کچھ نہیں کرتے تھے اس لیے کامیاب ہوئے) اس لیے شاہ جہاں اور علی مردان خان کے نام آب پاشی کی تاریخ میں نہیں لیے جاتے۔ نہ ہی رنجیت سنگھ کا ذکر آتا ہے۔

خیر راوی سے نہریں بادشاہوں کے زمانے سے نکالی جاتی رہی ہیں لیکن سیلاب کے سامنے یہ بھی بے بس ہو جاتی تھیں۔ ان لوگوں نے دریاؤں سے اتنی ہی چھیڑ چھاڑ کی جتنی دریا سہہ سکتے تھے۔

اسی لیے دریاؤں کے کناروں پہ شہر بھی بسا گئے جو آج بھی بس رہے ہیں۔ انگریز نے بقول اس کے اور بقول ہمارے دنیا کا بہترین آب پاشی کا نظام بنایا اور پھر اسے چھوڑ کر چلا گیا، کیونکہ یہ اس کا دیس نہیں تھا۔

جن کا دیس تھا انہوں نے جانے کیوں دریا بانٹ لیے اور راوی کو بیراجوں میں بند کر کے اس کا رخ موڑ دیا۔ ایک معاہدہ کیا گیا جس کی باقی شقوں کے ساتھ ایک شق لازمی تھی کہ دریا کی گزرگاہوں میں کوئی تعمیر نہیں ہو گی۔

معاہدہ برقرار رہا مگر یہ شق سب بھول گئے۔ نہ تو دریا بانٹنے چاہیے تھے اور نہ دریا کے راستوں میں بیٹھنا چاہیے تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اب الزام موسمیاتی تبدیلی کے سر رکھیے یا مون سون کی موسلادھار بارش کو کلاؤڈ برسٹ کہہ کے جان بچایے۔ پہاڑوں سے درخت کاٹ کے چٹیل چوٹیوں سے کٹاؤ کا موقع خود دیا۔

بارش تو ہو گی، کسی سال زیادہ ہو گی کسی سال کم ہو گی۔ دریا بے قصور ہے۔ وہ اپنی زمین کو لوٹا ہے جہاں وہ صدیوں سے بہہ رہا تھا۔ دریا تو وہیں بہے گا۔

زمین کا واٹر سائیکل ہے، جسے وہ اپنے حساب سے چلاتی ہے۔ پنجاب میں کاشت، فلڈ ایری گیشن کے ذریعے ہی سے ہوتی تھی اور سیلاب نہیں آتے تھے تو اسے بد شگونی سمجھا جاتا تھا۔

دو آبے، کچے کے علاقے، ٹوبے، ٹیکریاں، ڈھکیاں سب ایک فطری ماحول کا حصہ تھے۔ انسان کو اس کے ساتھ ہی صلح کر کے رہنا چاہیے تھا۔

بلڈرز، کالونیاں کاٹنے کے شوقین، ہر چیز کو بیچنے کے لیے کمپنی کا ماڈل اپنانے والوں نے آج پورے ہندوستان اور پاکستان کو وہاں لا کر کھڑا کر دیا ہے کہ سب کے سب اپنے دریاؤں اور جنگلوں کا مقدمہ لڑنے کو کھڑے ہیں۔

دو تین روز قبل جب کچھ رہائشی آبادیوں میں پانی آیا تب بھی میں نے دیکھا کہ ہر شخص اپنے نقصان کے باوجود یہ ہی کہہ رہا تھا کہ دریا نے تو آنا تھا۔

دریا کا کیا قصور؟

کامران کی بارہ دری آج بھی دریا کے درمیان کھڑی ہے، شاہدرہ آج بھی خشک ہے، پانی اب بھی کناروں کے اندر ہے۔ تقریباً ہر شخص کی ایک ہی رائے ہے کہ راوی مسکین بے قصور ہے۔

راوی بے چارے میں تو اپنا پانی بھی نہیں بہتا۔ جو لوگ پانی کا رنگ پہچانتے ہیں انہیں راوی کا رنگ یاد ہو گا۔

بارشیں جاری ہیں۔ آگے کیا صورت حال ہو گی خدا جانتا ہے مگر ایک بات طے شدہ ہے کہ اب ذہن بدلنے کی ضرورت ہے، ہر معدنی اور قدرتی وسیلے کو بیچ کر خوش ہونے کا احمق پن اب چھوڑنا ہو گا۔

ادھر ادھر کے ملکوں کی مثالیں لے کر اپنی برادری اور پارٹی کے لوگوں کو کرسیوں پہ بٹھا کے ماحولیاتی کانفرنس کرنے اور انڈیا پاکستان دشمنی کو پرے رکھ کے بات کرنا پڑے گی۔

دریاؤں کو ان کے علاقے واپس دینے ہوں گے۔ کاشت کاری کے ان طریقوں کو اپنانا ہو گا جو اس وادی کے موسم اور آب و ہوا کے ساتھ چل سکیں۔ رہن سہن اور تعمیرات کا انداز بھی بدلنا ہو گا۔

کاغذ کے ٹکڑے پہ لی گئی آزادی انسان کو تو شاید مطمئن کر گئی مگر دریا جنہیں انگریز بیراجوں میں بند کر گیا تھا شاید اب آزاد ہو رہے ہیں۔ دریاؤں کی قید ختم کیجیے۔ ماحول کو تبدیل کرنے کی بجائے ماحول کے ساتھ رہنا سیکھیے۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

whatsapp channel.jpeg
مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر