پاکستان میں آنے والی ہر تباہی کو ماحولیاتی آلودگی یا بڑھتی ہوئی عالمی حدت سے جوڑنا مناسب نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس تباہی میں جو ہماری پالیسیز کا عمل دخل ہے اس کو بھی آشکار کیا جائے۔
بارشوں اور سیلابوں نے ایک بار پھر پاکستان کے طول و عرض پر تباہی مچا دی ہے۔ مون سون کی تازہ لہر میں سینکڑوں افراد جان سے گئے جبکہ لاکھوں متاثر ہوئے ہیں۔
اس کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں گھروں، دکانوں بازاروں، سڑکوں اور انفراسٹرکچر کے دیگر عناصر کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ ملک میں یہ روایت بن گئی ہے کہ ہر مسئلے کا الزام قدرت پہ تھوپ دیا جائے اور اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دے دیا جائے۔
دنیا بھر میں قدرتی آفات میں جہاں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی حدت کا عمل دخل ہے وہیں اس نقصان کی شدت میں اس وجہ سے بھی اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ حکمران طبقے کی پالیسیز عوام دوست نہیں ہیں۔
یہ بات صحیح ہے کہ گذشتہ 28 برسوں میں پاکستان میں ماحولیاتی حدت اور قدرتی آفات کی وجہ سے 10 ہزار سے زیادہ اموات ہوئیں۔ 30 بلین ڈالرز سے زیادہ کا نقصان ہوا جبکہ 90 لاکھ سے زیادہ لوگ غربت کا شکار ہوئے۔
لیکن سارے نقصانات کے تانے بانے بڑھتی ہوئی عالمی حدت سے جوڑے نہیں جا سکتے۔
مثال کے طور پر 2008 سے اب تک آنے والے تین سے زائد بڑے اور چھوٹے سیلابوں میں جو نقصانات ہوئے اس میں ہماری پالیسی کا بھی بہت عمل دخل تھا۔
سیلابوں سے بڑے پیمانے پہ نقصانات کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کو روکنے یا پانی کے بہاؤ کی شدت کو کم کرنے کے لیے جو قدرتی عوامل یا قدرتی ڈھالیں تھیں، ہم نے انہیں یا تو کمزور کر دیا ہے یا ہم انہیں ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ماہرین کے خیال میں درخت اور جنگلات سیلابوں کے نقصانات کو کم کرنے کے کئی قدرتی ذرائع میں سے ایک ہیں۔
لیکن ہمارے ملک میں بے دردی سے درختوں کو کاٹ کر جنگلوں کا صفایا کیا جا رہا ہے۔
مثال کے طور پر کچھ برس پہلے صرف ضلع مانسہرہ اور دوسرے اضلاع کے چند علاقوں میں 13784 درختوں کو کاٹا گیا۔
ایسا لگتا ہے کہ پاکستانی حکمرانوں کو ہرے بھرے درختوں کو اجاڑ کر اسے ٹھوس انفراسٹرکچر میں تبدیل کرنے کا جنون چڑھا ہوا ہے۔ مثال کے طور پہ 2015 میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے ایک موٹروے کے لیے دو ہزار پھلوں والے اور 25 ہزار پانچ سو بغیر پھلوں والے درختوں کو کاٹا۔
خیال کیا جاتا ہے کہ سی پیک کی وجہ سے 70 ہزار سے زیادہ درختوں کو گرایا گیا اور باغات کو اجاڑا گیا۔
سابق نگراں وزیراعظم معین قریشی کے دور میں درختوں کو کاٹنے پر پابندی عائد کی گئی تھی جبکہ 70 کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے بھی ایسی پالیسیاں بنائی تھیں، جس سے درخت کاٹنے کے رجحان کو روکا جائے۔
لیکن ان پالیسیز کے باوجود بھی درختوں کو کاٹنے کا عمل جاری رہا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
1947 میں پاکستان کی مجموعی زمین کا 33 فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل تھا جو 2015 تک صرف دو اعشاریہ نو فیصد تک رہ گیا تھا۔
ماہرین کا خیال ہے کہ دنیا میں 17 فیصد گرین ہاؤس گیسز کا اخراج جنگلات کی تباہی کی وجہ سے ہو رہا ہے۔
ان کا خیال ہے کہ جنگلات اور درختوں کے کاٹنے کی وجہ سے سیلاب کا خدشہ بڑھ جاتا ہے اور اس کی شدت میں اضافہ بھی ہو جاتا ہے۔
درخت اور نباتات پانی کو جذب کرتے ہیں جبکہ سطح زمین کے پانی کی رفتار کو کم بھی کرتے ہیں، جس کی وجہ سے زمین کٹنے کا عمل بھی یا تو رک جاتا ہے یا اس کی رفتار کم ہو جاتی ہے، جس کی بدولت لینڈ سلائیڈنگ کے امکانات بھی کم ہو جاتے ہیں۔
لیکن جب درختوں کو کاٹ دیا جائے تو سطح زمین پر پانی کی شدت بڑھ جاتی ہے، جس کی وجہ سے نہ صرف فلیش فلڈنگ کا امکان بڑھ جاتا ہے بلکہ لینڈ سلائیڈنگ بھی تباہی مچاتی ہے۔
جب شہباز شریف پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے، تو ان کے دور میں ہزاروں درختوں کو کاٹا گیا جبکہ لاہور کے طول و عرض کو انڈر پاسز اور فلائی اوور سے مزین کر دیا گیا۔
کراچی میں بھی 2008 سے کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے اور اسلام آباد میں اس رجحان میں گذشتہ کچھ برسوں میں تیزی آئی ہے۔
ان عوامل کی وجہ سے جہاں شہروں میں ہیٹ ویوز آئیں، وہیں زمین کی اس صلاحیت کو بھی زبردست نقصان پہنچا جس کے تحت وہ پانی کو جذب کر لیتی ہے اور پانی کو ایک جگہ بڑے پیمانے پہ جمع نہیں ہونے دیتی، جو سیلاب کے آنے کے کئی عوامل میں سے ایک ہے۔
دریا کے قدرتی راستوں کو روکنا بھی سیلاب کی تباہ کاریوں میں اضافہ کرتا ہے۔
پاکستان میں بڑے بڑے ڈیمز اور بیراجوں کی تعمیر سے پہلے پانی کے زیادہ تر قدرتی راستے کھلے ہوئے تھے۔
تاہم ان تعمیرات کی وجہ سے ان قدرتی راستوں میں خلل پیدا ہوا۔
اس کے علاوہ دریا کے قدرتی راستوں پر بڑے پیمانے پر ناجائز قبضہ کر کے وہاں تجاوزات قائم کی گئیں یا زمین کو دوسرے مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔
ماضی میں ایسے قدرتی راستوں سے 10 لاکھ کیوسک پانی گزرتا تھا اور اب یہ راستے اتنے سکڑ گئے ہیں کہ بمشکل ایک لاکھ کیوسک پانی ہی گزر پاتا ہے بقیہ پانی اپنا رخ آبادیوں کی طرف کرتا ہے، جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پہ نقصانات ہوتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت فوری طور پر ان قدرتی راستوں کو قبضہ گیروں سے واگذار کروائے، جنگلوں کی تباہی کو فوری طور پر روکے اور انفراسٹرکچر کے بڑے بڑے پروجیکٹس کو ترک کر کے ملک میں نکاسی آب سمیت دیگر چھوٹے چھوٹے پروجیکٹس کو فروغ دے جس سے نقصانات کے حجم کو کم کیا جا سکے۔
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔