بروس ولس کی اہلیہ کا بیمار سٹار کو گھر سے منتقل کرنے پر تنقید کا جواب

70 سالہ بروس فرنٹو ٹیمپرل ڈیمینشیا کے مرض میں مبتلا ہیں جس کے بعد ان کی اہلیہ نے انہیں بچوں سے دور ایک الگ گھر منتقل کر دیا۔

ایما ہیمنگ ولس اور بروس ولس پانچ اپریل 2017 کو نیویارک میں ہونے والے پروگرام میں شریک ہیں (اے ایف پی)

ہالی وڈ کے معروف اداکار بروس ولس کی اہلیہ ایما ہیمنگ ولس نے اپنے بیمار شوہر کو گھر سے دور رکھنے کے ان کے فیصلے پر تنقید کرنے والوں کو جواب دیا ہے۔

47 سالہ ایما نے رواں ہفتے اعلان کیا کہ 70 سالہ بروس فرنٹو ٹیمپرل ڈیمینشیا کے مرض  میں مبتلا ہیں اور وہ خود چاہتے تھے  کہ ان کی بیٹیوں کی زندگی متاثر نہ ہو، اس لیے انہیں ایسی جگہ رکھا گیا جہاں ان کی بہتر دیکھ بھال ہو سکے۔

انسٹاگرام پر جاری ایک بیان میں انہوں نے تنقید کا جواب دیتے ہوئے لکھا: ’لوگ اکثر ایسے فیصلوں پر جلد بازی میں اور ناحق تنقید کرتے ہیں حالانکہ انہیں اس صورت حال کا کوئی ذاتی تجربہ نہیں ہوتا۔‘

ماڈل اور کاروباری شخصیت ایما نے اسے ’سب سے مشکل فیصلہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں پہلے ہی معلوم تھا کہ اس پر تنقید ہو گی اور وہ یہ سب اس لیے شیئر کر رہی ہیں تاکہ دوسرے لوگ، جو ایسی ہی صورت حال سے گزر رہے ہیں، خود کو تنہا نہ سمجھیں۔‘

ایما نے مزید کہا کہ جو لوگ تنقید کرتے ہیں انہوں نے کبھی ایسی تکلیف کا سامنا نہیں کیا ہوتا اور اسی لیے ان کی رائے بے اثر ہو جاتی ہے۔

ان کے بقول: ’اصل بات یہ ہے کہ ان کی رائے محض شور ہے لیکن اگر انہوں نے اس کا تجربہ نہیں کیا تو ان کی رائے کی کوئی اہمیت نہیں۔‘

اب بروس ولس ایک منزلہ گھر میں مکمل وقت کے کیئر ٹیم کے ساتھ رہ رہے ہیں کیونکہ ان کی بیماری مزید بڑھ رہی ہے اور ان کی ضروریات زیادہ پیچیدہ اور مشکل ہو رہی ہیں۔

این ایچ ایس کے مطابق فرنٹو ٹیمپرل ڈیمینشیا، جس کی تشخیص ولس میں فروری 2023 میں ہوئی، رویے اور زبان کو متاثر کرتا ہے اور وقت کے ساتھ بگڑتا چلا جاتا ہے۔

ایما نے اے بی سی کے سپیشل پروگرام ’ایما اینڈ بروس ولس: دی اَن ایکسپیکٹڈ جرنی‘ میں میزبان ڈایان ساویر کو بتایا: ’وہ چاہتے کہ ان کی بیٹیاں ایک ایسے گھر میں رہیں جو ان کی ضروریات کے مطابق ہو، نہ کہ بروس کی ضروریات کے مطابق۔‘

ایما نے 2009 میں بروس سے شادی کی تھی اور اس جوڑے کی دو بیٹیاں ہیں جن میں 13 سالہ میبل اور 11 سالہ ایولن شامل ہیں۔

ایما نے بتایا کہ وہ بیٹیوں کو ناشتے اور رات کے کھانے پر باپ سے ملانے لے جاتی ہیں تاکہ خاندان کا معمول برقرار رہے۔

انہوں نے کہا: ’جب ہم وہاں جاتے ہیں، تو یا تو ہم باہر (لان میں) ہوتے ہیں، یا کوئی فلم دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ اصل مقصد یہ ہے کہ ہم وہاں موجود رہ سکیں اور بروس سے جڑ سکیں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’یہ ایک ایسا گھر ہے جو محبت، گرم جوشی، نگہداشت اور مسکراہٹ سے بھرپور ہے۔ اور یہ دیکھنا خوبصورت ہے کہ بروس کے کتنے دوست اب بھی ان کے لیے خوشی اور زندگی بن کر آتے ہیں۔

بروس کی صحت پر اپ ڈیٹ دیتے ہوئے، ایما نے کہا: ’بروس اب بھی بہت متحرک ہیں۔ مجموعی طور پر بروس کی صحت بہت اچھی ہے۔ صرف ان کا دماغ ہے جو ان کا ساتھ نہیں دے رہا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ ان کی بولنے کی صلاحیتیں ختم ہو رہی ہیں لیکن خاندان نے اس کے ساتھ ڈھلنا سیکھ لیا ہے۔

ایما نے اپنی اس جدوجہد پر ’دی اَن ایکسپیکٹڈ جرنی: فائینڈنگ اسٹرینتھ، ہوپ، اینڈ یورسیلف آن دی کیئرگیونگ پاتھ‘ کے نام سے ایک ایک نئی کتاب بھی لکھی ہے۔

انہوں نے کہا: ’ہمارے پاس ان سے بات کرنے کا ایک طریقہ ہے اور وہ ایک مختلف طریقہ ہے۔‘

ولس کا اپنی سابقہ بیوی ڈیمی مور کے ساتھ بھی گہرا تعلق ہے، جن سے ان کی تین بیٹیاں، رُومر، سکاوٹ، اور ٹالیولا ہیں۔ خاندان نے اس بیماری کو ’ظالمانہ مرض‘ قرار دیا ہے جس کا کوئی علاج نہیں۔

رواں سال کے آغاز میں ان کی 37 سالہ بیٹی رُومر نے بتایا کہ اپنے باپ سے پہلے کی طرح بات نہ کر پانے کا دکھ سہنا ان کے لیے کتنا مشکل ہے۔

فادرز ڈے کے موقع پر انہوں نے لکھا: ’آج کا دن مشکل ہے، مجھے دل کی گہرائیوں میں ایک درد محسوس ہو رہا ہے کہ کاش میں آپ سے بات کر سکتی، آپ کو سب کچھ بتا سکتی جو میں محسوس کر رہی ہوں، اپنی زندگی کی باتیں، کامیابیاں، مشکلات سب شیئر کر سکتی۔‘

’کاش میں آپ سے تب اور سوال پوچھتی جب آپ مجھے سب کچھ بتا سکتے تھے۔‘

© The Independent

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی فلم