پشاور ایف سی ہیڈکوارٹر پر خودکش حملہ، تین اہلکار جان سے گئے

سی سی پی او پشاور کے مطابق ’پہلے ایک بمبار نے ہیڈکوارٹر کے مرکزی دروازے پر دھماکہ کیا جبکہ دوسرے بمبار کو پارکنگ ایریا کے قریب اہلکاروں نے فائرنگ کرکے مار دیا۔‘

صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں پولیس نے بتایا کہ پیر کو فیڈرل کانسٹیبلری (سابقہ فرنٹیئر کانسٹبلری) کے ہیڈ کواٹرز کے مرکزی دروازے پر خودکش دھماکے کے نتیجے میں تین سکیورٹی اہلکار جان سے گئے جبکہ دو حملہ آوروں کو بھی مار دیا گیا۔

سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد کے مطابق ’پہلے ایک بمبار نے ہیڈکوارٹر کے مرکزی دروازے پر دھماکہ کیا جبکہ دوسرے بمبار کو پارکنگ ایریا کے قریب اہلکاروں نے فائرنگ کرکے مار دیا۔‘

انہوں نے کہا ’پولیس اور ایف سی کے کمانڈوز نے انتہائی بہادری کا مظاہرہ اور بروقت ردعمل دیا، جس کے نتیجے میں مزید جانی نقصان نہیں ہوا اور صورت حال جلد قابو میں آ گئی۔‘

سعید احمد کے مطابق تقریباً 150 سکیو‌رٹی اہلکار صبح کی پریڈ کی مشقوں کے لیے ہیڈکوارٹرز کے اندر کھلے میدان میں موجود تھے جب یہ حملہ ہوا۔

انہوں نے خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ’آج کے حملے میں ملوث دہشت گرد پیدل تھے اور وہ پریڈ کے علاقے تک پہنچنے میں ناکام رہے۔‘

انہوں نے کہا پولیس نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ حملے میں تین حملہ آور شامل تھے۔ ’پولیس نے کلیئرنس آپریشن مکمل کر لیا ہے اور حکام نے دو خودکش بمباروں کے جسمانی اعضا کے نمونے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے جمع کر لیے ہیں۔‘

انہوں نے کہا پولیس اب بھی اس بات کی تحقیق کر رہی ہے کہ ان تینوں حملہ آوروں کی شناخت اور شہریت کیا تھی۔

سرکاری لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان عاصم خان نے کہا حملے میں زخمی ہونے والے تمام 11 افراد کی حالت کو مستحکم قرار دیا گیا ہے۔

پشاور میں ایف سی ہیڈ کوارٹرز پر خودکش حملے میں تین اہلکار، دو حملہ آور جان سے گئے: پولیس
مزید معلومات: https://t.co/L0EH7gK0Ed pic.twitter.com/RbQr6VhCxs

ایک مقامی رہائشی صفدر خان نے روئٹرز کو بتایا ’جائے وقوع کے قریب سڑک کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا اور فوج، پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔‘

صدر بازار کے قریب واقع ایف سی ہیڈکوارٹر ایک تاریخی عمارت ہے، جہاں فیڈرل کانسٹیبلری کے دفاتر موجود ہیں۔ 

یہ عمارت ایک مصروف شاہراہ پر واقع ہے، جہاں دونوں اطراف میں دکانیں، گاڑیوں کی ورک شاپس اور عمارت کے بالکل سامنے صدر بازار کا مشہور ڈینز ٹریڈ سینٹر واقع ہے۔

اب تک کسی بھی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ تاہم پاکستان میں ماضی میں ہونے والے ایسے حملوں کے پیچھے عام طور پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔

اس واقعے سے ایک روز قبل خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبے میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے سپیشل برانچ کو ایک علیحدہ اور خصوصی پولیس یونٹ میں تبدیل کرنے کی منظوری دی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حالیہ دنوں میں خیبرپختونخوا میں شدت پسندی کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں، جن میں کئی سکیورٹی اہلکاروں کی اموات ہوئیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور وزیر داخلہ محسن نقوی سمیت دیگر رہنماؤں نے ایف سی ہیڈ کوارٹرز پر حملے کی مذمت کی ہے۔

وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے دفتر سے جاری ایک بیان کے مطابق انہوں نے آئی جی پولیس خیبر پختونخوا سے واقعے کی فوری رپورٹ طلب کرتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کی ہدایت کی ہے۔

سہیل آفریدی نے بیان میں کہا ’جوانوں نے بہادری سے بڑی تباہی کو ٹالا، یہ حملہ انتہائی افسوس ناک اور قابل مذمت ہے۔‘

انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ واقعے میں ’ملوث عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔‘

پشاور بی آر ٹی کی ترجمان صدف کامل کے مطابق سکیورٹی خدشات اور مسافروں کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے مرکزی راہداری پر بس سروس عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہے، تاہم فیڈر روٹس پر بس سروس معمول کے مطابق جاری ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان