بدھ مت کے قدیم ترین نسخے گلگت سے کیسے ملے اور ان پر نہرو نے کیوں ’قبضہ‘ کیا؟

یہ بظاہر بوسیدہ نسخے اتنے اہم تھے کہ جنگ کے دوران ان کی حفاظت کے پیش نظر ان کی سری نگر سے دہلی منتقلی کا فیصلہ انڈین وزیراعظم جواہر لال نہرو نے خود کیا تھا۔

انڈونیشیا کے شہر میدان میں ستیہ بدھ وسودھی مارگا میں سانپ کے قمری نئے سال کی تیاری کے سلسلے میں 19 جنوری 2025 کو بدھا کے مجسمے کی صفائی کی جا رہی ہے (اے ایف پی)

یہ وہ دن تھے جب نوزائیدہ ممالک پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشمیر کے مسئلے پر 1948 میں جنگ چھڑ چکی تھی۔ ایسے میں دہلی سے پرواز بھرنے والا ایک خصوصی طیارہ سری نگر میں اترتا ہے۔

اس جہاز میں سری نگر کے شری پرتاب سنگھ میوزیم سے لا کر چند صندوق رکھے جاتے ہیں، جن میں درخت کی چھال کے قدیم اور بوسیدہ قلمی نسخے موجود ہیں اور طیارہ دہلی کی طرف واپس محوِ پرواز ہو جاتا ہے۔

یہ بظاہر بوسیدہ نسخے اتنے اہم تھے کہ جنگ کے دوران ان کی حفاظت کے پیش نظر ان کی سری نگر سے دہلی منتقلی کا فیصلہ انڈین وزیراعظم جواہر لال نہرو نے خود کیا تھا۔

نہرو نے یہ حکم دینے سے قبل جموں و کشمیر میں قائم ایمرجنسی حکومت کے سربراہ شیخ عبداللہ کو اس اقدام پر راغب کیا۔ جنگ ختم ہوئی اور پھر شیخ عبداللہ کی حکومت بھی چلی گئی مگر انڈیا نے یہ مخطوطے جموں و کشمیر کو واپس نہیں کیے۔

بعد ازاں 1975 میں دوبارہ جموں و کشمیر کا وزیراعلیٰ منتخب ہونے کے بعد شیخ عبداللہ نے انڈین وزیراعظم اور نہرو کی بیٹی اندرا گاندھی کو خط لکھ کر ان کے والد کا وعدہ یاد دلایا اور نسخوں کی واپسی کا مطالبہ کیا، مگر انڈین حکومت نے اس پر کان نہ دھرا۔

یہ مخطوطے کہاں سے ملے؟

یہ 1931 کا سال تھا۔ گلگت کے نواحی علاقے نَوپور میں چند چرواہے اپنے جانوروں کو چرا رہے تھے، جب انہیں ایک ویران ٹیلے پر موجود کھنڈرات میں لکڑی کا ستون نظر آیا۔ انہوں نے ملبہ ہٹایا تو نیچے ایک بڑا صندوق ملا۔

اس میں مزید چار چھوٹے چھوٹے صندوق رکھے ہوئے تھے جنہیں کھولنے پر ان میں سے بھوج پتر کی چھالیں برآمد ہوئیں، جن پر نامعلوم زبان میں تحریر بھی رقم تھی۔ واضح رہے کہ بھوج پتر (برچ) کے درختوں کی چھال قدیم زمانے میں کاغذ کی جگہ لکھنے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔

یہ صندوق اور اس میں موجود اوراق چرواہوں کے کسی کام کے نہیں تھے، تاہم انہیں معلوم تھا کہ یہ پرانے دور کے آثار ہیں، اس لیے انہوں نے یہ صندوق گلگت ایجنسی میں تعینات وزیر کے حوالے کر دیا۔ گلگت اس وقت مہاراجہ کشمیر کا علاقہ تھا اور وزیر وہاں مہاراجہ کا نمائندہ ہوتا تھا۔

اس سے قبل کہ وزیر یہ نوادرات مہاراجہ کو بھیج دیتا تھا۔ اتفاقاً ہنگری کے مشہور ماہرِ آثار قدیمہ اور محقق آریل سٹین گلگت میں نمودار ہوئے جو وسطی ایشیا سے ایک تحقیقی مہم کے بعد واپس آ رہے تھے۔

سٹین اس سے قبل 1900 میں جب ایک ایسی ہی مہم کے دوران وسطی ایشیا جا رہے تھے تو انہیں نوپور کے قریب کارگہ نالے میں چٹان پر کندہ بدھا کا عظیم الشان نقش نظر آیا تھا۔

صدیاں گزرنے کے بعد اپنی تاریخ سے بے خبر مقامی آبادی اس بدھا کو ہیبت ناک چڑیل سمجھتی تھی جسے ان کے آبا و اجداد نے صدیوں تک پوجا تھا، ان کے بقول اس چڑیل کو کسی بزرگ نے چٹان میں چن دیا تھا۔ تاہم اس وقت سٹین کو معلوم نہیں تھا کہ قریب موجود قدیم کھنڈرات کے نیچے اس سے بھی اہم آثار دفن ہیں۔

آریل سٹین نے ابتدائی طور پر ان چھالوں کا معائنہ کیا اور لندن کے اخبار ’ٹائمز‘ اور کلکتہ کے اخبار ’سٹیٹس مین‘ میں رپورٹ لکھی جس سے ہندوستان اور باہر کے متعلقہ ماہرین کی توجہ ان کی طرف مبذول ہو گئی اور انہیں ’گلگت مینو سکرپٹس‘ کا نام دیا گیا۔ انہوں نے ان کے کچھ اوراق برٹش میوزیم کو بھی بھیجے، جو اب بھی وہاں موجود ہیں۔

باقاعدہ کھدائی

گلگت کے یہ نوادرات جب سری نگر پہنچے تو اس وقت کے مہاراجہ کشمیر ہری سنگھ نے ان میں خاصی دلچسپی لی اور انہیں شری پرتاپ سنگھ میوزیم میں رکھنے کا حکم دیا۔

1938 میں سنسکرت متون کے ماہر ایم ایس کول شاستری مہاراجہ کے دربار سے اجازت لے کر گلگت آئے اور نوپور کے کھنڈرات کی باقاعدہ کھدائی کی۔ چرواہوں نے صرف ایک خانے سے مخطوطے برآمد کیے تھے لیکن یہاں تین اور منہدم کمروں کے کھنڈرات بھی تھے، جن کے دروازے اور کھڑکیاں نہیں تھیں۔

صرف چھ دن میں شاستری اور ان کی ٹیم کو ان کھنڈرات میں سے نہ صرف مزید اوراق ملے بلکہ قدیم سکے، دستی سائز کے سٹوپا، تصویریں، ظروف، زیورات، مہر، تعویز اور مٹی کی منقش تختیاں بھی ملیں۔

شاستری نے 1939 میں اپنی دریافت سے متعلق رپورٹ شائع کی، جس میں انہوں نے ان نسخوں کو ساتویں سے نویں صدی عیسوی کے درمیان کے دور کا قرار دیا جبکہ نوپور کے کھنڈرات کی انہوں نے ایک قدیم بدھ خانقاہ اور سٹوپا کے طور پر نشاندہی کی۔

انہیں بھوج پتر کی چھالوں کے ساتھ ساتھ وہاں ایک کاغذ بھی ملا جو بظاہر اس زمانے میں چین سے وہاں لایا گیا تھا اور شاہراہ ریشم پر اس زمانے میں آمدورفت اور مذہبی و ثقافتی تبادلوں کا مظہر تھا۔

اس کے بعد 1956میں اٹلی کے ایک محقق جوسیپے توچی کو راولپنڈی میں ایک فوجی افسر آغا محمد شاہ سے ان کے مزید حصے ملے جو پہلی کھدائی کے وقت گلگت کی بونجی چھاؤنی منتقل کیے گئے تھے اور 1947 میں یہ افسر انہیں وہاں سے اپنے ساتھ راولپنڈی لے آیا تھا۔ توچی نے انہیں خرید کر کراچی میوزیم کو عطیہ کر دیا جہاں وہ آج بھی موجود ہیں۔

’گلگت مینو سکرپٹس‘ میں کیا لکھا ہے؟

گلگت میں دریافت ہونے والے نایاب نسخے بدھ مت تہذیب سے جڑے متعدد مذہبی اور غیر مذہبی موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں جن میں بدھ مت عقائد، رسومات و طرز زندگی، فلسفہ، نقاشی، لوک کہانیاں، مقامی حکمرانوں کے بارے میں معلومات، بدھا کی زندگی کے احوال اور آیور ویدک طب جیسے موضوعات شامل ہیں۔

ان میں بدھ مت کے مشہور ’سدھرم پُندریکا سوترا‘ (لوٹس سوترا) اور ’سمادھی راجا سوترا‘ جیسے اہم اور بنیادی متون بھی شامل ہیں، جو بدھا کے پند و نصائح پر مشتمل ہیں۔ یہ متون قدیم سنسکرت اور پراکرت زبانوں کی آمیزش میں لکھے گئے تھے جسے عموماً ’بدھ سنسکرت‘ کہا جاتا ہے۔

ایم ایس کول شاستری کے مطابق ان میں سے ایک چھال پر گلگت کے اس وقت کے حکمران کا نام شہانوشاہی نواسوریندرا وکرامادیتیا نندی دیوا جبکہ ملکہ کا نام اننگا دیوی درج تھا۔

ایک لوٹس سوترا پر 43 مخیر مرد و خواتین کے نام درج ہیں، جنہوں نے اس نسخے کی اشاعت کروائی یا یہ جن کے نام کیے گئے تھے۔ تحریر سے واضح ہے کہ ان میں سے کچھ اس وقت وفات پا چکے تھے۔

کچھ افراد کے ناموں کے ساتھ ان کی ماؤں کے نام بھی درج ہیں، جو اس زمانے کے گلگت میں خواتین کی مرکزی حیثیت کی نشاندہی کرتا ہے۔ بعض نام بروشسکی زبان کے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مخطوطے باہر سے نہیں لائے گئے بلکہ مقامی طور پر تیار کیے گئے اور بدھ مت کا مقامی ثقافت اور زبانوں سے ملاپ موجود تھا۔

یہ نسخے بدھ مت تہذیب ہی نہیں بلکہ متعلقہ زبانوں کے ارتقا اور اس خطے کے سیاسی اور سماجی حالات کے بارے میں بھی اہم معلومات فراہم کرتے ہیں۔

ماہرین کو اصل ’بدھ سنسکرت‘ متون کی تلاش

بدھ مت کی دو اہم شاخیں تھیرواد اور مہایان ہیں۔ اول الذکر سری لنکا، انڈیا، تھائی لینڈ اور میانمار کے میدانی علاقوں میں رائج رہی جبکہ مہایان چین، کوریا، جاپان اور ویت نام میں پھلی پھولی۔ لداخ، تبت اور نیپال میں بدھ مت بھی اسی کی ایک قسم ہے۔ گلگت مینو سکرپٹس کا تعلق اس دوسری شاخ مہایان سے ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہندوستان میں شروع میں تو بدھا کی تعلیمات کو لکھنے کا رواج نہیں تھا بلکہ بھکشو انہیں زبانی یاد کرتے تھے لیکن بعد میں انہیں چھالوں اور پتوں پر لکھنے کا رواج شروع ہوا۔ مہایان بدھ مت کی تعلیمات سنسکرت یا بدھ سنسکرت زبانوں میں محفوظ ہوئیں اور تھیرواد کی تعلیمات پالی زبان میں۔

بعد میں مختلف وجوہات کی بنا پر بدھ مت کا اثر ہندوستان میں کم ہو گیا اور ساتھ ہی ان تعلیمات کو سنسکرت میں لکھنے کا رواج بھی ختم ہو گیا۔ اس سے قبل چین اور وسطی ایشیا سے بدھ مت کے یاتریوں نے ہندوستان سے ’بدھ سنسکرت‘ کتابوں کو اپنے علاقوں میں منتقل کر کے اپنی اپنی زبانوں میں ان کا ترجمہ کیا تھا۔

جدید دور میں بدھ مت کی یہ بنیادی کتابیں اپنے تراجم کی شکل میں تو موجود تھیں البتہ اصل ’بدھ سنسکرت‘ میں کہیں بھی دستیاب نہیں تھیں۔

اصل سنسکرت نسخوں کے نہ ہونے کی کئی وجوہات میں سے ایک اہم وجہ موسم تھا۔ ہندوستان میں موجود اس دور کی ’بدھ سنسکرت‘ کتابوں کے جو مخطوطے بنائے گئے تھے وہ چھالوں اور پتوں پر موجود تھے جو میدانی علاقوں کے گرم اور مرطوب ماحول میں کہیں بھی زیادہ دیر محفوظ نہیں رہ سکے۔

البتہ جو مخطوطے ہندوستان سے باہر موجودہ تبت، نیپال، افغانستان، وسطی ایشیا اور چین وغیرہ لے جائے گئے تھے، وہ وہاں سرد اور خشک موسم کی وجہ سے تادیر محفوظ رہے اور 19 ویں اور 20 ویں صدی میں ماہرین کے ہاتھ آئے۔

گلگت بلتستان میں بدھ مت

گلگت بلتستان میں بدھ مت پہلی صدی عیسوی کے بعد کشان سلطنت کے زمانے میں باقاعدہ طور پر متعارف ہوا۔ اس سے قبل اشوکا کے زمانے میں بھی اس کا بدھ مت سے رابطہ بعید از قیاس نہیں۔

احمد حسن دانی کے مطابق کشان حکمران ویما کڈفیسس کے دور میں گلگت کشان ریاست کے زیرِ نگین آیا۔ اس حکمران کا ذکر چلاس اور ہنزہ کی منقش چٹانوں پر ملتا ہے۔

ویما کڈفیسس کے بیٹے کنیشکا کے دور میں بدھ مت ہندوستان سے شاہراہِ ریشم کے ذریعے چین پہنچا تو اس وقت گلگت اس شاہراہ پر اہم پڑاؤ کی حیثیت رکھتا تھا۔ کشان حکمرانوں نے قدیم ہندومت، بدھ مت اور زرتشتیت، تینوں مذاہب کی سرپرستی کی۔

تاہم چھٹی صدی عیسوی سے لے کر آٹھویں صدی عیسوی تک گلگت میں ’پالولہ شاہی‘ نامی مقامی ریاست قائم ہوئی، جس کے حکمران مکمل طور پر بدھ مت کے پیروکار تھے۔ انہی میں سے ایک بادشاہ کا نام گلگت مینو سکرپٹس میں بھی مرقوم ہے۔

دراصل گلگت مینو سکرپٹس پالولہ شاہی بادشاہ اور امرا کے حکم پر لکھے گئے تھے کیوں کہ اس زمانے کے بدھ مت کے پیروکاروں میں نذرانے کے طور پر مقدس مذہبی متون کی اشاعت کا رواج عام تھا۔

جرمن ماہر آثارِ قدیمہ کارل جیٹمر نے ان نسخوں کا اس دور کے سیاسی ماحول کے تناظر میں جائزہ لے کر ایک مفروضہ پیش کیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ آٹھویں صدی کے وسط میں تبتی فوج نے گلگت اور آس پاس کے علاقوں کو فتح کیا اور مقامی پالولہ شاہی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔

اس کے بعد گلگت جسے اس وقت ’بلور‘ کہا جاتا تھا، سیاسی چپقلش کا مرکز رہا۔ اس دور میں عباسی خلیفہ المامون کی فوج بھی یہاں نمودار ہوئی جس نے کابل، چترال، بلور اور تبتی سلطنت کو شکست دی اور واپس چلی گئی۔

جیٹمر کا کہنا ہے کہ نویں صدی کے وسط میں تبتی سلطنت کمزور پڑ گئی اور کشمیر کی ’درادہ شاہی‘ سلطنت نے اپنا اثر بلور تک بڑھا دیا۔

گو کہ ان کا مذہب بھی بدھ مت ہی تھا لیکن جیٹمر کے خیال میں گلگت کے خطے کے عوام کو بدھ مت کی پلولہ شاہی، تبتی اور درادہ شاہی شکل مکمل طور پر قبول نہیں تھی اور ان کے لیے یہ بیرونی اشرافیہ کا مذہب ہی تھا جو سیاسی طور پر ان پر تھونپا گیا تھا۔

یہاں کے عام باسیوں پر ’بون مت‘ عقائد کا گہرا اثر تھا، جو بدھ مت سے قبل ان کا مذہب تھا۔ بدھ مت کو بھی انہوں نے اپنے پرانے عقیدے کے امتزاج کے ساتھ مقامی رنگ دے کر قبول کیا۔

جیٹمر کا کہنا ہے کہ تبت کے زیرِ نگین جانے کے بعد سیاسی خلفشار کے دوران سرکاری سرپرستی رکھنے والے بدھ مت کے خلاف مقامی لوگوں میں مزاحمت سامنے آئی اور انہوں نے اپنے مقامی عقائد کا احیا کیا۔ اس کا ثبوت چلاس کی چٹانوں پر نقش وہ تصویریں ہیں، جن میں بدھ مت کے ساتھ ساتھ مقامی مذہبی علامات کثرت سے ملتی ہیں۔

تاہم 10 ویں صدی میں بدھ مت نے ایک بار پھر درادہ شاہیوں کے ساتھ ریاستی سرپرستی میں خطے میں اپنی تجدید کی لیکن اس زمانے تک یہ پرانے نسخے لسانی اور سیاسی تغیرات کی وجہ سے اپنی اہمیت کھو کر غیرمتعلق اور ناقابل تفہیم ہو چکے تھے۔

البتہ ان سے تقدس کا عنصر اب بھی جڑا تھا، اس لیے نئے حکمرانوں کو ان کا بہترین مصرف یہ نظر آیا کہ انہیں تبرکاً ہمیشہ کے لیے محفوظ کیا جائے، اس لیے انہوں نے انہیں تاریک اور بے روزن سٹوپاز میں ہمیشہ کے لیے بند کر دیا جہاں یہ قریباً ایک ہزار سال چرواہوں کے آنے کے منتظر رہے۔

مودی کی دلچسپی

نریندر مودی نے 12 ستمبر 2025 کو دہلی میں قدیم ہندوستانی نسخوں کو ڈیجیٹائز اور محفوظ کرنے کے اہم منصوبے کا افتتاح کیا۔ اس موقعے پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے گلگت مینو سکرپٹس کا بھی ذکر کیا اور ان کی نمائش دیکھی۔

انہوں نے کہا کہ یہ مینو سکرپٹس ہمیں کشمیر کی ’اصل‘ تاریخ کے بارے میں بتاتے ہیں۔ ہندوستان کے نایاب نسخوں پر 30 منٹ فی البدیہہ تقریر کرتے ہوئے انڈین وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دنیا بھر سے نایاب نسخے انڈیا لا کر ڈیجیٹل طریقے سے محفوظ کیے جائیں گے۔

انڈیا میں گلگت مینو سکرپٹس سے حکمرانوں کی دلچسپی نہرو سے لے کر مودی تک اب بھی قائم ہے، لیکن کیا ہم تصور کر سکتے ہیں کہ ہمارے حکمرانوں کو دہلی کے نیشنل آرکائیوز کی بند الماریوں میں موجود اپنے اس تاریخی ورثے کی موجودگی کا سرے سے علم بھی ہو سکتا ہے؟

کتابیات

On and around the Gilgit Manuscripts in the National Archives of India by Noriyuki Kudo

THE GILGIT MANUSCRIPTS AND THE POLITICAL HISTORY OF GILGIT by Karl Jettmar

The Saddharmapundarikasutra at Gilgit Manuscripts, Worshippers, and Artists by Oskar von Hinüber

History of Northern Areas of Pakistan by A. H. Dani, 1991

Gilgit Manuscripts Vol. I by Nalinaksha Dutt, 1939

REPORT ON THE GILGIT EXCAVATION IN 1938 By M. BS. KAUL SHASTRI, 1939

The Civil and Military Gazette, July 25, 1931

whatsapp channel.jpeg
مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ