خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان کی تحصیل میران شاہ کے اسسٹنٹ کمشنر (اے سی) شاہ ولی کی گاڑی پر جنوبی شہر بنوں میں منگل کو عسکریت پسندوں کے حملے میں ان سمیت چار افراد جان سے گئے۔
پولیس ذرائع کے مطابق حملہ کینٹ تھانے کی حدود بنوں میران شاہ روڈ پر معصوم شاہ کے علاقے میں ہوا۔ حملے میں گاڑی مکمل طور پر جل کر تباہ ہوگئی۔
پولیس نے کہا کہ حملے کا نشانہ اے سی میران شاہ اور دو پولیس اہلکاروں کے علاوہ ایک شہری بھی بنا۔
بنوں کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) سجاد خان نے ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’حملہ اچانک ہوا، اور گاڑی پر فائرنگ کرنے کے بعد حملہ آوروں نے اسے بھی آگ لگا دی۔ پولیس نے واقعے کے بعد علاقے کو گھیر لیا ہے اور حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔
حکام کے مطھابق واقعہ تقریبا صبح 10 بجے پیش آیا جب اسسٹنٹ کمشنر عدالت میں پیش ہونے جا رہے تھے جب ان پر معصوم آباد کے قریب ’گھات لگا کر حملہ کیا گیا۔‘
وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے حملے کی مذمت کی۔
بیان میں کہا گیا کہ انہوں نے ’حملے میں اسسٹنٹ کمشنر میران شاہ اور دو پولیس اہلکاروں کی شہادت پر گہرے افسوس کا اظہار کیا۔‘
پولیس ذرائع نے بتایا کہ اے سی کمشنر شاہ ولی کے سکواڈ پر کیے گئے حملے دو پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
شمالی وزیرستان بنوں سے ملحق ہے۔ اس کا انتظامی ہیڈ کوارٹر میران شاہ ہے۔
یہ پیشرفت لکی مروت اور بنوں کے اضلاع میں خودکش بم دھماکے اور بندوق کے حملوں میں دو پولیس اہلکاروں کی موت اور پانچ کے زخمی ہونے کے ایک دن بعد ہوئی ہے۔
پاکستان نے ماضی قریب میں خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں عسکریت پسند حملوں میں اضافہ دیکھا ہے، جب سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے 2022 میں حکومت کے ساتھ جنگ بندی ختم کی تھی۔
وزیر اعلی سہیل آفریدی نے انسپکٹر جنرل آف پولیس سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔
بیان میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔ ملک دشمن عناصر ایسے بزدلانہ حملوں سے ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔‘