اسلام آباد ہائی کورٹ نے جسٹس طارق جہانگیری کو ڈگری کیس میں جج کے عہدے کے لیے نااہل قرار دیتے ہوئے ان کی بطور جج تعیناتی کالعدم قرار دے دی ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ طارق جہانگیری کے پاس بطور جج تعیناتی کے وقت ایل ایل بی کی درست ڈگری نہیں تھی اور ان کی بطور جج تعیناتی غیر قانونی تھی۔ وہ جج کا عہدے کے لیے نااہل تھے۔ عدالت نے انہیں بطور جج ڈی نوٹیفائی کرنے کا حکم ہے۔
جسٹس طارق محمود جہانگیری کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں جعلی ڈگری کی بنیاد پر کملپینٹ فائل ہوئی تھی، جبکہ اسی دوران اسلام آباد ہائی کورٹ میں انہیں کام سے روکنے کی درخواست بھی دائر ہوئی جو لاہور کے وکیل میاں داؤد نے کی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے انہیں کام سے روکنے کا حکم جاری کیا جو سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے بعدازاں معطل کر دیا تھا۔
قبل ازیں 15 دسمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں ڈویژن بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
جسٹس طارق محمود جہانگیری اپنے خلاف دائر درخواست میں عدالت میں پیش ہو کر کہا کہ ’قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر بتانے کو تیار ہوں کہ میری ڈگری اصل ہے۔ کراچی یونیورسٹی نے کہیں نہیں لکھا کہ میری ڈگری جعلی ہے۔‘
جسٹس طارق جہانگیری روسٹرم پر آئے تو چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ ’میرے پاس محترم جسٹس جہانگیری صاحب آئے ہوئے ہیں آپ لوگ باقی بیٹھ جائیں۔ میں نے محترم جسٹس طارق محمود جہانگیری صاحب کو سننا ہے۔‘
جسٹس طارق جہانگیری نے بینچ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ’جس طرح مجھے کام سے روکا گیا ایسے کسی پٹواری کو بھی نہیں روکا گیا۔ میں آپ کا کولیگ ہوں میں بطور جج کام کر رہا ہوں پہلے کبھی ایسے نہیں ہوا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم نے آپ کی سینیارٹی کے خلاف سپریم کورٹ میں چیلینج کیا ہوا ہے۔ مفادات کا ٹکراؤ ہے، آپ اس کیس میں میرے خلاف نہیں بیٹھ سکتے۔ آپ بھی جج ہیں میں بھی جج ہوں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں رٹ کے خلاف رٹ کبھی ڈویژن بینچ نے نہیں سنی۔ دنیا میں کبھی ایسا نہیں ہوا جو میرے ساتھ ہوا۔
’خواست گزار نے سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی اور آپ نے مجھے جوڈیشل ورک سے روک دیا۔ بغیر بحث کے آپ نے مجھے تین دن کے لیے نوٹس کر دیا۔ پہلے عدلیہ کا جو حال ہے اس سے سب کو پھر کوورنٹو اپیل آنا شروع ہو جائے گی۔‘
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ’آپ کو ویسے ہی انصاف ملے گا جیسے کسی اور کو ملتا ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
درخواست گزار میاں داؤد ایڈوکیٹ نے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرنے کی استدعا کی جو عدالت نے مسترد کردی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 16 ستمبر کو مبینہ جعلی ڈگری کیس میں سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے تک جسٹس طارق محمود جہانگیری کو بطور جج کام کرنے سے روک دیا ہے اور سینیئر قانون دان بیرسٹر ظفر اللہ خان اور اشتر علی اوصاف کو کیس میں عدالتی معاون مقرر کیا ہے۔
چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد اعظم خان پر مشتمل ڈویژن بینچ نے سماعت کی اور میاں داؤد کی درخواست کی سماعت کے بعد تحریری حکم نامہ جاری کیا۔ عدالت نے اٹارنی جنرل سے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر معاونت بھی طلب کر لی۔
جسٹس طارق محمود جہانگیری کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں جعلی ڈگری کی بنیاد پر شکایت فائل کی گئی تھی جبکہ اسی دوران اسلام آباد ہائی کورٹ میں لاہور سے تعلق رکھنے والے میاں داؤد نے جج کو کام کرنے سے روکنے کی درخواست بھی دائر کر دی۔
میاں داؤد کی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ جسٹس طارق محمود جہانگیری کی وکالت کی ڈگری، یعنی کراچی یونیورسٹی سے حاصل کردہ ایل ایل بی کی سند ’غیر معتبر‘ ہے، جس کے باعث ان کا پورا قانونی کیریئر اور بعد ازاں جج کے طور پر تقرری غیر قانونی قرار پاتی ہے۔
میاں داؤد نے اپنی درخواست میں استدعا کی کہ مذکورہ جج کو کام سے روکا جائے۔
گذشتہ برس جون میں کراچی کے شہری عرفان مظہر کی جانب سے طارق محمود جہانگیری کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت دائر کی گئی شکایت میں بھی الزام عائد کیا گیا تھا کہ جج کی قانون کی ڈگری جعلی ہے اور جامعہ کراچی نے ان کی ڈگری کی توثیق نہیں کی کیونکہ ان کے رول نمبر میں بھی تضاد ہے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے کہا ’ابھی درخواست پر آفس اعتراضات ہیں اور جج سمیت کسی فریق کو نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔ سپریم جوڈیشل کونسل سے فیصلے تک معاملہ ہائی کورٹ میں زیر التوا رہے گا۔ عدالت کے سامنے یہ سوال ہے کہ معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے ہو تو کیا آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی جا سکتی ہے؟‘
اسلام آباد بار ایسوسی ایشن اور اسلام آباد بار کونسل کے نمائندوں نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی تعیناتی اور انہیں بطور جج کام سے روکنے کی درخواست پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کرنے کا مطالبہ کیا
مزید کارروائی کے لیے عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی تھی۔