انڈیا میں افغان طالبان کے ناظم الامور مفتی نور احمد کون ہیں؟

رپورٹس کے مطابق طالبان کے سینیئر رکن مفتی نور احمد نور نے دہلی میں افغان مشن میں ناظم الامور کی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔

سات جولائی، 2025 کو جاری ہونے والی اس تصویر میں افغان طالبان کے سینیئر رہنما نور احمد نور (بائیں) پاکستان کی سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ سے ملاقات کر رہے ہیں (پاکستانی وزارت خارجہ/ایکس)

طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد انڈیا میں تعینات ہونے والے پہلے طالبان نامزد سفارت کار نئی دہلی پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ دارالحکومت میں افغان سفارت خانے کا چارج سنبھالیں گے۔

رپورٹس کے مطابق طالبان کے سینیئر رکن مفتی نور احمد نور نے دہلی میں افغان مشن میں ناظم الامور کی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔

وہ گذشتہ ہفتے کے آغاز میں انڈیا پہنچے اور توقع ہے کہ سفارت خانے میں اندرونی بریفنگز کے بعد وہ باضابطہ طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں گے۔

نور احمد نور اس سے قبل افغانستان کی وزارت خارجہ میں پہلے سیاسی شعبے کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ 

وہ اکتوبر 2025 میں طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کے دورہ انڈیا کے دوران ان کے ہمراہ وفد کا بھی حصہ تھے۔ 

یہ 2021 کے بعد کسی طالبان لیڈر کا انڈیا کا پہلا دورہ تھا۔ دی انڈپینڈنٹ نے اس حوالے سے انڈیا میں افغان سفارت خانے سے رابطہ کیا ہے۔

(بھارت ایکسپریس کے مطابق نور احمد طالبان کے ایک بااثر اور سینیئر رہنما سمجھے جاتے ہیں۔ سفارتی حلقوں میں ان کی شناخت ایک ایسے رہنما کی ہے جن پر کابل کی موجودہ قیادت کو گہرا اعتماد حاصل ہے۔

انہوں نے بطور افغان وزارت خارجہ کے پہلے سیاسی شعبے کے ڈائریکٹر جنرل، گذشتہ سال جولائی میں اسلام آباد کا دورہ بھی کیا تھا، جہاں انہوں نے پاکستان کی سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ سے ملاقات کی تھی۔)

انڈیا نے اگست 2021 میں افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد قائم ہونے والی حکومت کو تاحال باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا۔

تاہم گذشتہ کچھ برسوں میں نئی دہلی نے کابل کے ساتھ محدود سفارتی روابط اور انسانی امداد کا سلسلہ برقرار رکھا ہے۔

انڈیا نے طالبان کے نامزد سفارت کاروں کو ممبئی اور حیدرآباد میں افغان قونصل خانوں میں ذمہ داریاں سنبھالنے کی اجازت بھی دے رکھی ہے۔

نئی دہلی میں افغان سفارت خانہ اپنی سفارتی حیثیت کے غیر واضح ہونے کے باوجود عبوری انتظامات کے تحت کام کرتا رہا ہے۔

امیر خان متقی کے اکتوبر کے دورے کے بعد انڈیا نے اعلان کیا تھا کہ وہ افغانستان میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولے گا۔ 

انڈیا نے چار سال قبل کابل میں اپنا سفارت خانہ اس وقت بند کر دیا تھا جب امریکہ اور نیٹو فورسز افغانستان سے نکل گئی تھیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اگرچہ 2022 میں انڈیا نے تجارت، طبی امداد اور انسانی تعاون کے لیے ایک چھوٹا سفارتی مشن دوبارہ قائم کیا تھا۔

انڈیا کے اس اعلان سے اُن افغان ملازمین کے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی بڑھ گئی جو سابقہ حکومت کے دور میں تعینات کیے گئے تھے۔

دی ہندو کے مطابق کچھ ملازمین کو خدشہ ہے کہ انہیں ملازمت سے برطرف کیا جا سکتا ہے یا انہیں افغانستان واپس جانے پر مجبور کیا جا سکتا ہے، جہاں انہیں انتقامی کارروائیوں اور خاندان کے تحفظ کے حوالے سے تشویش ہے۔ 

اس معاملے سے واقف حکام نے بتایا کہ موجودہ عملہ اپنی ذمہ داریاں جاری رکھے گا اور دہلی کے شانتی پتھ پر واقع سفارت خانے پر سابق افغان جمہوریہ کا سرخ، سبز اور سیاہ تین رنگوں والا پرچم بدستور لہرائے گا۔

تاہم حکام نے اشارہ دیا کہ یہ انتظامات اس وقت تبدیل ہو سکتے ہیں جب طالبان کے مقرر کردہ سفارت کار  آنے والے دنوں میں باضابطہ طور پر مشن کا چارج سنبھال لیں گے۔

امیر خان متقی کے اس دورے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خصوصی منظوری لینا پڑی تھی کیونکہ وہ ان طالبان رہنماؤں میں شامل ہیں جو اقوام متحدہ کی پابندیوں، جن میں سفری پابندی اور اثاثوں کی ضبطی شامل ہے، کا سامنا کر رہے ہیں۔ 

انہیں پہلی بار 2001 میں طالبان کے سابق دور حکومت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باعث پابندیوں کی فہرست میں ڈالا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اب تک طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا، تاہم تقریباً ایک درجن ممالک، جن میں چین، روس، ایران، پاکستان اور ترکی شامل ہیں،کابل میں اپنے سفارت خانے چلا رہے ہیں۔ صرف روس نے طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے۔

مغربی سفارت کاروں کے مطابق طالبان کی بین الاقوامی تسلیم دہی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ان کی خواتین مخالف پالیسیوں ہیں، جن کے تحت افغان خواتین کو ثانوی تعلیم، اعلیٰ تعلیم اور زیادہ تر دفاتر میں کام کرنے سے روک دیا گیا ہے اور ان کی عوامی آزادیوں پر بھی سخت پابندیاں عائد ہیں۔

یہی پالیسیاں انڈیا میں اکتوبر کے دورے کے دوران بھی زیر بحث رہیں، جب طالبان کے وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس میں انڈین ٹی وی کی معروف خاتون صحافیوں سمیت دی انڈیپنڈنٹ کی خاتون رپورٹر کو شرکت سے روک دیا گیا۔

© The Independent

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا