یو اے ای نے یمن میں اتحاد کی قانونی حیثیت کا استحصال کیا: گورنر حضرموت 

صوبہ حضرموت کے گورنر سالم الخنبشي نے کہا ’ہم سمجھتے تھے کہ یو اے ای ہمارے لیے مدد اور تعاون کا ذریعہ بنے گا، لیکن اس کے اقدامات نے ہمیں حیرت زدہ کر دیا۔‘

صوبہ حضرموت کے گورنر سالم الخنبشي 19 جنوری، 2026 کو میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں (العربیہ)

صوبہ حضرموت کے گورنر سالم الخنبشي نے سوموار کو کہا کہ متحدہ عرب امارات نے اپنے ذاتی ایجنڈے کے لیے یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کی قانونی حیثیت کا استحصال کیا۔

سالم الخنبشي نے کہا ’ہم سمجھتے تھے کہ یو اے ای ہمارے لیے مدد اور تعاون کا ذریعہ بنے گا، لیکن اس کے اقدامات نے ہمیں حیرت زدہ کر دیا۔‘
 
انہوں نے تصدیق کی کہ حضرموت کو عيدروس الزبيدي سے وابستہ مسلح گروہوں کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جنہیں یو اے ای کی حمایت حاصل تھی۔
 
سالم الخنبشي کے مطابق ان گروہوں نے شہریوں پر حملوں اور دہشت گردی کی کارروائیاں کیں، جن میں ڈکیتی، اغوا، قتل اور جبری بے دخلی شامل ہیں جبکہ ریاستی املاک کو نقصان پہنچایا گیا اور سرکاری تنصیبات کو لوٹا گیا، جس سے صوبے کے مختلف طبقات کو بڑے پیمانے پر نقصان ہوا۔
 
ایک پریس کانفرنس کے دوران گورنر حضرموت نے کہا ’یمنی حکومت نے المکلا کے ریان بیس میں مشکوک اماراتی سازوسامان اور سرگرمیوں کو دریافت کیا، جو نہ تو قانونی حکومت کی حمایت کے اتحاد کے اعلانیہ مقاصد سے مطابقت رکھتے ہیں اور نہ ہی اخوت، اسلام اور عربیت کے اصولوں سے۔‘
 
انہوں نے مزید کہا ’برآمد ہونے والے سازوسامان میں تاریں، دھماکہ خیز مواد، ڈیٹونیٹرز اور مواصلاتی آلات شامل تھے، جو قتل، ٹارگٹ کلنگ اور تشدد کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
 
ان کا کہنا تھا کہ ’ریان ایئرپورٹ کیمپ میں اس نوعیت کے آلات کی موجودگی اس کی اصل ذمہ داریوں سے مطابقت نہیں رکھتی اور اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اسے شہریوں کے خلاف جرائم اور خلاف ورزیوں کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد کے مرکز کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔‘

سالم الخنبشي نے مزید کہا کہ دریافت شدہ مواد کی نوعیت اور تیاری کا طریقہ کار عام فوجی اڈوں میں استعمال ہونے والے سازوسامان سے مطابقت نہیں رکھتا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ 20 شہریوں کے خلاف مجرمانہ کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ الزبيدي کے وفادار مسلح گروہوں نے یمن کے جنوبی حصے کے مسائل کو اپنے جرائم کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال کیا، عوام کے جائز مطالبات کو نظرانداز کیا اور ایک ایسے اماراتی ایجنڈے کی خدمت کی جس کا مقصد انتشار پھیلانا اور مسئلے کے حل کے لیے کسی بھی سیاسی کوشش کو ناکام بنانا تھا۔

گورنر حضرموت کے مطابق حالیہ انکشافات اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ یو اے ای نے عيدروس الزبيدي کو صومالیہ کے راستے ابوظبی منتقل کرنے میں کیوں دلچسپی دکھائی تاکہ انہیں جنوبی عوام کے خلاف کیے گئے جرائم پر قانونی کارروائی سے بچایا جا سکے اور یمن میں ابوظبی کے ایجنڈے کے نفاذ کے ایک آلے کے طور پر ان کے کردار کو بے نقاب ہونے سے روکا جا سکے۔
 
انہوں نے مزید کہا کہ پیش کیے گئے شواہد سے یہ بھی سامنے آیا کہ المکلا شہر میں اماراتی افواج کے زیر انتظام خفیہ جیلیں موجود تھیں، جہاں قانون سے بالاتر ہو کر من مانی حراست، جبری گمشدگیاں اور تشدد کیا جاتا تھا۔
 
سالم الخنبشي نے زور دیا کہ متعلقہ حکام عيدروس الزبيدي اور ان تمام افراد کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے جو ان خلاف ورزیوں میں ملوث پائے گئے اور یہ کارروائی قانون کے مطابق اور حضرموت کے عوام کے تحفظ اور صوبے کے استحکام کو یقینی بنانے کے لیے کی جائے گی۔
 
انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ جنوبی صوبے بتدریج اس جبر اور بالادستی سے نجات حاصل کر رہے ہیں جو ان پر مسلط کی گئی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا