ورکشاپس، راؤنڈ ٹیبلز، کلیدی خطابات اور پینل مباحثوں کے ذریعے اس ماہ کے آغاز میں دبئی میں منعقد ہونے والے ون بلین فالوورز سمٹ میں دنیا بھر کے سرِفہرست کریئیٹرز، انڈسٹری ایگزیکٹوز اور بڑے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز — جن میں یوٹیوب، ٹک ٹاک، سنیپ چیٹ، میٹا اور ایکس شامل ہیں، اکٹھے ہوئے۔
اس سمٹ کو کریئیٹر اکانومی کے لیے ایک بزنس اور معاشی فورم کے طور پر پیش کیا گیا، جہاں کریئیٹرز کو صرف تفریح فراہم کرنے والوں کے بجائے ابھرتے ہوئے کاروباری ادارے، سرمایہ کار اور ثقافتی برآمد کنندگان کے طور پر دیکھا گیا۔
مارکیٹرز، پلیٹ فارمز اور مالیاتی سٹیک ہولڈرز کے لیے اس ایونٹ کا پیغام واضح تھا: کریئیٹر اکانومی بڑھ رہی ہے، اور اس کے ساتھ سکیل، پائیداری اور مونیٹائزیشن سے متعلق نئی توقعات بھی جنم لے رہی ہیں۔
سمٹ کے ایجنڈے کا بڑا حصہ ان ساختی چیلنجز پر مرکوز رہا جن کا سامنا کریئیٹرز کو سرمایہ کاری کے قابل کاروبار کھڑا کرتے وقت کرنا پڑتا ہے۔
ایک نمایاں سیشن “Why Creators Can’t Get Funded” میں ایک ایسی حقیقت پر روشنی ڈالی گئی جسے بہت سے کریئیٹرز کم سمجھتے ہیں۔
اگرچہ آڈینس کا حجم اور انگیجمنٹ اہم ہوتے ہیں، مگر زیادہ تر کریئیٹر لیڈ سٹارٹ اپس ابتدائی فنڈنگ مراحل میں اس لیے ناکام ہو جاتے ہیں کہ ان کی کاروباری بنیادیں کمزور، آمدن کے ماڈلز غیر واضح ہوتے ہیں، اور وہ ذاتی برانڈنگ پر حد سے زیادہ انحصار کرتے ہیں۔
اس بحث نے کریئیٹرز کو محض کنٹینٹ پروڈیوسرز کے بجائے فاؤنڈرز کے طور پر دیکھنے کا زاویہ دیا، جنہیں کنٹینٹ میٹرکس سے آگے بڑھ کر گورننس، پروڈکٹ مارکیٹ فِٹ اور طویل مدتی ویلیو کری ایشن پر توجہ دینی چاہیے۔
اسی عالمی تناظر میں پاکستان کی موجودگی نمایاں رہی، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان بین الاقوامی کریئیٹر اکانومی میں تیزی سے اپنی جگہ بنا رہا ہے۔
پاکستانی کریئیٹرز کسی استثنا کے طور پر نہیں بلکہ اعتماد کے ساتھ عالمی مکالمے کا حصہ بنتے دکھائی دیے، جہاں کہانی سنانے، فنانس اور اثر و رسوخ جیسے موضوعات زیرِ بحث تھے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستانی آواز کے ساتھ ایک خاص طور پر متاثر کن سیشن ایمن نے پیش کیا، جو شکاگو میں مقیم کتابوں سے متعلق کنٹینٹ کریئیٹر ہیں اور جن کے 12 لاکھ فالوورز ہیں۔
پانچ سال کے تجربے کے ساتھ، انہوں نے رومانس اور فینٹسی ادب کے گرد ایک لائل کمیونٹی تشکیل دی۔
ان کا سیشن “The Women Turning Stories Into Movements” اس بات پر مرکوز تھا کہ کس طرح خواتین کریئیٹرز اجازت کی بجائے سچائی پر مبنی کمیونٹیز بنا کر قیادت اور اثر و رسوخ کی نئی تعریف کر رہی ہیں۔
اس گفتگو میں کنٹینٹ کے شعبوں میں موجود دقیانوسی تصورات توڑنے، کہانی کو ثقافتی ربط کے آلے کے طور پر استعمال کرنے، اور ذاتی شوق کو اجتماعی شناخت میں بدلنے پر زور دیا گیا۔
یہ بھی واضح کیا گیا کہ جب سافٹ پاور کو مستقل مزاجی اور مقصد کے ساتھ جوڑا جائے تو وہ ڈیجیٹل معیشت میں حقیقی اثر میں ڈھل سکتی ہے۔
ایک اور مضبوط پاکستانی نمائندگی نامیر خان کی تھی، جو مینا فِن ٹیک ایسوسی ایشن کے بانی و سی ای او اور کلائمیٹ فن ٹیک پلیٹ فارم Fils کے سربراہ ہیں۔
ان کے سیشن میں کریئیٹرز کو ابھرتے ہوئے مالیاتی کردار کے طور پر پیش کیا گیا، جو اشتہارات پر انحصار کے بجائے عالمی منڈیوں میں براہِ راست شرکت کر سکتے ہیں۔
پاکستان اور اوورسیز پاکستانی کریئیٹرز اب تیزی سے ثقافت، کاروبار اور فنانس کے سنگم پر کام کر رہے ہیں۔
وہ صرف کنٹینٹ نہیں بلکہ خیالات، کمیونٹیز اور بزنس ماڈلز بھی برآمد کر رہے ہیں جو سرحدوں سے ماورا اثر رکھتے ہیں۔
برانڈز اور سرمایہ کاروں کے لیے یہ ایک ایسا موقع ہے کہ وہ ایک نوجوان، ڈیجیٹل طور پر ماہر اور عالمی طور پر جڑی ہوئی مارکیٹ سے جڑ سکیں۔
کاروباری اور ابلاغی نقطۂ نظر سے، ون بلین فالوورز سمٹ نے چند اہم رجحانات کو اجاگر کیا:
اول، کریئیٹر اکانومی اب تجرباتی مرحلے سے نکل کر ادارہ جاتی شکل اختیار کر رہی ہے۔
دوم، پلیٹ فارمز فنانس، ٹیکنالوجی اور پالیسی کے ساتھ ضم ہو رہے ہیں، جس سے نئی ویلیو ایکو سسٹمز جنم لے رہے ہیں۔
سوم، وہی کریئیٹرز کامیاب ہوں گے جو ابتدا ہی میں پروفیشنل اپروچ اختیار کریں، سرمایہ کو سمجھیں، اور خود سے آگے بڑھ کر کاروبار تعمیر کریں۔
پاکستان کے لیے اس کا پیغام واضح ہے۔
جیسے جیسے کنیکٹیوٹی بڑھ رہی ہے اور کریئیٹرز کو عالمی سطح پر پہچان مل رہی ہے، ویسے ویسے تعلیم، فنڈنگ تک رسائی اور سٹریٹیجک مینٹورشپ جیسے سپورٹ سسٹمز کی ضرورت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔
یہ سمٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی کریئیٹرز اگلے مرحلے کے لیے تیار ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا مقامی اور علاقائی سٹیک ہولڈرز بھی ان میں صرف آوازوں کے طور پر نہیں بلکہ قابلِ عمل کاروباروں کے طور پر سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں، ایک ایسی عالمی معیشت میں جو تیزی سے بدل رہی ہے۔
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔