کشمیر کی قدیم وراثت ’واگو‘ کے احیا کی کہانی

کشمیری گھروں کی زینت بننے والی روایتی چٹائی ’واگو‘ کافی عرصہ غائب رہنے کے بعد ایک بار پھر اپنی پہچان بنا رہی ہے۔

کشمیری گھروں کی زینت بننے والی روایتی چٹائی ’واگو‘، جو گذشتہ دو عشروں کے دوران پلاسٹک اور مصنوعی میٹنگ (Matting) کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے تقریباً غائب ہو چکی تھی، اب ایک بار پھر اپنی پہچان بنا رہی ہے۔ 

اس صدیوں پرانی دستکاری کے احیا کا سہرا میر بحری، ڈل جھیل (سرینگر) کے رہائشی ضمیر حسین بٹ اور ان کی اہلیہ رخسانہ کے سر جاتا ہے۔ ان کی کوششوں نے نہ صرف ’واگو‘ کو گھروں، ہوٹلوں اور جدید ڈیزائننگ کا حصہ بنایا بلکہ ڈل جھیل کے اطراف رہنے والی خواتین کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کیے ہیں۔

کشمیر کا قدرتی قالین

’واگو‘ کو کشمیر کا آرگینیک قالین بھی کہا جاتا ہے۔ 

یہ ڈل جھیل، دلدلی علاقوں، جنگلات اور دیہاتوں میں اگنے والے خاص قسم کے نرسل سے تیار کی جاتی ہے۔ ان نرسلوں کو موسم کے لحاظ سے کاٹا، دھوپ میں خشک کیا اور پھر گھاس کی رسیوں کی مدد سے ہاتھوں سے بنا جاتا ہے۔ 

ماضی میں یہ چٹائی فرش پر بچھانے اور سردی سے بچاؤ (انسولیشن) کے لیے ناگزیر سمجھی جاتی تھی۔

ضمیر حسین بتاتے ہیں: ’پرانے وقتوں میں یہ چٹائیاں ہر گھر میں استعمال ہوتی تھیں، لیکن پھر نئی قسم کی میٹنگ آ گئیں اور یہ کام رک گیا۔ کئی سالوں تک کسی نے اس طرف توجہ نہیں دی، لیکن جب میں نے اسے دوبارہ شروع کیا تو آہستہ آہستہ یہ پھر سے گھروں کا حصہ بننے لگی ہے۔‘

خاندانی وراثت اور تیاری کا عمل

ضمیر کا کہنا ہے کہ یہ ہنر ان کے خاندان کی روایت ہے۔ ان کے والد اور دادا بھی یہی کام کرتے تھے۔

ایک روایتی واگو کی تیاری میں اس کے سائز اور نقش و نگار کی بنیاد پر دو سے تین دن لگ سکتے ہیں۔ عام طور پر دو افراد مل کر ایک دن میں ایک ٹکڑا تیار کرتے ہیں۔ اس کے لیے خام مال کے طور پر دھان کے تنکے اور نرسل استعمال ہوتے ہیں۔ 

خواتین کی خودمختاری

جہاں ضمیر ڈیزائننگ اور مارکیٹ تک رسائی پر توجہ دیتے ہیں تو ان کی اہلیہ رخسانہ بُنائی اور خواتین کی تربیت میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں۔ 

رخسانہ کہتی ہیں: ’میں کئی دوسری خواتین کو بھی یہ چٹائیاں بنتے کا کام سکھلایا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس اقدام نے ڈل جھیل کے گرد و نواح کی خواتین کی زندگی بدل دی ہے۔ 

رخسانة کے مطابق: ’بہت سی خواتین پہلے گھروں میں فارغ بیٹھی تھیں، اب وہ اس ہنر سے وابستہ ہو چکی ہیں۔ وہ گھریلو کام کاج کے علاوہ یہ کام کر کے باآسانی روزگار کما رہی ہیں۔‘ 

شوق کا مول نہیں

اگرچہ مالی منافع اب بھی کم ہے، لیکن ضمیر کے لیے یہ محض کاروبار نہیں بلکہ ایک جنون ہے۔ 

وہ کہتے ہیں: ’یہ میرا شوق ہے۔ ریٹ کم ہونے کی وجہ سے بعض اوقات نقصان بھی ہوتا ہے، لیکن میں نے کبھی پیسوں کی پرواہ نہیں کی۔ میرا پہلا مقصد اس فن کو زندہ کرنا تھا۔ ایک چٹائی تقریباً 1,200 روپے میں فروخت ہوتی ہے۔‘

آج واگو نہ صرف کشمیر بلکہ دہلی جیسی جگہوں پر منعقدہ نمائشوں میں بھی توجہ کا مرکز بن رہی ہے۔ ہوٹل مالکان، ڈاکٹرز اور مختلف شعبوں سے وابستہ افراد اب اس روایتی اور قدرتی مصنوعات میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا