پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے جمعرات کو اپنے انڈین ہم منصب راج ناتھ سنگھ کو یاد دلایا کہ ’دو جوہری ملکوں کے درمیان جنگ کی خواہش رکھنا ناقابل فہم ہے اور اس کے سنگین نتائج ہوتے ہیں۔‘
خواجہ محمد آصف کی جانب سے یہ سرزنش جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ کی صورت میں بظاہر راج ناتھ سنگھ کے حالیہ بیان کے رد عمل میں سامنے آئی، جس میں انڈین میڈیا کے مطابق وزیر نے پاکستان کو مشرق وسطیٰ کی جاری جنگ کی آڑ میں کسی بھی ’غلط مہم جوئی‘ کی کوشش کے خلاف خبردار کیا۔
پاکستانی وزیر دفاع نے لکھا کہ ’اس طرح کی دھمکیاں نئی نہیں ہیں؛ یہ ایک پیشین گوئی کے نمونے کا حصہ ہے، داخلی کمزوری کو بیرونی بنانا اور سیاسی مفادات کے لیے بے بنیاد الزامات کی آڑ میں کشیدگی کو ہوا دینے کی کوشش۔‘
Repeated rhetoric reflects not strength, but visible strategic anxiety as the anniversary of the staged False Flag Operation in Pahlgam approaches - an episode that failed to withstand international scrutiny and exposed New Delhi’s reliance on manufactured crises.
Such…
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) April 2, 2026
پہلگام واقعہ جو گذشتہ سال 22 اپریل کو پیش آیا تھا میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں سیاحوں پر حملہ کیا گیا تھا۔
نئی دہلی نے اس واقعے کو پاکستان سے جوڑا، جس کی وجہ سے پڑوسی ملکوں کے درمیان گذشتہ سال سے ایک مختصر فوجی کشیدگی پیدا ہوئی۔
اسلام آباد نے اس حملے کی ذمہ داری سے سختی سے انکار کرتے ہوئے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔
پاکستانی فوج نے بعد میں 22 اپریل کے پہلگام حملے سے لے کر 10 مئی کو اپنے آپریشن، بنیان المرصوص کے اختتام تک انڈیا کے ساتھ تنازعات کے دور کو معرکہ حق (حق کی لڑائی) کا نام دیا۔
خواجہ آصف نے پوسٹ میں مزید کہا کہ ’تاریخ ایک واضح یاد دہانی کے طور پر کھڑی ہے کہ غلط حساب کتاب کے نتائج ہوتے ہیں۔‘
انہوں نے متنبہ کیا کہ معرکہ حق ہمارے ذہنوں میں تازہ ہے۔ اگلی مرتبہ ہمارا ردعمل اور بھی زیادہ مضبوط اور فیصلہ کن ہو گا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’اس میں کوئی ابہام نہیں ہونے دیں: پاکستان امن اور علاقائی استحکام کے لیے پرعزم ہے، لیکن اس کا خودمختاری کے دفاع کا عزم قطعی ہے۔ اس کی تیاری مکمل ہے اور اس کا ردعمل تیز، درست اور فیصلہ کن ہو گا۔‘
انہوں نے مزید لکھا کہ ’میں راج ناتھ سنگھ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ دو جوہری ریاستوں کے درمیان جنگ کی خواہش ناقابل فہم ہے اور اس کے سنگین نتائج ہیں۔‘
انہوں نے کہا: ’انڈیا کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ اپنے ہی سٹریٹجک اور سفارتی دائرے میں بڑھتی ہوئی بے چینی کا سامنا کرے۔‘