پنجاب کے محکمہ تحفظ ماحولیات کے مطابق سموگ کی موجودگی کے باوجود صوبے میں گذشتہ ایک سال کے دوران فضائی آلودگی نمایاں حد تک کم ہوئی ہے اور ایئرکوالٹی انڈیکس اوسطاً 150 پوائنٹس سے کم ہو کر 88 پوائنٹس پر آ گیا ہے۔
حکام کے مطابق یہ بہتری صوبائی حکومت کے مؤثر اقدامات اور ماحول دوست پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔
محکمے کا کہنا ہے کہ آلودگی میں کمی لانے کے لیے پانچ بڑے اقدامات کے لیے سالانہ بجٹ کو 500 ارب روپے سے بڑھا کر 1500 ارب روپے کر دیا گیا۔
اسی وجہ سے فضائی آلودگی کی اوسط سطح پانچ سالوں کے مقابلے میں سب سے کم ریکارڈ کی گئی ہے۔
گذشتہ برسوں میں لاہور سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں اکتوبر سے فروری تک شدید سموگ نے شہریوں کی زندگی مشکل بنا دی تھی حتیٰ کہ سانس لینا بھی دشوار ہو جاتا تھا۔
انہی حالات کے پیش نظر محکمہ ماحولیات نے اس سال سموگ سیزن میں واٹر گنز کے ذریعے سپرے جیسے فوری اقدامات کیے تاکہ ہوا میں موجود آلودہ ذرات کو دبایا جا سکے۔
ڈائریکٹر جنرل محکمہ تحفظ ماحولیات پنجاب ڈاکٹر عمران حامد نے بتایا کرونا کے دنوں میں فضائی آلودگی 90 پوائنٹس تک ریکارڈ کی گئی، لیکن اس کے بعد پانچ سال مسلسل اضافے کے باعث 150 پوائنٹس کی خطرناک حد تک پہنچ گئی، جس کے بعد پنجاب حکومت نے آلودگی پر قابو پانے کی خاطر خصوصی اقدامات کے بجٹ میں 188 فیصد تک اضافہ کیا۔‘
اسی سلسلے میں ایک خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی گئی جس نے فیکٹریوں اور فصلوں کی باقیات جلانے والوں کے خلاف کارروائیاں کیں۔
ڈاکٹر عمران حامد کے مطابق ’اس کے علاوہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی ٹیسٹنگ کی گئی اور صرف لاہور میں تین لاکھ گاڑیاں رجسٹرڈ ہوئیں، جن کے ٹیسٹ کیے گئے اور جو فیل ہوئیں انہیں سڑکوں پر آنے سے روکا گیا۔‘
ان کے مطابق ’ہم نے دن رات ہنگامی بنیادوں پر فضائی آلودگی میں اضافہ روکنے کے لیے چیکنگ کا سخت نظام قائم کیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’تعمیراتی کاموں کے دوران گرد پر قابو رکھنے کے لیے این او سی لازمی قرار دیا گیا ہے۔‘
فضائی آلودگی میں کمی کے اعدادوشمار کے حوالے سے انہوں نے کہا ’ان اقدامات سے لاہور میں 13 فیصد جب کہ سموگ کے سیزن میں پنجاب میں فضائی آلودگی میں 33 فیصد کمی ہوئی ہے جو ایک بڑی تبدیلی سمجھی جارہی ہے۔‘