کراچی میں ایئرپورٹ پر جنوبی کوریا جانے والے دو مسافروں کو مشکوک سفری ریکارڈ پر آف لوڈ کیے جانے کے بعد وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے مختلف کارروائیوں میں جعلی امیگریشن اسٹیمپس تیار کرنے والا منظم نیٹ ورک بے نقاب کر لیا۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق یہ پہلا کیس ہے جس میں اس نوعیت کی باقاعدہ ’سٹیمپ لیب‘ سامنے آئی ہے، جہاں جدید آلات کی مدد سے مختلف ممالک کی انٹری اور ایگزٹ مہریں تیار کر کے پاسپورٹس پر لگائی جاتی تھیں۔
ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل محمد اجمل میاں نے بتایا کہ جنوبی کوریا جانے والی پرواز سے آف لوڈ کیے گئے دونوں مسافروں، تیمور احمد اور سید امان، کے پاسپورٹس پر لگی سٹیمپس کو ریکارڈ سے ملا کر دیکھا گیا تو واضح تضادات سامنے آئے۔
اس کے بعد دونوں کو اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سیل منتقل کر دیا گیا۔
محمد اجمل کے مطابق ’یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے جس میں اس قدر منظم انداز میں جعلی امیگریشن سٹیمپس بنانے اور استعمال کرنے کی ’لیب‘ سامنے آئی ہے۔
اس نیٹ ورک کے ذریعے شہریوں کو من پسند ممالک کے جعلی سفری ریکارڈ کے ساتھ بیرون ملک بھجوانے کی کوشش کی جاتی تھی۔‘
ایف آئی اے کے مطابق کارروائیوں کے دوران دو ملزمان، محمد اسلم اور آصف الرحمان، سے تقریباً 100 پاکستانی پاسپورٹس، ایک افغانی اور ایک انڈین پاسپورٹ برآمد ہوئے۔
اس کے علاوہ 40 ممالک کی جعلی امیگریشن مہریں، مختلف قونصل خانوں کی سیلیں اور ویزا اسٹیکرز بھی ضبط کیے گئے۔
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ نیٹ ورک باقاعدہ تقسیم کار کے ساتھ کام کرتا تھا۔ کچھ افراد پاسپورٹس پر لگے پرانے ریجیکشن مٹانے یا صفحات ’واش‘ کرنے میں مہارت رکھتے تھے جبکہ دوسرے ممالک کی وہ مہریں تیار کرتے تھے جو بظاہر اصل سے مشابہ دکھائی دیتی تھیں۔
ایک ملزم مکمل پاسپورٹ صفحے تبدیل کر دینے تک کا کام کرتا تھا جبکہ دوسرا جنوبی افریقہ، انڈیا، بحرین اور دبئی سمیت متعدد ممالک کی انٹری و ایگزٹ سٹیمپس تیار کرتا تھا۔
ایف آئی اے کے مطابق یہ نیٹ ورک کینیڈا میں مقیم ایک انڈین خاتون کے لیے بھی جعلی پاسپورٹ تیار کر رہا تھا۔
محمد اجمل نے بتایا ’کینیڈا میں مقیم ایک انڈین خاتون کے لیے جعلی پاسپورٹ تیار کیا جا رہا تھا، جس پر انڈیا کی جعلی انٹری اور ایگزٹ سٹیمپس لگا کر اسے اسائلم کے عمل میں استعمال کرنے کا منصوبہ تھا۔‘
تحقیقات میں سامنے آیا کہ یہ پورا سیٹ اپ ایک غیر رسمی مارکیٹ کی طرح چل رہا تھا، جس میں ٹریول ایجنٹس، سہولت کار اور تکنیکی ماہرین آپس میں جڑے ہوئے تھے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
شہریوں سے پاسپورٹس لیے جاتے، جعلی ٹریول ہسٹری تیار کی جاتی اور پھر انہیں بیرون ملک داخلے کی کوشش کی جاتی۔
نیٹ ورک ایک پاسپورٹ تیار کرنے کے ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک چارج کرتا تھا۔
ایف آئی اے نے ملزمان کے خلاف پریوینشن آف سمگلنگ آف مائیگرنٹس ایکٹ 2018 سمیت مختلف قوانین کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے، جبکہ مزید گرفتاریوں کے لیے چھاپے جاری ہیں۔
گرفتار ملزم محمد اسلم نے بتایا ’وہ گذشتہ تقریباً ساڑھے تین سال سے اس نوعیت کا کام کر رہا ہے، جس میں مختلف افراد کے ذریعے اسے پاسپورٹس اور متعلقہ فائلیں فراہم کی جاتی تھیں… یہ کام مستقل نوعیت کا نہیں تھا بلکہ وقفے وقفے سے چند کیسز آتے تھے۔‘
انہوں نے مزید کہا ’یہ کام انہیں لاہور اور کراچی کے مختلف افراد کے ذریعے ملا تھا… انڈین پاسپورٹ کے لیے مخصوص دستاویزات اور ٹریول ہسٹری تیار کی جائے تاکہ ویزا پراسیس کے لیے استعمال ہو سکیں۔‘