امیگرنٹ ویزا پر عارضی وقفہ: ‎ہیوسٹن میں پاکستانی برادری میں خوف اور غیر یقینی

‎امریکی حکومت کی نئی پالیسی ان پاکستانی خاندانوں کے لیے بحران بن چکی ہے جو برسوں سے کاغذی کارروائی، فیسوں، بائیومیٹرکس اور سکیورٹی کلیئرنس کے مراحل کے بعد اپنے پیاروں سے ملاقات کے قریب تھے۔

‎ہیوسٹن امریکہ کا چوتھا بڑا شہر ہے اور یہ دنیا کے ان شہروں میں شامل ہے جہاں پاکستانی برادری کی بڑی تعداد آباد ہے، مگر آج اس شہر کے ہزاروں پاکستانی نژاد خاندانوں میں خوف، بے یقینی اور اضطراب ہے۔

‎اس کی وجہ امریکی حکومت کا وہ تازہ اعلان ہے، جس کے تحت پاکستان سمیت 75 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ ویزا پراسیسنگ کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔

یہ فیصلہ 21 جنوری سے نافذ العمل ہو گا اور اس کا براہ راست اثر ان افراد پر پڑے گا جو فیملی سپانسرشپ، شادی، والدین یا دیگر مستقل امیگریشن کی بنیاد پر امریکہ آنے کے منتظر ہیں۔

‎یہ محض ایک سرکاری پالیسی نہیں بلکہ ان خاندانوں کے لیے ایک ذاتی بحران بن چکی ہے جو برسوں سے کاغذی کارروائی، فیسوں، بائیومیٹرکس اور سکیورٹی کلیئرنس کے مراحل طے کر چکے تھے اور اب اپنے پیاروں سے ملاقات کے آخری مرحلے پر تھے۔

‎ہیوسٹن میں مقیم ایک پاکستانی نژاد خاتون کہتی ہیں ’امریکہ میں امیگریشن کا عمل اب بھی جاری ہے۔

’آئندہ دنوں میں امیگریشن کے معاملات واضح ہونے کی امید ہے کیونکہ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ یہ پابندی مستقل ہے یا عارضی۔‘

‎ایسے ہی بے شمار خاندانوں کی کہانیاں اس وقت ہیوسٹن سے نیویارک اور کیلی فورنیا تک سنائی دے رہی ہیں، جہاں پاکستانی برادری بڑی تعداد میں آباد ہے۔

‎کن ویزوں پر اثر پڑ رہا ہے؟

‎امیگریشن ماہرین کے مطابق یہ پابندی خاص طور پر امیگرنٹ ویزاز کو متاثر کرے گی جو مستقل رہائش (گرین کارڈ) کا راستہ ہوتے ہیں۔

‎ان میں شامل ہیں

•  شوہر یا بیوی کے ویزا

‎•  والدین کے ویزا

‎•  بچوں کے امیگرنٹ ویزا

‎•  فیملی بیسڈ سپانسرشپ کیسز

‎یہ پابندی ان لوگوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے جن کے کیسز پہلے ہی منظور ہو چکے تھے لیکن ابھی انٹرویو یا ویزا سٹیمپنگ باقی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

‎حکومت کیا کہتی ہے؟

‎امریکی حکومت کے مطابق یہ عارضی وقفہ ایک وسیع تر جائزے کا حصہ ہے، جس کا مقصد امیگریشن سکریننگ کے عمل کو مزید سخت اور مؤثر بنانا ہے، خاص طور پر پبلک بینیفٹس اور سکیورٹی خدشات کے تناظر میں۔

‎تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کی نہ تو واضح مدت بتائی گئی اور نہ ہی متاثرہ خاندانوں کے لیے کوئی متبادل یا واضح رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔

‎وکلا اور ماہرین کیا کہہ رہے ہیں؟

‎امیگریشن وکلا خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہ وقفہ طویل ہو گیا تو کیسز کا ایک بڑا بیک لاگ پیدا ہو سکتا ہے، جس کے اثرات آنے والے برسوں تک محسوس کیے جائیں گے۔

‎ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے فیصلے نہ صرف قانونی بلکہ انسانی سطح پر بھی سنگین اثرات ڈالتے ہیں۔

‎پاکستانی برادری میں خوف اور سوالات

‎ہیوسٹن کی پاکستانی برادری میں اس وقت یہ سوال گردش کر رہے ہیں کہ

‎• کیا ہمارے کیس منسوخ ہو جائیں گے؟

‎• کیا انٹرویوز ملتوی ہوں گے؟

‎• کیا ہم اپنے پیاروں سے مل پائیں گے، یا یہ انتظار مہینوں بلکہ سالوں پر محیط ہو جائے گا؟

‎کمیونٹی لیڈرز کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ نفسیاتی دباؤ، ذہنی صحت کے مسائل اور خاندانی تناؤ میں اضافہ کر رہا ہے۔

‎متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ وہ حکومت سے صرف ایک چیز مانگ رہے ہیں: وضاحت اور انسانیت۔

‎آگے کیا ہو گا؟

‎فی الحال اس فیصلے کے مستقبل کے بارے میں کوئی واضح ٹائم لائن سامنے نہیں آئی۔

‎خاندان امید کر رہے ہیں کہ یا تو اس فیصلے میں نرمی کی جائے یا کم از کم پہلے سے منظور شدہ کیسز کو استثنیٰ دیا جائے، ‎جب تک کوئی واضح اعلان نہیں ہوتا، ہیوسٹن سمیت پورے امریکہ میں ہزاروں پاکستانی خاندان انتظار کی کیفیت میں مبتلا رہیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ