میانمار میں گلاب کے پھولوں پر پابندی کیوں لگائی جا رہی ہے؟

گلاب کا پھول معزول رہنما آنگ سان سوچی کا پسندیدہ پھول ہے، جو19 جون کو 81 برس کی ہوگئیں۔

میانمار میں گلاب کے پھولوں کی خریدوفروخت اور نمائش اس ہفتے جرم بننے جا رہی ہے کیوں کہ حکومت آنگ سان سوچی کی 81 ویں سالگرہ کے موقعے پر ہونے والے مظاہروں کو کچلنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اس احتجاجی تحریک میں خواتین سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے بالوں میں گلاب لگائیں۔ لوگوں کو بدھ مندروں میں گلاب چڑھانے کی ترغیب دی جا رہی ہے اور سوشل میڈیا پر اس تحریک کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی جا رہی ہے۔

گلاب کا انتخاب اس لیے کیا گیا کیوں کہ یہ معزول رہنما آنگ سان سوچی کا پسندیدہ پھول ہے اور اس ماہ شروع ہونے والی ’روزز آف ہوپ تحریک‘ ملک کے 20 ہزار سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کرنے کا ایک بالواسطہ طریقہ ہے۔

لیکن اس پابندی کی خلاف ورزی کرنے والا کوئی بھی شخص، اس غریب جنوب مشرقی ایشیائی ملک کی بدنام زمانہ جیلوں میں ان قیدیوں کی تعداد میں اضافے کا خطرہ مول لے گا۔

اور اس بات کا بھی کوئی یقین نہیں ہے کہ آنگ سان سوچی، جو اقوام متحدہ میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کے دعوؤں کے خلاف فوجی حکومت کا دفاع کرنے کے بعد ایک متنازع شخصیت بن گئی تھیں، اب بھی زندہ ہیں، جس کی وجہ سے ان کے حامی ان کے زندہ ہونے کا ثبوت مانگ رہے ہیں۔

جیسا کہ حال ہی میں لیک ہونے والی ایک یادداشت سے انکشاف ہوا ہے، چین نے تعلقات معمول پر لانے کے لیے پیشگی شرط کے طور پر آنگ سان سوچی کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا اور 30 اپریل کو اعلان کیا گیا کہ انہیں اور ان کے سابق ساتھی یو ون مینٹ کو جیل سے گھر پر نظر بند کیا جا رہا ہے۔

لیکن شائع ہونے والا واحد تصویری ثبوت، جس میں آنگ سان سوچی کو فوج کے دو افسروں کے ساتھ بیٹھے دکھایا گیا، برسوں پرانا تھا۔ اس کے بعد سے یو ون مینٹ کے خاندان نے ان سے ملاقاتیں کی ہیں، لیکن 2023 سے کسی نے سوچی کو نہیں دیکھا اور نہ ہی ان کے بارے میں کچھ سنا ہے۔

آسٹریلوی ماہر معاشیات شان ٹرنل، جنہوں نے بغاوت تک ان کے سینیئر اقتصادی مشیر کے طور پر خدمات انجام دیں اور بعد ازاں تقریباً دو سال جیل میں گزارے، نے کہا کہ ’یہ انتہائی تشویش ناک ہے۔ انہوں نے ان کی جیل سے منتقلی کا اعلان اس لیے کیا تھا تاکہ انہیں کسی قسم کی رعایت مل سکے اور وہ خود کو معمول کی ایک حکومت کے طور پر پیش کرنے اور اپنی انتہائی خراب سفارتی حالت کو بہتر بنانے کی کوشش کر سکیں۔

’یہ حقیقت واقعی تشویش ناک ہے کہ وہ ان کے زندہ ہونے کا کوئی ثبوت، کوئی تصویر، یا ان کی اصل حالت کے حوالے سے کوئی تازہ ترین معلومات شیئر نہیں کر رہے، کیوں کہ ایسا کرنے کی ان کے پاس ہر ممکن وجہ موجود ہے۔‘

 

ملک کے اندر سے بات کرتے ہوئے سابق صحافی مونگ مونگ نے مزید کہا: ’کوئی بھی دراصل ڈاؤ آنگ سان سوچی کی موجودہ صحت کے بارے میں نہیں جانتا اور نہ ہی یہ معلوم ہے کہ وہ اب بھی زندہ ہیں یا نہیں۔‘

صحافی نے مزید کہا: ’میں نے حکام کے قریبی اپنے ذرائع سے پوچھا ہے، لیکن انہیں بھی ان کی صورت حال کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔ ذاتی طور پر، اب مجھے یقین نہیں رہا کہ وہ اب بھی زندہ ہیں۔ بہت سے نجومی اور قسمت کا حال بتانے والے بضد ہیں کہ وہ زندہ ہیں اور بہت سے لوگ ان کی بات مانتے بھی ہیں، لیکن میں نہیں مانتا۔‘

اس پُر اسراریت کے باوجود، چین نے اپنے شکوک و شبہات کو پس پشت ڈال کر تعلقات معمول پر لانے پر اتفاق کر لیا ہے اور نئی دہلی میں انڈین وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقات کے بعد، فوجی حکومت کے سربراہ اور موجودہ صدر من آنگ ہلاینگ اس ہفتے بیجنگ میں اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔

 

فروری 2021 میں بغاوت کے بعد شروع ہونے والی خانہ جنگی اب بھی شدت سے جاری ہے۔ حالیہ ہفتوں میں فوج کی بمباری میں درجنوں شہری جان گنوا چکے ہیں اور ملک کے بڑے حصے اب بھی باغیوں کے قبضے میں ہیں اور بین الاقوامی سفارتی سطح پر تسلیم کیا جانا اس حکومت کی فوری ترجیح بن گیا ہے۔

اقوام متحدہ اور جنوب مشرقی ایشیا کی بین الحکومتی تنظیم آسیان مدد کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، لیکن روس، جو فوجی امداد فراہم کرتا ہے اور میانمار کے دو بڑے پڑوسی ممالک نے اس حوالے سے تعاون کیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دونوں ممالک کی اپنی اپنی وجوہات ہیں۔ مسلسل بے امنی کی وجہ سے، انڈیا اور میانمار کی سرحد پر موجود باغی انڈیا کے لیے درد سر بنے ہوئے ہیں۔ چین کے لیے یہ مسائل زیادہ ٹھوس نوعیت کے ہیں۔

شان ٹرنل نے کہا: ’چین نے بغاوت سے ملنے والے موقع کا بھرپور فائدہ اٹھایا ہے اور اپنے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبوں کو آگے بڑھا رہا ہے۔‘

ان منصوبوں میں انتہائی شمال میں واقع وسیع اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والا مائٹ سون ڈیم منصوبہ بھی شامل ہے، جسے گذشتہ حکومت نے منسوخ کر دیا تھا لیکن اب اس پر دوبارہ کام شروع ہو گیا ہے۔

سب سے متنازع منصوبہ میانمار کے آر پار خلیج بنگال پر کیاوکپیو تک ریلوے لائن بچھانے کا ہے، جو چین کو بحر ہند تک رسائی دے گا، لیکن اب تک اس میں بہت کم پیش رفت ہوئی ہے کیوں کہ ساحلی علاقے کا زیادہ تر حصہ حکومت کے مخالفین کے کنٹرول میں ہے۔

میانمار ان اہم معدنیات کے تقریباً 40 فیصد حصے کا ذریعہ بھی ہے جو چین کی معیشت کے لیے ناگزیر ہیں اور یہ چین کی جانب سے میانمار کے فوجی دور حکومت کو نظر انداز کرنے کی ایک اور وجہ ہے۔

میانمار کی مشرقی سرحدوں پر قائم ہونے والے بڑے سکیم سینٹر کمپاؤنڈز کے پھیلاؤ کو روکنے کی بھی ایک مشترکہ خواہش موجود ہے۔ یہ مراکز منی لانڈرنگ، آن لائن فراڈ اور کرپٹو کرنسی کی دھوکہ دہی میں مہارت رکھتے ہیں اور جعلی ملازمتوں کا جھانسہ دے کر ایتھوپیا، کینیا اور برازیل جیسے دور دراز ممالک سے لوگوں کو لا کر بھرتی کرتے ہیں۔

میانمار کی حکومت کے عروج کے دنوں میں سوچی کے ساتھ کام کرنے کے سالوں کے دوران، شان ٹرنل نے کئی سینیئر فوجی افسروں سے دوستی کر لی تھی جو اپنے سب سے بڑے سربراہ پر سخت تنقید کرتے تھے۔

شان ٹرنل کے مطابق: ’وہ 2011 میں فوج کے سربراہ بننے والے من آنگ ہلاینگ کو بے پناہ پرعزم لیکن حد درجہ نااہل سمجھتے تھے اور وہ فوج میں موجود بہت سے لوگوں کے درمیان بالکل بھی مقبول نہیں تھے۔‘ لیکن فی الحال وہ محفوظ دکھائی دیتے ہیں۔

برما کے معاملات پر گہری نظر رکھنے والے ایک تجربہ کار تجزیہ کار برٹل لنٹنر نے مزید کہا: ’ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے والی اور چین کی پشت پناہی رکھنے والی فوج، پہلے سے کہیں زیادہ مضبوطی سے اقتدار پر قابض دکھائی دیتی ہے۔

’مسلح مزاحمت جاری رہے گی، لیکن اس سے کوئی قابل ذکر خطرہ پیدا نہیں ہوگا۔ میانمار میں آپ کو مارکس کے مشہور قول کا الٹ دیکھنے کو ملتا ہے: تاریخ خود کو دہراتی ہے، کسی مذاق کے طور پر نہیں بلکہ ایک المیے کے طور پر، جس میں عوام کی کوئی رائے نہیں ہوتی۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا