آزادی مارچ میں شرکت: ن لیگ میں دھڑے بندیاں واضح ہو گئیں

پارٹی کے اہم مشاورتی اجلاس میں نواز شریف کے قریبی ساتھیوں کو بلایا نہیں گیا، آزادی مارچ میں شہباز شریف کے شامل ہونے پر ابہام تاحال باقی۔

لاہور میں منعقدہ مشاورتی اجلاس کی ایک تصویر

پاکستان مسلم لیگ ن کے آزادی مارچ سے متعلق ہفتے کو ہونے والے ایک اہم مشاورتی اجلاس میں پارٹی قائد نواز شریف کے قریبی اور ہم خیال رہنماؤں کی عدم شرکت نے پارٹی کے اندرونی اختلافات واضح کر دیے۔

سابق وزیر اعظم نوازشریف نے جمعے کواحتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر مولانافضل الرحمن کے27 اکتوبر کو شیڈول آزادی مارچ میں پارٹی کی شرکت کا واضح اعلان کیا تو پارٹی صدر شہباز شریف نے مشاورتی اجلاس اپنی رہائش گاہ پر بلایا۔

شہباز شریف اپنے بڑے بھائی سے ملاقات کے لیے جمعرات کو کوٹ لکھپت جیل نہ پہنچے تو نواز شریف کوایک  خط لکھ کر انہیں ہدایات بھیجنا پڑیں۔

ماڈل ٹاؤن ، لاہور پر بلائے گئے اجلاس میں ن لیگ کے رہنما راجہ ظفر الحق،محمد زبیر، پرویز رشید ودیگر شریک نہیں ہوئے۔

ذرائع نے بتایا کہ انہیں مدعو ہی نہیں کیا گیا تھا۔ مشاورتی اجلاس کے بعد پارٹی رہنما شہباز شریف کی آزادی مارچ میں شرکت سے متعلق واضح جواب نہ دے سکے بلکہ صحافیوں کے جوابات میں دوٹوک موقف سے اجتناب کرتے رہے۔

پارٹی رہنما صرف یہی کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف کی ہدایات پر عمل ہوگا، لیکن کون کون عمل کرے گا اور کس طرح ہو گا یہ نہیں واضح کیا جا رہا۔

مسلم لیگ ن ابہام کا شکار کیوں؟

پارٹی اجلاس میں نواز شریف کے بیانیہ کو اپنانے والے رہنماؤں کی عدم موجودگی پر نواز شریف کا شہباز شریف کو لکھا گیا خط پڑھ کر سنایا گیا۔

اجلاس میں ملک کی موجودہ سیاسی، معاشی اور مہنگائی کی صورتحال پر تبادلہ خیال بھی ہوا جبکہ پارٹی کے اندرونی معاملات اور اطلاعات باہر نکلنے کے معاملے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ یہی وجہ تھی اس بار شرکت کرنے والے رہنماؤں کے موبائل فون بھی باہر رکھوا دیے گئے۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ آج کے مشاورتی اجلاس میں شہباز شریف نے نواز شریف کے خط کے مندرجات پڑھ کر سنائے۔

’نواز شریف کی خواہش ہے کہ پارٹی اپنے اجلاس کے بعد مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کر کے آزادی مارچ کے پروگرام کو حتمی شکل دے۔‘

انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے آزادی مارچ کے مقاصد سے اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت سے نجات کے لیے مہم شروع کی جائے۔

احسن اقبال نے مزید کہا کہ پارٹی نے نواز شریف کے خط کے مندرجات سے مکمل اتفاق کیا ہے، کل مولانا فضل الرحمٰن سے پارٹی کا وفد ملاقات کر کے آزادی مارچ کی حکمت عملی ترتیب دے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ گذشتہ پارٹی اجلاس کے حوالے سے میڈیا پر مختلف خبریں چلائی گئیں ، صرف پارٹی صدر، جنرل سیکریٹری اور سیکریٹری اطلاعات پارٹی کا پالیسی بیان دے سکتے ہیں، ان کے علاوہ کسی کا بھی بیان اس کا ذاتی بیان ہو سکتا ہے، پارٹی کا نہیں ۔

انہوں نے پارٹی میں تقسیم کی قیاس آرئیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف نواز شریف کے اعتماد اور جنرل کونسل کے اعتماد سے صدر منتخب ہوئے، پارٹی میں کوئی تقسیم نہیں بلکہ سب ایک ہیں۔

’نواز شریف کا نظریہ اور ان کی قیادت پر سب کارکن اور عہدے دار مکمل اعتماد اور یقین رکھتے ہیں۔۔۔ افواہ سازی کی فیکٹریاں بند ہونی چاہییں۔ انہوں نے کہا ذاتی بیماری کو متنازع بنایا جانا لمحہ فکریہ ہے، شہباز شریف کو کمر کی تکلیف کا پرانا مسئلہ ہے۔‘

مسلم لیگ ن ذرائع کے مطابق پارٹی آزادی مارچ میں اپنی شمولیت کی حکمت عملی مزید گرفتاریوں کے خوف سے آشکار نہیں کرنا چاہتی، اسی وجہ سے ابھی تک لاہور سے روانگی کی تاریخ اور مقام کا اعلان نہیں کیا گیا۔

ذرائع نے شہباز شریف کی شرکت سے متعلق شکوک شبہات کا اظہار کیا کہ اگر انہوں نے شرکت کی بھی تو کمر درد کی تکلیف کے باعث لاہور سے روانگی کے وقت خطاب کریں گے جبکہ اسلام آباد تک احسن اقبال و دیگر رہنما قیادت کریں گے۔

واضح رہے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری آزادی مارچ میں شرکت کا اعلان کر چکے ہیں جبکہ عوامی نیشنل پارٹی نے بھی رضامندی کا اظہار کردیا ہے۔ ایسی صورتحال میں سب مسلم لیگ ن کی حکمت عملی پر نظریں لگائے بیٹھے ہیں۔

آزادی مارچ کے حکومت پر ممکنہ اثرات

دوسری جانب، حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جانب سے آزادی مارچ کے خلاف بیان بازی میں شدت آتی جا رہی ہے۔

معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ نواز شریف کے آزادی مارچ میں شرکت کے اعلان نے واضح کر دیا کہ مولانا فضل الرحمان قید اپوزیشن لیڈروں کے لیے جیل کے دروازے توڑنے کے لیے آزادی مارچ کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا مارچ اور دھرنوں کے بے مقصد ہونے کی وجہ سے ن لیگ کے بعض رہنما اختلاف کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا اپوزیشن جماعتیں اپنی سیاسی ساکھ بچانے کے لیے مشکلات کھڑی کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں اور کئی رہنما جانتے ہیں ان کے جلسے جلوس اور دھرنوں سے حکومت کو کمزور نہیں کیا جا سکتا۔

سینیئر صحافی سلمان غنی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ ٰکیا کہ ان کی شہبازشریف سے بات ہوئی ہے، جس میں سابق وزیر اعلی پنجاب نے کہا کہ نواز شریف کا حکم سر آنکھوں پر، لیکن ن لیگ مولانا فضل الرحمان کے مقاصد واضح ہونے تک ان کے ساتھ ایک روزہ احتجاج کے علاوہ کسی پلان میں شریک نہیں ہو سکتی۔

 انہوں نے کہا شہباز شریف کو یہ شکوہ بھی ہے کہ مولانا فضل الرحمان اپنی حکمت عملی میں شدت رکھتے ہیں اور انہوں نے ’ہمیں اور پیپلز پارٹی کو مکمل اعتماد میں نہیں لیا یہاں تک کہ آزادی مارچ کی تاریخ کا اعلان بھی اپوزیشن کی متفقہ رائے سے نہیں کیا گیا۔‘

سلمان غنی نے بتایا کہ جتنا وہ شہباز شریف کو جانتے ہیں وہ اس آزادی مارچ کی قیادت نہیں کریں گے۔ ان سے پوچھا گیا کہ نواز شریف کے خط میں ہدایت کے باوجود وہ اجتناب کیوں کر رہے ہیں تو انہوں نے جواب دیا نواز شریف کے خط میں واضح ہدایت کی گئی ہے کہ آزادی مارچ میں نہ صرف بھر پور شرکت کی جائے بلکہ اسے اسلام آباد کے علاوہ پشاور، کراچی، لاہور، کوئٹہ تک پھیلایا جائے لیکن اس کے باوجود شہباز شریف اپنے تحفظات پر قائم ہیں۔

سلمان غنی کے مطابق، شہباز شریف نے احسن اقبال کی قیادت میں پارٹی وفد کو مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کر کے مقاصد واضح کرنے کی ہدایت کی ہے ۔

انہوں نے کہا شہباز شریف کا موقف ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کے پاس گنوانے کو کچھ نہ جبکہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ ملک کی بڑی جماعتیں ہیں جن کی اسمبلیوں میں بھاری تعداد ہے، لہٰذا ایسی صورتحال میں نظام کو نقصان پہنچانا جمہوریت اور سیاسی جماعتوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست