پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستانی کوہ پیما ڈاکٹر اسما مشتاق کی لاش کیمپ تھری کے قریب سے مل گئی ہے جس کی بحفاظت واپسی اور بیس کیمپ تک منتقلی کے انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر پیر کو اپنی ایک پوسٹ میں وفاقی وزیر اطلاعات نے سپانتک پہاڑ پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کی تازہ ترین تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم نے کیمپ تھری کے قریب ڈاکٹر اسما مشتاق کی میت تلاش کرلی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ریسکیو ٹیم مقام کی صورت حال کا جائزہ لے رہی ہے اور بلند و دشوار گزار پہاڑی علاقے میں موجود خطرات کے پیش نظر میت کو بحفاظت نکالنے اور بیس کیمپ تک منتقل کرنے کے انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
الپائن کلب پاکستان کے 21 اگست کے بیان کے مطابق اسما مشتاق 7027 میٹر بلند سپانٹک چوٹی سے واپسی کے دوران طبی ایمرجنسی کے باعث انتقال کر گئیں تھیں۔
انہوں نے صحت مند حالت میں چوٹی کامیابی سے سر کی لیکن واپسی ان کی حالت بگڑ گئی اور انہیں مشکل حالات میں بچانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن وہ جانبر نہ ہو سکیں۔
کلب کے جنرل سیکریٹری ایاز شگری نے بیان میں بتایا تھا کہ مختلف ٹیموں سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما ڈاکٹر اسما کی لاش نکالنے کے لیے آپریشن میں شریک ہیں اور یہ کارروائی ان کی اپنی ایکسپیڈیشن کمپنی کی نگرانی میں متعلقہ حکومتی اداروں اور الپائن کلب کے تعاون سے جاری ہے۔
کلب نے اس معاملے میں غلط معلومات پھیلانے سے گریز کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر اسما کی موت کے حالات اور ایکسپیڈیشن کمپنی کے کردار کی تحقیقات ریسکیو ٹیموں کی محفوظ واپسی اور لاش کی بازیابی کے بعد کی جائیں گی۔
ڈاکٹر اسما کا تعلق لاہور سے تھا اور وہ برطانیہ میں زچگی اور امراض نسواں کی ڈاکٹر کے طور پر کام کر رہی تھیں۔ وہ کوہ پیمائی اور سفر کی شوقین تھیں اور اپنی مہمات کو سوشل میڈیا پر بھی دستاویزی شکل دیتی تھیں۔
الپائن کلب آف پاکستان نے ریکوری آپریشن کی ترجیحات واضح کرتے ہوئے کہا کہ ’اس وقت ہماری ترجیح ڈاکٹر اسما کی لاش کی محفوظ اور باوقار انداز میں بازیابی ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
گلگت بلتستان کے ضلع شگر میں واقع سپانتک چوٹی پر خراب موسم کے باعث ڈاکٹر اسما مشتاق کی لاش نکالنے کی کوششوں میں مشکلات کے بعد ہیلی کاپٹر کے استعمال کی منظوری دے دی گئی تھی جب کہ گلگت بلتستان حکومت اور فورس کمانڈ ناردرن ایریاز کے درمیان رابطہ قائم کیا گیا۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے 23 اگست کو ایکس پوسٹ میں بتایا تھا کہ’شدید برف باری اور تیز ہواؤں کے باعث ریکوری ٹیم کو کیمپ تھری کے قریب سے واپس کیمپ ٹو آنا پڑا۔ تاہم لاش کی بازیابی کے لیے متبادل انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں اور موجودہ حالات میں جو کچھ ممکن ہوا وہ کیا جائے گا۔‘
اپنے ایکس اکاؤنٹ پر انہوں نے مزید کہا وزیراعظم شہباز شریف کو صورتحال سے مسلسل آگاہ رکھا جا رہا ہے۔
سپانتک چوٹی پر ڈاکٹر اسما کی لاش نکالنے کی کوشش شدید برف باری اور تیز ہواؤں کے باعث روک دی گئی تھی۔