بلوچستان کی سرنگ جس کا نام رقاصہ کے نام پر رکھا گیا

بلوچستان میں ڈیڑھ صدی قبل کھودی جانے والی سرنگوں کی دلچسپ کہانیاں۔

خوجک سرنگ انگریزوں نے روس کا مقابلہ کرنے کے لیے سوا صدی قبل بنائی تھی لیکن بلوچستان کے عوام اس سے آج سے بھی  استفادہ کر رہے ہیں (Amanullahkhan007 )

بلوچستان میں ایک صدی قبل بنائی جانے والی ریلوے سرنگیں آج بھی اپنی صحیح حالت میں موجود ہیں جن کا طرز تعمیر منفرد ہونے کے ساتھ ساتھ بنانے والوں کی کمال مہارت کی عکاسی کرتا ہے۔

برطانوی دور حکومت میں بلوچستان کے خشک اور سنگلاخ پہاڑوں میں دفاعی نقطۂ نگاہ کے پیش نظر چٹانوں کا سینہ چیر کر ریلوے لائن اور سرنگیں بنائی گئیں جس کی باقاعدہ منظوری 1876 میں وائسرائے ہند لارڈ لٹن نے دی اور اس پر تعمیر کا کام 1879 میں شروع ہوا۔

انگریز اس سنگلاخ اور دشوار پہاڑی علاقے میں ریلوے کا جال بچھانے میں کیوں دلچسپی رکھتے تھے؟ اس کی وجہ گریٹ گیم ہے۔ انگریزوں کو خطرہ تھا کہ روس مشرق کی طرف بڑھتے بڑھتے کہیں ہندوستان نہ آ پہنچے، اس لیے وہ اس علاقے کو ریلوے کے ذریعے بقیہ ہندوستان سے ملانا چاہتے تھے تاکہ ممکنہ روسی حملے کا فوری جواب دینے کے لیے فوجوں اور رسد کی ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے۔

بلوچستان میں ریلوے کی بیشتر سرنگیں کسی مخصوص علاقے یا نام سے منسوب کی گئی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ خوجک یا شیلا سرنگ کا نام اس وقت کی مشہور رقاصہ شیلا کے نام سے منسوب کیا گیا۔ دن بھر پہاڑ کھودنے کی کمر توڑ مشقت کے بعد شام کے وقت عملہ اور مزدور اس رقاصہ کا رقص دیکھ کر محظوظ ہوا کرتے تھے۔

بلوچستان کے سینیئر تجزیہ کار اور مصنف و محقق ڈاکٹر عرفان بیگ کہتے ہیں کہ خوجک سرنگ کی تعمیر کے دوران انجینیئر کو گمان گزرا کہ شاید سرنگ کی تعمیر کی کھدائی کا اندازہ غلط ہوا ہے۔ یہ صدمہ اس سے برداشت نہ ہو سکا اور اس نے خودکشی کر لی۔ تاہم بعد میں پتہ چلا کہ سرنگ بالکل ٹھیک کھودی گئی تھی اور اس کے  کھودے گئے دونوں سرے آپس میں ٹھیک طرح سے مل گئے۔

اس سرنگ کی تعمیر کا کام 1888 میں شروع ہوا اور 1891 میں اختتام پذیر ہوا۔

کھدائی کے دوران اندھیری سرنگ کو روشن کرنا بہت بڑا مسئلہ تھا۔ اس کا حل یہ نکالا گیا کہ سرنگ کے دہانے کے قریب بہت بڑے آئینے رکھے گئے جن سے سورج کی روشنی منعکس کر کے سرنگ کے اندر کی تاریکی دور کرنے کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔

ڈاکٹر عرفان بیگ کہتے ہیں کہ خوجک سرنگ کی تعمیر کے فوراً بعد آسٹریلیا میں جب اس طرز کی سرنگ تعمیر کی جا رہی تھی تو خوجک سرنگ کا عملہ ہی وہاں پہنچا اوراس  سرنگ کی تعمیر کا کام مکمل کیا۔

دوزان ریلوے سٹیشن کے ساتھ واقع سرنگ کو ونڈی کارنر کہتے ہیں اس سرنگ کا نام یہاں چلنے والی ہوائوں کی وجہ سے رکھا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کولپور اور دوزان کے درمیان واقع سرنگ میری جین کے نام سے مشہور ہے، سرنگ کی تعمیر کے دوران انجینیئر کی اہلیہ کے ہلاک ہونے کے بعد ان کی قبر اس سرنگ کے اوپر بنائی گئی، جس کی وجہ سے اس سرنگ کا نام میری جین رکھا گیا۔

اس دور میں بنائی گئیں ریلوے لائن اور سرنگوں کی تعمیر میں خوبصورتی کا عنصر نمایاں نظر آتا ہے جو آج بھی اپنی نوعیت اور مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ریلوے کے ریٹائرڈ انجیینئر محمد علی آج بھی انگریز دور کی بنائی گئی سرنگوں کے فن تعمیر کے مداح ہیں اور کہتے ہیں انگریر اپنے کام کے ساتھ سچے تھے اور محنت لگن کے ساتھ کوئی کام کرتے تھے جس کا منہ بولتا ثبوت ڈیڑھ صدی قبل تعمیر کی جانیں والی یہ سرنگیں ہیں۔

بلوچستان میں اس وقت چھوٹی بڑی 30 کے قریب ریلوے سرنگیں ہیں جن میں شیلا باغ  سرنگ کی لمبائی 12 ہزار 860 فٹ ہے اور اس کا شمار دنیا کی طویل ترین سرنگوں میں کیا جاتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ