باون سو افراد کے قتل میں ’شریک‘ 93 سالہ شخص پر مقدمہ

ایک سابق نازی گارڈ پر پانچ  ہزار دو سو تیس افراد کے قتل میں سہولت کاری کرنے پر مقدمہ قائم کر دیا گیا ہے۔

وہیل چیئر کی مدد سے حرکت کرنے والے برونو ڈے نے کیمپ کا گارڈ ہونے کی تردید نہیں کی (دی انڈپینڈنٹ)

ایک سابق نازی گارڈ پر پانچ  ہزار دو سو تیس افراد کے قتل میں سہولت کاری کرنے پر مقدمہ قائم کر دیا گیا ہے۔

برونو ڈے نامی 93 سالہ شخص اگست 1944 سے اپریل 1945 تک پولینڈ کے شہر گڈنسک میں واقع سٹٹہاف کے حراستی کیمپ میں حفاظتی گارڈ کے طور پر تعینات تھے۔

ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جن کے مطابق انہوں نے قتل کے ان واقعات میں براہ راست کوئی کردار ادا کیا ہو لیکن استغاثہ کے مطابق انہوں نے بطور گارڈ قتل کی ان وارداتوں کو یقنی بنانے میں کردار ادا کیا۔

’الزامات کے مطابق وہ نازی نظریے کے پیروکار نہیں تھے لیکن انہوں نے نازیوں کی جانب سے کیے جانے والے مظالم کے خلاف آواز نہیں اٹھائی۔‘

وہیل چیئر کی مدد سے حرکت کرنے والے برونو ڈے نے کیمپ کا گارڈ ہونے کی تردید نہیں کی۔ انہوں نے تفتیش کرنے والوں کو اپنی ملازمت کی مکمل تفصیلات فراہم کی ہیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ کیسے 17 سال کی عمر میں انہیں جنگ کے لیے ان فٹ قرار دینے کے بعد اپنے آبائی علاقے کے قریب ایک حراستی کیمپ کی حفاظت پر مامور کیا گیا تھا۔ حالیہ برسوں میں استغاثہ نے کامیابی سے ان کیمپوں کے سابقہ گارڈز کے خلاف مقدمے لڑے ہیں جن میں یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ انہوں نے سوبیبور اور آوشوٹز کے حراستی کیمپوں میں ہونے والے قتل عام میں سہولت کاری کی تھی۔

2015 میں آوشوٹرز گارڈ اوسکر گرویننگ کے خلاف جرمن فیڈرل کورٹ نے اس موقف کو تسلیم کیا تھا جس سے اس کو مزید تقویت ملی تھی۔ برونو ڈے کے کیس یہی موقف اب حراستی کیمپوں کے گارڈز کے خلاف بھی لیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل یہ صرف موت کے کیمپوں کے گارڈز تک محدود تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

استغاثہ کو یقین ہے کہ یہ قانون یہاں بھی لاگو ہوتا ہے کیوں کہ سٹٹہاف کیمپ میں ہزاروں لوگ قتل ہوئے تھے باقی کیمپوں کے برعکس یہاں لانے کا مقصد صرف لوگوں کو قتل کرنا نہیں تھا۔  

برونو کے وکیل سٹیفن واٹرکامپ نے عدالت سے سوال کیا کہ’ یہ ذمہ داریوں کا سلسلہ کہاں ختم ہوتا ہے۔ اس مقدمے کو اس سوال کا جواب ضرور دینا ہو گا۔‘

سٹٹہاف کیمپ جرمنی کی جانب سے 1939 میں ڈانزگ کے مشرق میں قائم کیا گیا تھا اور اسے یہودی اور غیر یہودی پولش شہریوں کو شہروں سے بے دخلی کے بعد ایک جگہ نظر بند رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

1940 سے یہ نام نہاد ’تربیتی کیمپ ‘ کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا جہاں پولش اور روسی شہریوں سے جبری مشقت کروائی جاتی تھی، ان سخت سزاؤں کے دوران اکثر قیدیوں کی موت واقع ہو جاتی تھی۔ یہاں سیاسی قیدیوں کے علاوہ جرائم پیشہ افراد، ہم جنس پرست افراد اور گواہان یاہوا نامی مسیحی مذہب کے افراد کو رکھا جاتا تھا۔

1944 کے وسط سے برونو ڈے اس کیمپ پر تعینات تھے۔ یہاں ہزاروں یہودیوں کو قید رکھا گیا تھا جنہیں نازی فوجو بالٹکس اور آوشوٹرز کے علاقوں سے قید کر کے لائے تھے۔ وارسا شورش کے ظالمانہ انداز میں کچلنے کے بعد یہاں ہزاروں پولش شہریوں کو بھی یہاں لایا گیا تھا۔

ساٹھ ہزار لوگوں کو گولی مار کر، بھوکا رکھ کر اور پیٹرول یا فنائل کے انجیکشن براہ راست ان کے دل میں لگا کر موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا۔ کئی افراد کو سخت سردی میں ٹھٹھر کے مرنے کے چھوڑ دیا گیا تھا اور باقیوں کو گیس چیمبرز بھیج دیا گیا۔

ان کیمپوں سے زندہ بچ جانے والے تین درجن افراد کے رشتہ دار بھی اس قانونی کارروائی میں فریق بن چکے ہیں۔ جرمن قوانین میں اس کی اجازت دی گئی ہے۔ ان افراد میں نیو یارک کے فلم ساز بین کوہن کے دادا بھی ان بچ جانے والے افراد میں شامل تھے لیکن ان کی پردادی اس دوران گیس چیمبر میں ہلاک ہو گئیں تھیں جب برونو ڈے وہاں بطور گاڑد تعینات تھے۔

اس رپورٹ میں اے پی کی معاونت بھی شامل ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا