بریگزٹ میں تاخیر کے لیے قرار داد منظور، مگر وزیر اعظم ڈیڈ لائن پر بضد

برطانوی پارلیمنٹ نے ایک قرارداد منظور کی ہے جس کے تحت وزیر اعظم بورس جانسن یورپی یونین سے بریگزٹ کے لیے 31 اکتوبر کی ڈیڈ لائن میں توسیع کی درخواست کرنے پر مجبور ہوں گے۔ تاہم، جانسن 31 اکتوبر کی ڈیڈلائن پر بضد ہیں۔

1982 میں فاک لینڈز  بحران کے بعد پہلی مرتبہ برطانوی پارلیمنٹ بریگزٹ کے اہم مسئلے پر ہفتے کو اجلاس منعقد کر رہی ہے۔ اس دوران سڑکوں پر وزیر اعظم بورس جانسن اور ان کے خصوصی مشیر ڈومینک کمنگز کے خاکوں پر مبنی غبارے دیکھے جا سکتے ہیں (روئٹرز)

 برطانوی پارلیمنٹ نے ہفتے کو ایک قرارداد منظور کی ہے جس کے تحت وزیر اعظم بورس جانسن یورپی یونین سے بریگزٹ کے لیے 31 اکتوبر کی ڈیڈ لائن میں توسیع کی درخواست کرنے پر مجبورہوں گے۔ نئی بریگزٹ ڈیل پر رائے شماری بھی ملتوی ہو گئی ہے۔

تاہم، جانسن نے 31 اکتوبر کی بریگزٹ ڈیڈلائن پر قائم رہنے کا اعلان کیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وزیراعظم جانسن نے پارلیمنٹ کو بتایا ارکان پارلیمنٹ نے یورپی یونین سے علیحدگی کے معاہدے پربامعنی ووٹ دیے لیکن آج ان ووٹوں کا کوئی مطلب نہیں رہا۔

 انہوں نے کہا ، ’میں بریگزٹ میں تاخیر کے لیے یورپی یونین کے ساتھ مذاکرات نہیں کروں گا اور نہ ہی قانون مجھے ایسا کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔‘

اس سے پہلے ایوان نمائندگان میں ترمیمی قرارداد رکن پارلیمنٹ اولیور لیٹون نے پیش کی۔

 پارلیمنٹ کے 322 ارکان نے وزیراعظم کی خواہش کے برعکس قرارداد کی حمایت اور306 نے مخالفت میں ووٹ ڈالا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

برطانوی ایوان نمائندگان میں ارکان کی تعداد ساڑھے چھ سو ہے۔ کتنے ارکان نے قرارداد کے حق اور کتنے نے مخالف میں ووٹ ڈالا اس کی تفصیل اسے طرح ہے۔

231 ووٹ

لیبر پارٹی کے تقریباً تمام ارکان نے ترمیم کی حمایت کی۔ لیبر پارٹی وزیراعظم کے بریگزٹ معاہدے کے خلاف ہے۔ اپوزیشن لیڈر جیریمی کوربن نے ارکان پارلیمنٹ کے اس فیصلے کو پُرزور قرار دیا ہے جس کے تحت ارکان نے کسی معاہدے کے بغیر یورپی یونین چھوڑنے کے عمل کو روکنے کے لیے واضح انداز میں ووٹ ڈالے ہیں۔

35 ووٹ

بریگزٹ کے مخالف بائیں بازو کے تمام ارکان پارلیمنٹ نے ترمیم کے حق میں ووٹ دیا۔ سکاٹش نیشنل پارٹی ویسٹ منسٹر کے رہنما آئن بلیک فورڈ نے کہا ایوان نے واضح کر دیا ہے کہ ہم 31 اکتوبر کو ہنگامی طور پر یورپی یونین سے نہیں نکل سکتے۔

انہوں نے خبردارکیا کہ ’وزیراعظم صاحب اگر آپ بریگزٹ میں تاخیر کی درخواست نہیں کرتے تو آپ کو عدالت میں آنا پڑے گا۔‘

19 ووٹ

بریگزٹ کے وہ مخالفین جو بریگزٹ پر دوبارہ عوامی ریفرنڈم چاہتے ہیں، انہوں نے متفقہ طور پر قرارداد کے حق میں ووٹ ڈالا۔ ایوان کے رکن جوسونسن نے کہا بریگزٹ کو روکنے کی لڑائی جاری ہے اور لبرل ڈیموکریٹس نئے ریفرنڈم کے لیے کام کرتے رہیں تاکہ برطانوی عوام کسی حتمی رائے کا اظہار کر سکیں۔

17 ووٹ

معاہدے کے بغیر برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کا راستہ روکنے پر ستمبر میں کنزرویٹو پارٹی سے نکالے گئے سات ارکان پارلیمنٹ ،جن میں لیٹون بھی شامل ہیں، نے دو دیگر سابق ٹوری ارکان کے ساتھ قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔

10 ووٹ

کنزرویٹو پارٹی کے شمالی آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والے اتحادیوں کے ان کے صوبے سے متعلق بریگزٹ معاہدے میں شامل کسٹمزاور سیلزٹیکس کی شقوں پر شدید تحفظات ہیں۔ ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی کے برطانیہ نواز نائب سربراہ نائجل ڈوڈ نے کہا ان کی پارٹی کی تشویش برطانیہ کے آئینی اور معاشی استحکام کے حوالے سے ہے۔

10 ووٹ

تبدیلی کے آزاد گروپ کے پانچ اور ویلز کے قوم پرست رہنما پلیڈ سمرو اور گرین گروپ کی کیرولین لیوکس تمام نے وزیراعظم کے خلاف ووٹ دیا۔

283 ووٹ

حکمران جماعت کے تمام ارکان نے ترمیم کے خلاف ووٹ دیا۔ اس سے پہلے بریگزٹ کے انتہائی حامیوں نے وزیراعظم کی حمایت کا اظہار کر دیا تھا۔ ان ارکان پارلیمنٹ نے بریگزٹ کے پچھلے معاہدے کو مسترد کر دیا جو سابق وزیراعظم ٹریزامے نے کیا تھا۔

17 ووٹ

زیادہ تر ایسے کنزرویٹو ارکان جنہیں پارٹی سے نکال دیا گیا تھا ،انہوں نے قرارداد کے خلاف ووٹ دیا تاکہ ان کی پارٹی میں واپسی کی راہ ہموار ہو سکے۔

چھ ووٹ

مٹھی بھرلیبر ارکان، جنہیں بریگزٹ معاہدے کا حامی خیال کیا جاتا ہے، نے وزیراعظم بورس جانسن کا ساتھ دیا۔

22 ارکان پارلیمنٹ

بریگزٹ ڈیل کے حامی چار لیبر ارکان،دو کنزرویٹو ارکان اورایک سابق ٹوری رکن نے ووٹ نہیں ڈالا۔ دو لیبراور دو کنزرویٹو ارکان کے ووٹ بھی مجموعی ووٹوں میں شامل نہیں تھے۔ سپیکر جان برکو اور ان کے تین نائبین نے بھی ووٹ نہیں ڈالا۔ آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والے سات ری پبلکن ارکان پارلیمنٹ میں اپنی نشستوں پر نہیں بیٹھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی یورپ