لاہور کی ثمن پی ایچ ڈی ریسرچ کے لیے گلاسگو کیسے پہنچیں؟

ثمن کا کہنا ہے کہ تحقیق اور ٹیکنالوجی میں پاکستان بہت پیچھے ہے اور ہمیں سکاٹش یونیورسٹیوں سے سیکھنا ہو گا تاکہ ہم ترقی کر سکیں اور اپنا معیار بہتر کر سکیں۔

ثمن ثنا لاہور کی پنجاب یونیورسٹی میں ماحولیاتی اور ارضیاتی سائنسز کے کالج سے پی ایچ ڈی کر رہی تھیں جب انہوں نے سکاٹ لینڈ کی یونیورسٹی آف گلاسگو میں تین ماہ کی ریسرچ سکالرشپ حاصل کیا۔

انڈپینڈنٹ اردو کو دیے گئے انٹرویو میں ثمن ثنا نے اپنے سفر کی داستان بیان کی ہے کہ کس طرح انہوں نے بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا۔

وہ کہتی ہیں کہ پی ایچ ڈی کے دوران جو کام پاکستان میں تین ہفتوں میں ہوتا تھا، گلاسگو میں تین دنوں میں ہو جاتا ہے۔ ’ہم تحقیق اور ٹیکنالوجی میں بہت پیچھے ہیں۔ یہ ہمیں سکاٹش یونیورسٹیوں سے سیکھنا ہو گا تاکہ ہم ترقی کر سکیں اور اپنا معیار بہتر کر سکیں۔‘

اگر آپ بھی پاکستان میں یا بیرونِ ملک تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور انڈپینڈنٹ اردو کے ذریعے اپنے تجربات دیگر طلبہ تک پہنچانا چاہتے ہیں تو اپنے کورس، ادارے اور رابطے کی تفصیلات [email protected] پر بھیجیے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس