پرامن جزیرے سادھ بیلو کا بھیانک ماضی

دریائے سندھ کے بیچوں بیچ قائم سادھ بیلا جزیرہ ایک زمانے میں ڈاکوؤں کا گڑھ تھا، لیکن آج یہ سیاحتی مرکز ہے اور مذہبی رواداری کی عمدہ مثال۔

سادھ بیلا  ایک جزیرہ ہے لیکن یہاں روایت مشہور ہے کہ سیلاب کتنا بھی کیوں نہ ہو، اسے نقصان نہیں پہنچ سکتا(ابراہیم کنبھر)

سندھ کے جنگل بیلوں کے حوالے سے عام تاثر یہ ہی پایا جاتا ہے کہ وہ ڈاکوؤں کا گڑھ رہے ہیں اور اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ سندھ میں ایک زمانہ ڈاکوؤں اور رہزنی کا رہا ہے۔

یہ دور مردِ مومن جنرل ضیاء الحق کا ہی تھا جب سندھ کے جنگل بیلے ڈاکوؤں کے حوالے تھے، اُسی دور میں سیاست دانوں کو موت اور ڈاکوؤں کو کھلی چھوٹ، یہ بات سمجھنے کے لیے کسی راکٹ سائنس کی کوئی ضرورت نہیں۔ پھر وہ ڈاکو جنگلوں سے نکل کر بنگلوں تک پہنچ گئے، حاکم وقت کے چہیتے سرداروں، بھوتاروں اور وڈیروں کے ڈیروں پر ڈاکوؤں کی ڈیوٹیاں لگ گئیں۔

آگے چل کر ایک حکومت میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن شروع ہوا تو اس کا اثر ڈاکوؤں پر کم لیکن سندھ کے جنگلات پر زیادہ ہوا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مول چند بیلا، راجڑی بیلا، پئوں بیلا، شاہ لونکو بیلا، بھونر بیلا— سرکاری ریکارڈ کے مطابق یہ جنگلات ہزاروں ایکڑ پر مشتمل ہوا کرتے تھے۔ پھر چھوٹی کیٹیاں الگ تھیں— کیٹی ممتاز علی خان بھٹو، غیبی خان چانڈیو کی کیٹی وغیرہ۔

پھر ہوا یوں کہ آپریشن کے نام پر جنگل بیلوں کی نگرانی حساب و احتساب سے بالاتر ایک معتبر ادارے کو مل گئی، جس نے کچھ ڈاکو مارے، کچھ عام معافی کے بعد غائب ہوئے لیکن برا تو ان جنگل بیلوں کا ہوا۔ ٹمبر مافیا سے مل کر سندھ کے لاکھوں درخت کاٹ کر ہضم کردیے گئے، باقی جو تھوڑے بہت بچے ان پر سیاسی حکومت نے ہاتھ صاف کر دیے۔

سندھ کے جنگل بیلوں کی ایک کہانی یہ ہے، لیکن میں جس بیلے پر پہنچا ہوں وہ ڈاکوؤں کا نہیں سادھوؤں کا استھان رہا ہے۔ سکھر کے سادھ بیلو یا سادھو بیلا دریائے سندھ کے بیچ جزیرے پر کچھ گھنے درختوں کے سائے میں مندروں کا مرکز ہے۔ سادھ بیلے کے ایک ہی وقت میں کئی تعارف ہیں۔ یہ سندھ اور ہند سمیت پوری دنیا میں بسنے والی ہندو کمیونٹی کی مذہبی عبادت گاہ بھی ہے، اسے سندھ کے ایک خوبصورت سیاحتی مقام کا درجہ بھی حاصل ہے اور صوفیا کی سرزمین پر قائم بین الامذاہب ہم آہنگی، برداشت اور مذہبی رواداری کا جیتا جاگتا ثبوت بھی۔

شامِ غریباں پڑھنے والے ہندو ذاکر

انتہاپسندی، فرقہ واریت اور رجعت پسندی کے بڑھتے رجحان میں مشکل ہی سہی لیکن سندھ اس مذہبی رواداری کی روایت کو اب بھی سنبھالے ہوئے ہے۔ پاکستان میں ایسی مثالیں عام نہیں کہ ہندو فنکار نعتیں پڑھیں اور مسلمان فنکار بھجن گائیں۔ سندھ میں کربلا کے درد کو المناک انداز میں بیان کرتے اور شامِ غریباں پڑھنے والے ہندو ذاکر بھی ملیں گے تو سحر و افطار کا بندوبست کرنے والی ہندو پنچائتیں بھی ہیں۔

ٹھیک اسی طرح مسلمان خوشی خوشی ہندؤں کی ہولی، جنم اشٹمی اور دیوالی کی دعوتیں نہ صرف قبول کرتے ہیں بلکہ ان کے مذہبی تہواروں کی خوشی میں شریک ہوکر خوشیاں بھی بانٹتے ہیں۔ یہی نہیں، ہندو مسلمانوں کے مشترکہ قبرستان بھی سندھ میں ملیں گے۔ سندھ میں ایسے مزار اور درگاہیں بھی ہیں جن پر ہندو اور مسلمان مل کر میلہ لگاتے ہیں۔

قائداعظم محمد علی جناح کے دیرینہ ساتھی بیرسٹر غلام محمد بھرگڑی کے آبائی گاؤں ڈینگان بھرگڑی کے نزدیک ایک قبرستان رام جاگو کے نام سے ہے جہاں ہر سال مسلمان میلہ لگاتے ہیں۔ اسی طرح اڈیرو لال ہندو برادری کا درویش ہے، جس کے میلے میں مسلم برادری کا تعاون ہوتا ہے۔ یہ اڈیرو لال وہی درویش ہے جسے مسلمان خواجہ خضر یا زندہ پیر کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

ایک مثال وتایو فقیر کی بھی ہے، یہ فقیر بندہ 12ویں صدی کا ایک سوشل سائنٹسٹ تھا، جسے ہندو وتو مل کے نام سے یاد کرتے ہیں اور مسلمان اسے طاہر شیخ کہتے ہیں۔

ایسے ہی سادھو بیلا بھی مذہبی ہم آہنگی اور رواداری کا ایک نمونہ ہے جہاں ہر سال لگنے والے میلے میں ہندو مسلم سکھ عیسائی سب ہی ساتھ ہوتے ہیں، عام دنوں میں یہاں مذہبی عقیدت رکھنے والوں سے زیادہ سیاحوں کی بھیڑ لگی رہتی ہے۔

سادھ بیلو اور بابا بنکھنڈی

سادھ بیلو کو بسانے والا بنکھنڈی بابا تھا۔ ہندو دھرم کی کچھ کتابوں میں ان کے خاکے ملتے ہیں۔ ان کے جنم کا سال 1763 بتایا گیا ہے۔

وہ ایک برہمن رامچندر شرما کے گھر میں پیدا ہوئے، ان کا نام بال چند رکھا گیا، نو سال کی عمر میں بنواس چلے گئے، کافی وقت جنگل میں گزارا اور پھر بال چند سے بنکھنڈی مہراج ہو گئے۔

خیال ہے کہ انہوں نے 60 برس کی عمر میں وہیں استھان بنایا جہاں آج سادھ بیلو ہے۔ یہ سال 1823 بنتا ہے، یعنی سندھ کے میر تالپور حکمرانوں کے آخری برس۔

وہ اداس پنتھ کہلاتے تھے۔ اداس پنتھ سادھوؤں کا ایک فرقہ ہی سمجھ لیجیے جس کے بانی گرونانک کے بیٹے سری چند تھے۔ ان سادھوؤں میں شادی کی ممانعت ہوتی ہے۔

رنجیت سنگھ کے دورِ حکمرانی میں اس فرقے نے بڑی ترقی کی اور ان کے پاس ہی گردواروں اور مندروں کی نگہبانی کا کام ہوا کرتا تھا لیکن اکالی دل تحریک کے نتیجے میں ایک قانون کے تحت یہ نگرانی سکھوں کی کمیٹی کے حوالے کر دی گئی۔

بابا بنکھنڈی کی عمر ایک سو برس بتائی جاتی ہے۔ انہوں نے سادھ بیلو کو اپنی آرام گاہ بنایا، جہاں پہلے اپنا سنگھاسن یعنی بیٹھنے کا کمرا بنایا، جسے گدی صاحب کہا جاتا ہے۔ یہیں انہوں نے دیا جلایا جسے آج بھی دونہیں صاحب کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ وہ گدی اور دونہیں صاحب آج بھی قائم ہیں۔

پھر یہاں لوگوں کا آنا شروع ہوا۔ موجودہ سادھ بیلو کی بڑی عمارت جے پور کے کاریگروں نے بنائی ہے، یہاں جو سنگ مرمر کا پتھر استعمال ہوا ہے وہ بھی ملاگوری سنگ مرمر کہلاتا ہے۔

سادھ بیلو اصل میں مندروں کا مرکز ہے۔ یہاں پر پاربتی، شو لنگ، گنیش مہاراج، ہنومان کے الگ الگ مندر ہیں۔ ان مندروں کے ساتھ  گرو سری چند، ست ناراین اور کیلاش مہادیو کے بت اور تصاویر سجائی گئی ہیں۔ دریائے سندھ کے بیچ اس جزیرے تک آنے کے لیے کشتی پر بیٹھ کر آنا پڑتا ہے اور یہ ان دنوں مشکل ہوتا ہے۔

سادھ بیلو سے جڑی روایات اور باتیں

سیلاب کے دوران جب دریا مستی میں ہوتا ہے، اِن دنوں میں سادھو بیلا کو ہمیشہ ڈوبنے کا خطرہ رہتا ہے۔ لیکن یہاں ایک روایت مشہور ہے کہ دریا میں پانی کتنا بھی ہو، سادھو بابا کے مندروں کو کچھ نہیں ہو سکتا۔

حالانکہ سیلاب اس مندر کو نقصان پہنچا چکے ہیں، ویسے بھی روایت اگر کسی مذہبی مقام سے جڑی ہوں تو پھر وہ عقیدے کا روپ دھار لیتی ہیں۔

کئی معتقدین کا ماننا ہے کہ سندھ پر انگریز کے قبضے کے کچھ عرصے بعد دریا کے بیچ موجود یہ جزیرہ کسی بڑے انگریز افسر کو بھا گیا، اس نے یہاں تعمیر شروع کروائی، ایک دن وہ تعمیراتی کام کروا کر جاتا، اگلے دن دیواریں گر جاتی تھیں۔ انگریز کو بعد میں یہ بھید سمجھ آیا اور اس نے کام روک کر فیصلہ بدل دیا۔

ایسی ہی داستان اور روایتی قصہ پلہ مچھلی سے بھی جڑا ہے کہ وہ جب سمندر سے دریائے سندھ کے ذریعے سادھ بیلو پہنچتی ہے تو اس کا منہ لال ہو جاتا ہے، وہ یہاں تک سادھ بیلو کے درشن کرنے آتی ہے، پھر وہ افزائش نسل کے عمل سے گزر کر واپس سمندر میں چلی جاتی ہے۔

پلہ سمندری مچھلی ہے، اسے میٹھے پانی کی عاشق مچھلی کہا جاتا ہے۔ سمندری اور ماہی گیری امور کے ماہر محمد علی شاہ کا کہنا ہے کہ یہ پلہ صرف سندھ میں ہی نہیں بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش میں بھی پائی جاتی ہے۔ بنگلہ دیش میں یہ مقدس مچھلی سمجھی جاتی ہے اور دو پلے اگر ساتھ میں کسی کو تحفے کے طور پر دیے جائیں تو وہ بڑا تحفہ سمجھا جاتا ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ دریا کے الٹے بہاؤ میں چلنے والی یہ واحد مچھلی ہے، یہ دریائے سندھ میں ملتان تک بھی جایا کرتی تھی لیکن پہلے سکھر بیراج بنا، پھر کوٹڑی بنا تو اس سے اس کی نسل کشی ہو چکی ہے۔

اسی طرح سادھ بیلو میں میلے کے موقع پر لوگ مور کے پروں کو دریا کے پانی میں بھگو کر ایک دوسرے پر اسی یقین سے مارتے ہیں کہ اس سے دنیا کی بلائیں ٹل جاتی ہیں۔ جل پوجا کی ہندو مت میں ویسے بھی بڑی اہمیت ہے اور جن سات دریاؤں کو پویتر (مقدس) مانا جاتا ہے، ان میں سے ایک دریائے سندھ بھی ہے جبکہ باقی دریاؤں میں گنگا، جمنا، گورواڑی، سرسوتی، نرمادا اور کیوری شامل ہیں۔

صوفیا کی سرزمین پر مذہبی فسادات

یہ سب باتیں لکھنے کے بعد میں جب اسی سادھ بیلو اور اس کے راستے کی ایک مسجد پر برپا ہوئے فسادات کا ذکر کرتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ مذہبی رواداری اور امن کی دھرتی پر اس سے بڑا المیہ کوئی نہیں۔ یہ فسادات صوفیا کی سرزمین پر کسی بدنما داغ اور کلنک کے ٹیکے سے کم نہیں لیکن تاریخ کا سچ یہی ہے کہ سندھ میں پاکستان بننے سے نو برس پہلے مذہب کے نام پر فسادات ہوئے تھے اور ایک رات میں ایک سو لوگوں کو بے دردی سے قتل کردیا گیا۔

سندھ میں یہ خونریزی کا واقعہ مسجد منزل گاہ کے نام سے مشہور ہے، جس میں پیروں، گدی نشینوں اور سیاست دانوں پر مشتمل اشرافیہ کے ہاتھ رنگے ہیں۔

مسجد منزل گاہ کے فسادات کے ایک بڑے کردار سائیں جی ایم سید اپنی کتاب ’دی کیس آف سندھ‘ میں لکھتے ہیں کہ ’ان فسادات نے سندھ کی محبت اور اتفاق کے چمن کو جلا کر راکھ کر دیا۔‘

ان فسادات کے نتیجے میں ہونے والے بٹوارے کے بعد سندھ سے شاہ عبد اللطیف، سچل اور سامی کے شارح اور ان کے رسائل مرتب کرنے والے بڑے لوگ سندھ چھوڑ کر چلے گئے، جن میں ڈاکٹر گربخشانی، کلیان آڈوانی، لعل چند امر ڈنو مل، جیٹھ مل پرسرام، بھیرومل مہرچند آوانی، ٹی ایل واسوانی اور کئی تھے۔

سندھ سے ہندوؤں کی نقل مکانی کا سب سے بڑا سبب برصغیر کے بٹوارے سے پہلے سندھ میں مسجد منزل گاہ کے فسادات تھے۔

جی ایم سید صفحہ 27 پر لکھتے ہیں کہ ’سکھر میں ایک پرانی بوسیدہ عمارت تھی جس کو مسلمان مسجد منزل گاہ کے نام سے پکارتے تھے، اس پر اپنا قبضہ کرنے کے لیے شکارپور اور سکھر کے وفود نے اُس وقت کے وزیراعلیٰ اللہ بخش سومرو سے ملاقات کی جنہوں نے جمعیت علمائے سندھ کے کچھ رہنماؤں کو زمینی جائزہ لینے کے لیے مقرر کرکے رپورٹ منگوائی۔ اس رپورٹ میں مسجد ہونے کی تصدیق ہوئی تو وہاں کی مقامی ہندو برادری نے اعتراض کیا کہ اس جگہ کے سامنے ہماری مذہبی عبادت گاہ ہے، یہاں سے مسلمان ہماری عورتوں کے گھوریں گے۔‘

وہ آگے لکھتے ہیں کہ اللہ بخش سومرو اس حوالے سے کسی نیتجہ پر نہیں پہنچے تو مسلم لیگ نے فیصلہ کیا کہ اس مسئلے کو اپنے ہاتھوں میں اٹھایا جائے جس کے بعد ستیہ گرہ کا فیصلہ کیا گیا جس میں بھرچونڈی کے پیر عبدالرحمان نے اپنے مریدوں کے ساتھ حصہ لیا، لیکن اللہ بخش سرکار نے ایک آرڈیننس کی منظوری دی جس میں مقدمہ چلائے بغیر کسی کو بھی جیل بھیجا سکے، نتیجے میں احتجاج کرنے والے ساڑھے تین ہزار لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔

جی ایم سید لکھتے ہیں کہ ’مجھے کانگریس میں رہنے کا تجربہ تھا، میں نے اس معاملے کو توہین سمجھا، جب تحریک چل چکی تھی تو اس کو بیچ میں چھوڑنا نقصان دہ تھا، اس لیے میں نے کمان سنبھال لی اور مسجد منزل گاہ پر قبضہ کر لیا۔ 19 نومبر 1939 کو پولیس نے مجھے گرفتار کر لیا، لاٹھی چارج اور شیلنگ کرکے پولیس نے مسجد کا قبضہ اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ اسی دن سکھر میں ہندو مسلم فسادات ہوئے جس میں کئی بے گناہ جانوں کا نقصان ہوا اور ملکیتیں تباہ ہوئیں۔‘

جی ایم سید صاحب نے فوت ہونے والے لوگوں کی تعداد نہیں بتائی لیکن یہ ایک سو سے زائد لوگ تھے، جس میں اکثریت ہندوؤں کی تھی۔ 

اُس وقت کے ایک اور مسلم لیگی سرکردہ رہنما علی محمد راشدی تھے جن کے چھوٹے بھائی پیر حسام الدین راشدی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ انہوں نے مسجد منزل گاہ کے فسادات میں حصہ لیا تھا۔ اس واقعے کے دو اہم کردار علی محمد راشدی اور جی ایم سید تھے، ہر معاملے پر انہوں نے چنگاری سلگائی۔

 دنیا میں عبادت گاہوں پر خون خرابے کی بھی ایک لمبی تاریخ رہی ہے، لیکن وقت تمام چیزوں کا مرہم ہے، میرے پاؤں سکھر کے جن بازاروں، گلیوں، سیاحتی مقامات پر پڑ رہے تھے وہ سب گلیاں، کوچے اب پر امن، خاموش، خوش اور ایک بھرپور زندگی کے شور سے رواں دواں ہیں۔ اب خون کے چھینٹے اور سب داغ دھل چکے ہیں، سادھ بیلو جانے کے لیے راستہ اب بھی وہی ہے جس کی وجہ سے یہ تنازع کھڑا ہوا تھا، مسجد سے دی جانے والی اذان سادھ بیلو کے مندروں میں سنی جاتی ہے اور مندر کی گھنٹیاں مسجد کے اندر سننے والوں کو بھی اعتراض نہیں۔

کوئی بھی ماضی کو لوٹا تو نہیں سکتا مگر اس کو تصور ضرور کر سکتا ہے اور اسے لوگوں سے سن یا کتابوں میں پڑھ سکتا ہے۔ سادھ بیلو آج جہاں مذہبی رواداری کی ایک اعلیٰ مثال بنا ہوا ہے وہاں یہ سندھ کے کلچر کی ایک اہم علامت بھی ہے۔

میں نے وہاں ہر چہرے کو مسرت سے بھرپور دیکھا۔ جہاں کوئی کسی کا مذہب نہیں پوچھتا اور کسی کو اس بات کی فکر نہیں کو اس کا مسلک کیا ہے۔ مگر آج جو ماحول ہمیں وہاں نظر آتا ہے، وہ اُن لوگوں کی قربانیوں کا ثمر ہے، جنہوں نے سادھ بیلو کے لیے اپنا خون بہایا تھا۔ مجھے وہ تمام لوگ یاد آنے لگے جن کی وجہ سے آج سادھ بیلو آباد ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی میگزین