میچ کے دوران حجاب اترنے پر مخالف ٹیم کا کھلاڑی کے گرد گھیرا

میچ کی ایک وائرل ویڈیو میں شباب الاردن کلب کی کھلاڑی، عرب آرتھوڈوکس کلب کی کھلاڑی کے گرد جمع ہوگئیں اور تقریباً 30 سیکنڈ تک کھیل روکے رکھا تاکہ وہ اپنے سر کو دوبارہ ڈھانپ سکیں۔

اس جذباتی لمحے کی ویڈیو ٹوئٹر پر شیئر ہونے کے بعد وائرل ہوگئی (ویڈیو سکرین گریب)

خواتین کی ایک فٹ بال ٹیم کی کھلاڑیوں کو ان کے ہمدردی کے جذبے پر بہت سراہا جا رہا ہے، جب ایک مخالف ٹیم کی کھلاڑی کا حجاب اتر جانے پر وہ کھیل روک کر اُس کھلاڑی کے گرد جمع ہو گئیں تاکہ وہ اپنا حجاب درست کرسکے۔

یہ واقعہ ویسٹ ایشیئن فٹ بال فیڈریشن (ڈبلیو  اے ایف ایف) کی ویمن کلب چیمپیئن شپ کے دوران عرب آرتھوڈوکس کلب اور شباب الاردن کلب کے مابین گذشتہ برس کھیلے جانے والے ایک میچ کے دوران پیش آیا۔

میچ کی ایک وائرل ویڈیو میں شباب الاردن کلب کی کھلاڑیوں کو عرب آرتھوڈوکس کلب کی ایک کھلاڑی سے فٹ بال لیتے دیکھا جا سکتا ہے کیونکہ حجاب اتر جانے کی وجہ سے ان کے سر کے بال نظر آنے لگے تھے جس کے بعد انہوں نے کھیلنا فوری طور پر بند کر دیا تھا۔

مخالف ٹیم کی کھلاڑی تیزی سے مذکورہ کھلاڑی کے گرد جمع ہو گئیں اور تقریباً 30 سیکنڈ تک کھیل روکے رکھا تاکہ وہ اپنے سر کو دوبارہ ڈھانپ سکیں۔

اس جذباتی لمحے کی ویڈیو ٹوئٹر پر شیئر ہونے کے بعد وائرل ہوگئی، جسے 44 لاکھ سے زائد مرتبہ دیکھا گیا ہے۔

ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا: ’اس ویڈیو کو دیکھ کر بہت اچھا لگا۔‘

ایک اور صارف نے کہا: ’یہ بہت اچھی بات اور حقیقی سپورٹس مین شپ کا مظاہرہ ہے۔‘

ویڈیو شیئر کرنے والوں میں امریکی سپورٹس چینل ای ایس پی این بھی شامل ہے۔ چینل کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو کے ساتھ ’کھیل سے بڑا عمل‘کے الفاظ لکھے گئے ہیں۔

فٹ بال کے سابق امریکی کھلاڑی ایبی وامبیک کی اہلیہ اور مصنفہ گلینن ڈوئل نے بھی یہ ویڈیو شیئر کی اور لکھا کہ ’آج یہ ہمارا مزاج ہے۔ جب ہم میں سے کسی کو ضرورت ہوتی ہے تو ہم رک جاتی ہیں۔ ہم ایک جگہ جمع ہو جاتی ہیں۔ ہم ایک دوسرے کو تحفظ فراہم کرتی ہیں۔‘

برطانوی اخبار دا گارجین کے مطابق 2014 میں فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا نے خاتون کھلاڑیوں کے حجاب کرنے پر پابندی ختم کردی تھی جس کے دو سال بعد حجاب کے ساتھ کھیلنے والی فٹ بال کی کھلاڑیوں کے درمیان پہلا میچ ہوا۔

یہ میچ اکتوبر 2016 میں اردن کے دارالحکومت عمان میں ہونے والے ویمن ورلڈ کپ کے دوران انڈر 17 ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا تھا۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی فٹ بال