دھرنوں سے حکومتیں گرتی نہیں، کمزور ہوجاتی ہیں: گیلانی

سابق وزیراعظم نے انڈپینڈنٹ اردو کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ ’اپوزیشن کا مقصد وزیر اعظم کو ہٹانا یا کسی اور کو لانا نہیں کیونکہ اِن ہاؤس تبدیلی اب کوئی معنی نہیں رکھتی۔ وہ نئے شفاف انتخابات چاہتے ہیں۔‘

سابق وزیر اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ دھرنوں سے حکومتیں نہیں گرتی مگر کمزور ہوتی ہیں اور کمزور حکومت جلد ختم ہو جاتی ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا: ’اپوزیشن کا مقصد وزیر اعظم کو ہٹانا یا کسی اور کو لانا نہیں کیونکہ اِن ہاؤس تبدیلی اب کوئی معنی نہیں رکھتی۔ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے حکومتی ٹیم کو بتا دیا ہے کہ وہ نئے شفاف انتخابات چاہتے ہیں۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ اپوزیشن کے احتجاج کا نتیجہ کیا ہوگا؟ تو انہوں نے جواب دیا: ’اپوزیشن کے آزادی مارچ کا نتیجہ پہلے ہی نکل چکا ہے۔ وزیراعظم نے کہہ دیا ہے کہ وہ استعفیٰ نہیں دیں گے، اس کا کیا مطلب ہے؟ وزیر اعظم کہتے ہیں کہ فوج ان کے ساتھ ہے لیکن ہم نے کبھی نہیں کہا کہ فوج ہمارے ساتھ ہےکیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ تمام اداروں کو اپنے آئینی اختیارات کے تحت کام کرنا چاہیے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ نواز شریف اور آصف زرداری شدید بیمار ہیں لیکن حکومت کی جانب سے ان کی صحت کو سنجیدہ نہ لینا افسوس ناک ہے۔

انہوں نے مزید کہا: ’ہماری حکومت کے دوران کوئی سیاسی قیدی نہیں تھا کیونکہ ہم انتقام کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے۔‘

سابق وزیراعظم نے حکومت کو مکمل طور پر ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسان اور کاروباری حضرات شدید مشکلات کا شکار ہیں، عوام مہنگائی اور غربت کی چکی میں پِس رہے ہیں، اس لیے موجودہ حکومت کا چلنا ممکن نہیں۔ ’عوام ان سے تنگ آچکے ہیں لہذا اپوزیشن نے عوام کی خواہش پر احتجاج کا اعلان کیا۔‘

ساتھ ہی ان کا کہنا تھا: ’اگر عوام کسی لیڈر کے بغیر خود سڑکوں پر نکل آئے تو یہ ملک کے لیے خطرناک ہوگا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان