’بریسٹ کینسر‘ پر ایک پیار بھری کہانی

ممکن ہے کہ یہ بات زیادہ لوگ نہ جانتے ہوں کہ اسما نبیل نے طویل عرصے تک کینسر سے جنگ لڑی ہے اور اب وہ اس کے خلاف ایک موثر آواز بن کر سامنے آنا چاہتی ہیں۔

اسما نبیل کا نام پاکستانی ٹی وی ڈرامہ کی صنعت میں تیزی سے مقبول ہوا ہے۔ ان کے قلم سے نکلے ہوئے ڈرامہ جیسے ’خانی‘، ’باندی‘ اور ’سرخ چاندنی‘ نے مقبولیت کے ہمالیہ سر کیے۔

ممکن ہے کہ یہ بات زیادہ لوگ نہ جانتے ہوں کہ اسما نبیل نے طویل عرصے تک کینسر سے جنگ لڑی ہے اور اب وہ اس کے خلاف ایک موثر آواز بن کر سامنے آنا چاہتی ہیں۔

دنیا کے کئی ممالک میں اکتوبر کے مہینے کو بطور بریسٹ کینسر کی آگاہی کے لیے مناتے ہیں۔ پاکستان میں بھی ملک کی کئی بڑی عمارات کو گلابی رنگ کی روشنیوں میں نہلایا گیا تاکہ اس مرض سے متعلق زیادہ سے زیادہ آگاہی پھیلائی جا سکے۔

اسما نبیل نے اسی مناسبت سے ایک فیچر فلم ’فلائی‘ بنانے کا اعلان کیا جو پاکستان میں چھاتی کے سرطان یا بریسٹ کینسر کے موضوع پر بنائی جانے والی پہلی پاکستانی فلم ہوگی۔

انڈپینڈنٹ اردو نے اس بارے میں ان سے ملاقات کی اور اس کی تفصیلات پوچھیں۔ اسماء نبیل کا کہنا تھا کہ آنے والی فلم ’فلائی‘ میں چھاتی کے سرطان جیسے معیوب سمجھے جانے والے مسئلے کو موضوع بنایا گیا ہے اور کیونکہ یہ ایک فلم ہی ہے تو اسے ایک خوبصورت سی پیار بھری کہانی کے طور پر ہی فلمایا جائے گا جس میں کینسر بطور ولن آجاتا ہے۔

اسما نے کہا کہ اس وقت فلم بنانا کافی مشکل ہے لیکن انہوں نے یہ ارادہ صرف اس وجہ سے کیا ہے کیونکہ وہ خود کینسر کی جنگ لڑ چکی ہیں اور خدا کی جانب سے دیے گئے دوسرے موقع کو استعمال کرتے ہوئے اپنے قلم کی طاقت سے اس موضوع کو اجاگر کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شہرت اسما نبیل کو ایک ڈرامہ رائٹر کی حیثیت سے ملی ہے، تو انہوں نے بریسٹ کینسر جیسے حساس موضوع پر ڈرامہ بنانے کا کیوں نہیں سوچا جبکہ پاکستان میں ڈرامہ فلم سے بہت زیادہ مقبول ہے۔

اس بارے میں اسما نبیل نے وضاحت کی کہ ابتدا میں انہوں ںے ڈرامہ بنانے کی ہی کوشش کی تھی مگر کیونکہ ڈرامہ ایک مختلف سطح پر دیکھا جاتا ہے اور اس میں اس موضوع پر کچھ حساسیت زیادہ تھی اور شاید بہت کھلی باتیں نہیں ہوسکتی تھیں اس لیے سوچا کہ فلم ہی ایک ایسا ذریعہ ہے جس میں آپ بہت سی باتیں بہت کھلے انداز میں کر سکتے ہیں۔

اسما نے بتایا کہ پاکستان میں چھاتی کا سرطان ایک بہت بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے، اور اس وقت ہر سال تقریباً 90 ہزار کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں جن میں 40 ہزار خواتین جانبر نہیں ہوتیں۔ تو یہ ہر گھر ہی کا مسئلہ ہے جہاں سے عورتیں غائب ہو جاتی ہیں۔

انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ اس فلم کو موبائل سینما کے ذریعے گاؤں گاؤں پہنچانے کا منصوبہ بھی ہے اور یہ کام ہمیں ہر صورت میں کرنا ہے۔ اسی لیے وہ اس فلم کو اکتوبر 2020 میں ریلیز کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

اسما نبیل نے بتایا کہ بطور مصںفہ انہوں نے اس واقعہ کے بعد ہی لکھنا شروع کیا تھا، کینسر کی تشخیص سے پیشتر وہ ایک ایڈ ورٹائزنگ ایجنسی میں کام کرتی تھیں اور چھوٹی چھوٹی کہانیاں لکھتی تھیں۔

کینسر سے جنگ کے دوران ہی انہیں طویل کہانیاں لکھنے کا خیال آیا اور پھر اس کو عملی جامہ پہنا دیا۔ اسما نے بتایا کہ ان کا پہلا ڈرامہ ’خدا میرا بھی ہے‘ کو تین سال تک لے کر پھرتی رہیں، ’مگر جب وہ آخر کار بن گیا پھر ’خانی‘ ڈرامہ لکھا پھر ’باندی‘ لکھا تو اس طرح یہ سلسلہ چل نکلا تو مجھے یہ یقین ہوتا چلا گیا کہ میری اس دوسری زندگی میں خدا مجھ سے کوئی کام لینا چاہتا ہے کیونکہ میرا کام نہ صرف عوام میں مقبول ہے بلکہ ناقدین بھی اسے پسند کر رہے ہیں، اس لیے مجھے اعتماد حاصل ہوا کہ میں فلم بھی ایسی لکھوں جس پر لوگ کہیں کہ کوئی ایسی بات کی ہے جس کا بڑا مقصد ہے۔‘

اسما نبیل نے کہا کہ انہوں نے انگریزی لفظ کینسر سروائور کی جگہ کینسر واریئر کی اصطلاح متعارف کروانے کی کوشش کی ہے کیونکہ کینسر سے آپ کو خود ہی لڑنا پڑتا ہے، کیونکہ اگر آپ کینسر کے سامنے ہار مان لیتے ہیں تو کینسر آپ کو کھا جاتا ہے۔

انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 2012 کے آخر میں انہیں کینسر کی تشخیص ہوئی تھی، جس کے بعد ان کے دو اہم آپریشن ہوئے تھے اور اسی دوران نہ صرف ان کا وزن بڑھ گیا بلکہ ان کے بال بھی جھڑ گئے اور جلد بھی خراب ہوگئی غرض سب کچھ غلط ہو رہا تھا تو اس وقت انہیں یہ ادراک ہوا کہ جب ہمارے ساتھ سب کچھ صحیح ہو رہا ہو تو اس وقت کو شکرانے کے ساتھ کیسے گزارنا ہوتا ہے۔

اسما کے مطابق ان خواتین کو جو ابھی کینسر سے لڑ رہی ہیں مضبوط ہونا پڑے گا اور منفی سوچ کو خود سے دور رکھنا ہوگا۔

ان کے مطابق ایک وقت ایسا بھی تھا جب انہوں نے کلمہ پڑھ لیا تھا اور اس دوران تین دن ان کی زندگی کے ایسے بھی گزرے جب ایک دوا کے ردعمل کے نتیجے میں مکمل طور پر اپنے ہوش میں نہیں تھیں۔ مگر تین دن کے بعد جب ان کی آنکھ کھلی اور انہوں نے اپنے بیٹے اور بیٹی کو دیکھا تو شکر ادا کیا اور جب زندگی میں شکر آیا تو سکون اور امن بھی آنا شروع ہوگیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی فلم