کشمیر میں یورپی وفد یا کولمبس؟

’اکثر کہتے ہیں کہ اس یورپی وفد میں مولانا فضل الرحمٰن کو بھی شامل ہونا چاہیے تھا تاکہ کشمیر کا وازہ وان ہی تناول کرتے اور عمران خان کی حکومت بھی بچ جاتی۔‘

بھارتی حکومت کی جانب سے 28 اکتوبر کو جاری تصویر جس میں یورپی پارلیمان کا 30 رکنی وفد دورہ کشمیر سے قبل دلی میں وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ایک ملاقات کے بعد گروپ فوٹو میں (اے ایف پی)

میں نے جب ایک صحافی دوست سے پوچھا کہ یورپی اراکین پارلیمان کی سری نگر میں کیا مصروفیات رہیں تو وہ بے اختیار ہنس پڑے اور بھرپور قہقہے کے بعد کہنے لگے ’وفد نے کشمیری وازہ وان کھایا، جھیل ڈل کے جھل مل پانیوں سے لطف اندوز ہوئے، شکارہ میں بیٹھ کر دلکش پہاڑوں کو دیکھا اور کہنے لگے کہ اس خوبصورت وادی میں سب کچھ ہے مگر انسانی مخلوق نہیں ہے۔ کہیں ہم کولمبس تو نہیں جو پہلی بار وادی کو دریافت کر رہے ہیں۔‘

یورپی اراکین پارلیمان کے دورے کےدوران کشمیر میں مکمل ہڑتال اور سڑکیں سنسان رہیں۔ میں نے صحافی سے پوچھا حکومت نے چند گنے چنے لوگوں کو وادی میں ’سب چنگا ہے‘ کہنے کے لے تیار رکھا تھا تو انہوں نے چنگا ہی بتایا؟

’چنگا کہنے والوں نے میڈیا کے سامنے اپنا چہرہ چھپایا، رستہ اور گشتابہ کھایا فرمایا، سراغ رساں اشخاص کو چکمہ دے کر پچھلے دروازے سے اپنے گروپ کو بھگایا پھر اچانک ایئرپورٹ پر نمودار ہوئے اور وفد والے طیارے میں بیٹھ کر سب کو بائی بائی کہا۔‘

میرا دوست خوب ہنس رہا تھا۔ یہ کہانی ہے اس ڈرامے کی جو بری طرح سے فلاپ ہوگیا۔

یورپی پارلیمان کا کشمیر کا حالیہ دورہ اسی طرح متنازعہ بن گیا جس طرح خود کشمیر کا معاملہ بن چکا ہے اور جس میں مرکزی کردار ہمیشہ بھارتی حکمرانوں نے ادا کیا ہے۔ دورے کی ناکامی کا سبب یورپی اراکین نہیں ہے جو مسلمانوں کی مخالفت میں آداب سیاست کے عادی نہیں ہیں البتہ مودی حکومت کی ڈھارس بندھانے کی فکر میں وہ یہ بھول گئے کہ بھارت میں ابھی ایسے لوگ موجود ہیں جو انہیں پسند نہیں کرتے، کشمیریوں کی بات ہی نہیں۔ قصور دراصل ان کا ہے جنہوں نے اس کی ناقص منصوبہ بندی کر کے اپنی نااہلی کا واضح ثبوت پیش کیا ہے۔

اراکین پارلیمان کا انتخاب جس انداز سے کیا گیا تھا اس سے  بھارتی حکومت کی نئی سوچ کا اندازہ خود یورپ کو خوب ہوا ہوگا۔ دوسرا جس ادارے سے اراکین کو دعوت نامے بھجوائے گئے تھے معلوم ہوا کہ وہ ایک این جی او بھی نہیں بلکہ کچھ لوگ جن سے بعض ملکوں کے انتخابات میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کروانے کا کام لیا جاتا رہا ہے اور تیسرا جن سے خرچے اور اخراجات کروائے جا رہے تھے ان کے دفتروں پر تالے ڈالے گئے ہیں۔

اراکین پارلیمان کاحال بھی کچھ نرالا ہے۔ انہوں نے اس کا پتہ بھی نہیں لگایا کہ دعوت نامے کون بھیج رہا ہے، عشائیہ کون دے رہا ہے، کشمیر پر بریفنگ کیوں دی جا رہی ہے اور جانا کس دلدل میں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارتی حکومت کو بخوبی احساس ہے کہ کشمیر کے بارے میں پانچ اگست کا فیصلہ غلط ہے۔ اس پر پردہ ڈالنے کے لیے اب وہ مزید درجن بھر غلط فیصلے کرتے جا رہی ہے جو ملک کے اندر باہر شدید نکتہ چینی کا موجب بنتے جا رہے ہیں۔ کشمیری عوام کو قید کر کے، خوفزدہ کر کے، شناخت اور شہر چھین کر یہ سمجھنا کہ کشمیر کو فتح کر لیا گیا ہے ایک سراب ہے جو نہ جانےمزید کتنی جانوں کا ضیاع کا سبب بنتا جا رہا ہے۔

دس لاکھ بندوقوں کو عوام کے کنپٹیوں پر رکھ کر نہ تو کوئی قوم جیتی جاسکتی ہے اور نہ پوری آبادی کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ تاریخ نے عراق، افغانستان یا شام میں اس کو ثابت کر دیا ہے۔ یقین نہ آئے تو امریکہ روس اور یورپی ممالک سے پوچھیے گا جو اس تجربے سے کئی بار گزر چکے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چونکہ کشمیر کی موجودہ ابتر صورت حال پر عالمی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور بھارت پر انسانی حقوق کی پامالیاں بند کرنے اور کشمیر تنازعے کو حل کرنے پر دباؤ بڑھ رہا ہے تو بھارتی حکومت نے اس کا توڑ کرنے کے لیے اپنی جیسی کٹر سوچ رکھنے والے بعض یورپی اراکین کو جمع کر کے ان سے متبادل موقف اختیار کروانے کی ایک لاحاصل کوشش کی۔ اپوزیشن کے بعض سیاست دانوں نے آواز بھی اٹھائی کہ بھارت کشمیر کو عالمی مسلہ نہیں مانتا تھا مگر عالمی اراکین کو کشمیر بھیج کر مودی نے واپس اسے اقوام متحدہ میں پہنچا دیا ہے اور اپنے سیاست دانوں کی بجائے باہر کے ممالک کے سیاست دانوں کو کشمیر جانے کی اجازت دے دی۔

بقول تجزیہ نگاروں کے’انڈین میڈیا کو لونڈی بنا کر حکومت نے یورپی اراکین پارلیمان کے ذریعے عالمی رائے عامہ کو ہموار کرنے کا پلان بنایا تھا مگر اراکین کے انتخاب سے اور اپنی وزارت خارجہ کو پس پشت ڈال کر نہ صرف بھارتی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے بلکہ ملک کی خارجہ پالیسی کی ہیئت تبدیل کر کے سیاسی جماعتوں میں ایک بڑی کھلبلی بھی مچ گئی ہے۔‘

رہا سوال کشمیر کی 80 لاکھ آبادی کا، وہ دنیا سے منقطع ہیں اور سیاسی کشمکش سے کوسوں دور۔۔۔ انہیں اس سے کوئی سروکار نہیں کہ کس کو بلایا جاتا ہے اور کون وارد ہوتا ہے۔ وہ محض اس وقت زندہ رہنے کے لیے فکر مند ہیں، مہذب اور پروقار انداز میں اپنا احتجاج درج کروانے پر سوچ وبچار کر ر ہےہیں۔۔۔

اسی تناظر میں، میں نے اپنے صحافی دوست سے پوچھا کہ کیا کشمیریوں نے اس دورے پر کوئی راے ظاہر کی تو وہ پھر خوب ہنسے اور کہنے لگے ’اکثر کہتے ہیں کہ اس یورپی وفد میں مولانا فضل الرحمان کو بھی شامل ہونا چاہیے تھا تا کہ کشمیر کا وازہ وان ہی تناول کرتے اور عمران خان کی حکومت بھی بچ جاتی۔‘

ہم دونوں کافی دیر تک بس ہنستے رہے اور شاید پانچ اگست کے فیصلے کے بعد ہم دونوں پہلی بار اتنا کھل کھلا کر ہنس رہے تھے۔۔۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ