داعش کے نئے اور پُراسرار سربراہ ’دا سکالر‘ کون ہیں؟

صدر ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں دعویٰ کیا کہ وہ داعش کے نئے سربراہ کے بارے میں ’سب کچھ جانتے ہیں، مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ ابوابراہیم الہاشمی القریشی کے بارے میں کوئی معلومات نہیں۔

داعش کے جنگجو عراقی صوبے رقہ میں 30 جون 2014 کو ایک ملٹری پریڈ کے دوران (روئٹرز)

امریکی سپیشل فورسز کے شام میں واقع ایک احاطے پر حملے کے دوران داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی ہلاکت کے کئی دن بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں کہا: ’ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ دہشت گرد گروہ کا نیا سربراہ کون ہے۔‘

جمعرات کو جاری کیے گئے ایک آڈیو پیغام میں داعش نے ابوابراہیم الہاشمی القریشی کو البغدادی کا جانشین نامزد کیا۔

امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ دہشت گرد گروپ نے اپنا لیڈر ایک بار ایک عالم کو منتخب کیا ہے، کیونکہ داعش کے بیان میں ان کا حوالہ ’سکالر‘ یعنی عالم کے طور پر دیا گیا۔

تاہم، انٹیلیجنس ماہرین کہتے ہیں کہ ابھی تک داعش کے رہنما کے بارے میں کچھ زیادہ معلوم نہیں۔ اگرچہ ایسے مختلف طریقے موجود ہیں جنہیں استعمال کرکے وہ جان سکتے ہیں کہ تنظیم کا نیا سربراہ کون ہے۔

سگنلز انٹیلی جنس یا ایس آئی جی آئی این ٹی، وہ صلاحیت ہے جو داعش کی قیادت اور نچلے کارکنوں کے درمیان ٹیلی فون کالز، ٹیکسٹ پیغامات اور کسی بھی قسم کے رابطے کی تفصیل جاننے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ سگنلز انٹیلی جنس اس پس منظر کے بارے میں معلومات فراہم کرے گی کہ داعش کے نئے سربراہ اور ان سے جڑے لوگ کون ہیں۔

مخبروں کا ایک نیٹ ورک بھی پہلے سے قائم ہے اور دہشت گرد تنظیم کے اندر کام کر رہا ہے۔ ہم کرد اور عراقی اتحادیوں کے ذریعے وہ خفیہ معلومات دیکھ چکے ہیں جن کی مدد سے حملہ کر کے البغدادی کو ہلاک کیا گیا۔

اس نیٹ ورک کے حصے اب بھی اپنے جگہ ہوں گے اور داعش کے نئے سربراہ کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں معاونت کر سکتے ہیں۔

خفیہ معلومات کے دیگر ذرائع وہ روائتی کوششیں ہوں گی جن سے پتہ لگایا جائے گا کہ ایسا شخص کون ہے جو نئے داعش سربراہ کو جانتا ہو۔ ان کے دوستوں اور خاندان کے بارے میں پتہ کیا جائے گا یا ان کی زندگی میں شامل کوئی فرد جو پس منظر کے بارے میں کسی قسم کی معلومات فراہم کر سکتا ہو۔

یہ سب داعش کے نئے سربراہ کی نفسیاتی شناخت کو جاننے اور یہ سمجھنے میں مدد دے گا کہ وہ کون ہیں اور کس طرح کام کرتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس میں عالمی امور کے سابق ڈائریکٹر بریٹ بروئن، جو عراق میں پبلک ڈپلومیسی افسر کے طور پر ایک سال کام کر چکے ہیں، کہتے ہیں البغدادی کی ہلاکت اور ’خلافت‘ کی شکست کے بعد داعش کے جانب سے معلومات کی جنگ زیادہ اہمیت اختیار کرتی جا رہی ہے۔

بروئن نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا: ’وائٹ ہاؤس کا یہ بیانیہ غلط ہے کہ داعش کو شکست دی جا چکی ہے، البغداری مارے جا چکے ہیں اور اب زیادہ خطرہ نہیں رہا۔ یہ بیانیہ اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت کو نقصان پہنچائے گا۔‘

بروئن کہتے ہیں کہ اب یہ جنگ بڑی حد تک آن لائن ہو جائے گی جہاں دہشت گرد گروپ فنڈ اکٹھے کرنے اور بھرتیوں کا عمل تیز کرے گا۔ گروپ انفرادی سطح پر حملوں کی ترغیب دے گا اور امریکہ سمیت خطے کے لیے نیا خطرہ پیدا کرے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید کہا: ’ان کے ساتھ اس میدان میں مقابلے کے لیے ہم نے کئی صلاحیتوں کو ایک جانب رکھ دیا ہے۔‘

لیکن نئے خطرات سے قطع نظر داعش پہلے ہی بڑی شکست سے دوچار ہو چکی ہے۔ ابوبکر البغدادی کی ہلاکت تنظیم کے لیے بڑا دھچکہ ہے۔ زمینی علاقوں کے ہاتھ سے نکلنے نے خلافت کے نظریے کو شکست دینے میں بنیادی کردار ادا کیا۔

یونیورسٹی آف ساؤتھ فلوریڈا میں سٹریٹیجک اور سفارتی تحقیق کے مرکز کے ڈائریکٹر محسن میلانی کہتے ہیں کہ البغدادی اس اعتبار سے منفرد تھے کہ انہوں نے تنظیم کو ایک حقیقی علاقے میں قائم خلافت میں تبدیل کیا۔ انہوں نے داعش کی تنظیم، علاقے اور مالی وسائل میں فرق قائم کرتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کے پاس ایسی خلافت تھی جو کچھ سرمایے کی مالک تھی جو اب نہیں رہا لیکن اگر نظریہ باقی ہے تو داعش کے دوبارہ ابھرنے کے امکانات موجود ہیں اور ان لوگوں کو مالی معاونت حاصل ہے کیونکہ دہشت گردی پیسے کے بغیر جاری نہیں رہ سکتی۔

داعش کی جانب سے زمین پر قبضے نے جہاں خلافت کے نظریے کو فروغ دیا، وہیں ماہرین اس عمل کو دہشت گرد تنظیم کی کمزور حکمت عملی کے طور پر بھی دیکھتے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اس عمل نے گروپ کے مختلف دشمنوں کو اس کے خلاف جنگ پرتوجہ مرکوز کرنے میں مدد دی اور بالآخر گروپ کو شکست سے دوچار کرنے کا سبب بنا۔

یونیورسٹی آف مشی گن کے پروفیسر وآن کول نے کہا: ’داعش کا ایسے علاقوں پر قبضہ رکھنا انتہائی احمقانہ عمل تھا جس کا نتیجہ ناکامی کی شکل میں سامنے آنا تھا۔ کوئی بھی نیا لیڈرجو اس دہرے نظریے کو اپنائے گا ناکام ہو گا۔‘

’روس اور ایران کی حمایت کی بدولت شام ایسے گروپوں کے لیے ایک پسندیدہ شکارگاہ نہیں رہی۔ عراق میں امریکہ اور ایران اس کے خلاف خاموشی سے اتحادی رہے ہیں۔‘

کول نے مزید کہا کہ اس وقت پیچیدہ قسم کے عوامل میں شمالی شام میں ترکی کا حملہ اور عراق میں ہونے والے عوامی مظاہرے ہیں جن کی وجہ سے مالی وسائل انسداد دہشت گردی کی بجائے ان مسائل پر صرف کیے جا سکتے ہیں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا