جس رات بھوت نے میرا پیچھا کیا

بھوت پریت پر میرا یقین نہ اس وقت تھا نہ اب ہے، لیکن نہ جانے کیوں اس دن کے بعد سے میں نے کبھی اس قسم کی شرط لگانے کی کوشش نہیں کی۔

(پکسا بے)

جِن لوگوں نے ڈیرہ اسماعیل خان میں دریائے سندھ کو بہتے دیکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ شیر دریا کی ہیبت اور حُسن کے کیا معنی ہیں۔ چوڑا پاٹ، خاموش، سنجیدہ اور چوڑی پیشانی والا دریا شہر کے مشرق پہلو سے یوں چپ چاپ گزرتا ہے جیسے کوئی بزرگ فرشتہ سفید پر پھیلائے نیچی پرواز کر رہا ہو۔

کچی پائند خان دریائے سندھ کے کنارے آباد ہمارا گاؤں تھا، گھر سے دریا کا فاصلہ پانچ منٹ کی پیدل مسافت۔ ان دنوں گاؤں کے گھر ابھی کُشادہ تھے اور ہر آنگن میں درخت بازو پھیلائے کھڑے تھے۔

شام کو شہر کا شہر دریا کنارے اُمڈ آتا۔ ہم چچا زاد اور گاؤں کے دوست آدھی رات تک وہیں بسیرا رکھتے۔ پورے چاند کی راتوں میں دریا تختِ آئینہ ہو جاتا۔

یہ اُن دنوں کی بات ہے جب مہر تھا نہ قہر اور نہ کوئی سچا شعر، بے پروائی کے دن تھے۔ وقت کی لگام تھامنے کا ایک طریقہ میں نے نکالا کہ ایک ایف سی میں اپنے قیام کو طویل کر دیا۔

گاؤں کی دوسری اہم سرگرمی تھی چاچے منور شاہ (میرے تایا) دی جھا، دو کنال کے صحن میں گلاب اور رابیل (موتیے) کی خوبصورت جھاڑیاں قطار اندر قطار ہاتھ باندھے کھڑی تھیں۔ گرمیوں کی راتوں میں جب رابیل کی جھاڑیاں پھولوں سے بھر جاتیں تو ایسی خوشبو بکھیرتیں جیسے چاند سے چاندنی نہیں، قطرہ قطرہ مہک ٹپک رہی ہو۔ شام سے ذرا پہلے جب گرمی کا دم نکل رہا ہوتا، خوب چھڑکاؤ کیا جاتا اور چارپائیاں بچھا دی جاتیں۔

عشا کے بعد یہاں خوب محفل جمتی، عمر کی کوئی قید نہ تھی، لونڈوں سے لے کر ادھیڑ عمر شامل رہتے۔ یہ حجرہ جگراتیوں، ناکام سیاستدانوں، نام نہاد دانشوروں، دائمی کنواروں، دُھتکارے ہوئے شوہروں اور نامُراد عاشقوں کی پناہ گاہ تھا۔ سننے کو بہت سے کان، تان کے حاشیہ نشین، نیم ملا ونیم حکیم سب کچھ یہیں تھا۔

شادی شُدہ مردوں کی بیویوں اور کنواروں کی ماؤں کا اتفاق تھا کہ خیبر سے مہران تک تمام مسائل کی وجہ یہی نصف شب تک کی آوارگی کا مرکز ہے۔ گرمیوں کی راتیں، میں اور میرا چچا زاد بھائی ظفر، حجرے کے صحن میں ہی گزارتے۔ گہرے نیلے آسمان پر تاروں کی قندیلیں اور آکاش گنگا کی جادوئی دُھول ایسی دلپذیر کہ گھنٹوں نظارہ کرتے رہیے اور آنکھیں نہ تھکیں۔

ایک رات کا واقعہ یوں ہے کہ عشا کے بعد حسبِ دستور محفل جمی، دن میں آندھی کے ساتھ چھینٹے بھی پڑے تھے لہٰذا گرمی نسبتاً کم اور رات خاصی خوشگوار تھی۔ میں سفید لٹھے کا کُرتا شلوار پہنے ہوئے تھا اور دبئی سے ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے منگوایا ہوا عطر بھی زیبِ جسم تھا۔

فہیم کارلو جس میں شکاری اُلؤوں کی روح سرایت کر گئی تھی اور جو بے خوابی کے طفیل لال آنکھیں لیے گھومتا پھرتا، اُس رات کہیں سے رابیل کے ہار لے آیا۔ موتیے کے ہار اور عطر کی خوشبو نے گفتگو کی کشتی کا رُخ جنات اور آسیب کی جھیلوں کی سمت موڑ دیا۔ سحر، جادو سفلیات، آسیب اور جنات غرض خوف کی ہر جہت تک پہنچنے کے لیے پتوار چلتی رہی۔ اگرچہ سبھی متفق تھے کہ یہ جو لڑکیوں کے سکول سے خوفناک واقعات منسوب ہیں سب واہیات باتیں ہیں۔ نہ آدھی رات کو سکول کی دیواروں پر چراغ جلتے ہیں نہ کسی نے بند کمروں سے جناتی چیخیں سُنی ہیں نہ رات کو وہاں کسی نے کھلے بالوں اور سُرخ لباس والی عورت کو پھرتے دیکھا ہے

لیکن چونکہ سکول صرف دن میں کُھلتا اور دن میں ہی بند ہو جاتا تھا، لٰہٰذا رات کو ایسی جگہوں پر جنات کا بسیرا ہونا کسی کے نزدیک انہونی بات نہ تھی۔

رات کے سوا ایک بجے سارے آوارہ گھروں کو لوٹے اور ہم تین چچا زاد رہ گئے۔ ظفر جو ازلی کمینہ تھا، اس نے ایک شرط کی تجویز پیش کی کہ اگر میں موتیےکے ہار گلے میں پہن کر سکول والی گلی کا چکر لگا کر واپس آؤں تو پانچ سو روپے وہ دونوں مجھے ادا کریں گے ورنہ مجھے شرط کی رقم ادا کرنا پڑے گی۔

میری غیرت کو جگاتے جگاتے اور شرط کے ضابطے طے کرتے کرتے پون گھنٹہ مزید گزر گیا اور رات کے دو بج گئے۔

دو بجے رات میں حجرے کے دروازے سے نکلا، سفید ابلق کُرتا، دانۃ الدنیا کا عطر، گلے میں رابیل کے ہار، غرض جنات و بلیات کے استقبال کا سارا مصالحہ دستیاب تھا۔

حجرے کو دو گلیاں لگتی تھیں، مجھے بائیں گلی سے نکل کر مذکورہ آسیبی سکول سے ہوتے ہوئے دائیں گلی سے ایک دائرہ مکمل کرتے ہوئے واپس آنا تھا۔

رات کے دو بجے کا وقت، بنا چاند کی اماوسی بیوہ رات اُس پر بادلوں کا گھیرا، گُھپ اندھیرا۔ دل میں شمشان گھاٹ کی چڑیلوں، کالی شکتیوں اور جنات کی ساری لرزہ خیز داستانیں تازہ ہو گئیں۔ گاؤں کی گلیوں میں بلب جلانے کی فضول خرچی بھلا کون کرتا تھا، ایسی تاریکی تھی کہ پاتال کی ڈائنوں کے دل کوئلہ ہو جائیں۔

دل میں آیت الکرسی کا ورد کرتا ہوا میں سکول والے موڑ پر پہنچا۔ سکول کے آہنی دروازے سے چند قدم پہلے ہی کسی نے میرے پیچھے پیچھے چلنا شروع کر دیا۔ میں نے وہم سمجھ کر جھٹکنا چاہا مگر آواز ایسی واضح تھی کہ ذرا برابر شک کی گُنجائش نہ تھی۔ کوئی میرے پیچھے تھا، صرف پانچ قدم کی دوری پر۔

مزید تصدیق کی خاطر میں چلتے چلتے اچانک رُک گیا، پیچھے سے آنے والے نادیدہ قدم بھی رک گئے۔ دوبارہ چلنا شروع کیا تو پھر وہی تعاقب۔ زیادہ ہولناک بات یہ تھی کہ قدموں کی چاپ بالکل میرے چلنے کے ردھم سے ہم آہنگ تھی، اتنی کہ یہ کام کسی آسیبی مخلوق کے سوا کوئی کر ہی نہیں سکتا تھا۔ سب کو پتہ ہے کہ جنات پیچھے مڑ کر دیکھنے والے کا کیا حشر کرتے ہیں، اس لیے پیچھے مُڑ کر دیکھنے کا سوال نہ تھا۔ خوف کی سرد لہر نے ریڑھ کی ہڈی کو منجمد کر دیا، کمر لکڑی کے تختے کی مانند سخت ہو گئی تھی۔ خشک پتے کی طرح کھڑ کھڑاتا ہوا سکول کے آگے سے گزرا۔

لمحے صدیوں پر کیسے محیط ہوتے ہیں یہ میں نے اس رات جانا۔

پچاس قدموں بعد گلی مڑتی تھی، مڑتے ہی حواس قدرے بحال ہوئے کیوں کہ یہاں ماسٹر ایوب صاحب کے گھر پر ایک مدقوق بلب ٹمٹما رہا تھا۔ میرا تعاقب بدستور جاری تھا مگر اِس پیلی بیمار روشنی نے قدرے تسلی بخشی۔

ماسٹر ایوب کے گھر کے بالکل سامنے نیچی چھت والا ایک کچا مکان تھا۔ ناگاہ میری نظر اُس کمرے کی چھت پر پڑی تو کیا دیکھتا ہوں کہ چھت کے کنارے قدرے چھوٹی قامت کا انسانی ڈھانچہ ہاتھ میں عصا پکڑے گلی کی طرف جھک کے کھڑا ہے۔

ڈھانچے کے زیریں جسم پر ایک دھجی لپٹی ہوئی تھی۔ دہشت کے مارے دل اُچھل کر گلے میں آن اٹکا، قریب تھا کہ میں منہ کھولتا تو دل باہر آن پڑتا۔ میں سرپٹ بھاگا۔ پیچھے چلنے والی مخلوق نے بھی بھاگنا شروع کر دیا۔ گلی میں لگے کھمبے کی ایک باہر نکلی ہوئی پتری میرے کرتے کے چاک میں اُلجھی اور چرررر کی آواز کے ساتھ کرتا تار تار کر گئی۔

فاصلہ کچھ زیادہ نہ تھا، سامنے ہی حجرے کا دروازہ تھا، دونوں چچا زاد باہر ہی کھڑے تھے۔ میں انہیں پھلانگتا ہوا اندر گُھسا اور چاپائی پر جا گرا۔ تھوڑی دیر میں اوسان بحال ہوئے تو پوری رام لیلا کہہ سنائی۔ وہ دونوں اِس پورے دورانیے میں لوٹ پوٹ ہوتے رہے۔ یہ خوف خاصا پیشاب آور بھی ثابت ہوا تھا۔

باتھ روم جانے کے لیے اُٹھا اور جونہی پہلا قدم اٹھایا پیچھے سے پھر وہی سرسراتی ہوئی چاپ۔ اب جو مُڑ کر دیکھا تو چپل میں ایک ڈور اٹکی تھی جس کے دوسرے سرے پر پلاسٹک کا ایک لفافہ بندھا تھا۔ پلاسٹک کے یہ لفافے ڈور سے باندھ کر گاؤں کے بچے پتنگ کے نعم البدل کے طور پر اُڑاتے تھے۔ یہ لفافی پتنگ ڈور سمیت سکول کے دروازے سے چند قدم پہلے ہی پڑی تھی جس کی ڈور میری چپل میں اٹک گئی تھی اب جوں ہی میں قدم اُٹھاتا تو وہ لفافہ بھی ساتھ چلتا۔ یہ معمہ تو حل ہوا۔

مگر چھت پر وہ ڈھانچہ؟ اسے تو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اور اس کا گواہ میرا تار تار کُرتا تھا۔

بہادری اور شرط تو دھرے ہی رہ گئے اُلٹا دونوں چچا زادوں نے خوب میرے لتے لیے۔

اگلے دن میں اُستاد ایوب کے گھر پہنچا اور اُنہیں اُن کے گھر کے بالمقابل آسیبی ڈھانچے کے بسیرے سے آگاہ کیا۔ اُستاد صاحب بھی حجرے کی محفل کے قدیمی رکن اور ہمارے دوست تھے۔ خوب ہنسے اور بتایا کہ وہ ڈھانچہ چاچا قاسم تھا جس کی عمر 80 سال تھی، کمزور اتنا تھا کہ سر کی ہڈیاں بھی گِنی جا سکتی تھیں۔ آنکھوں سے تقریباً نابینا تھا مگر نہ جانے کیسے لکڑی کی سیڑھی سے آدھی رات کو چھت پر جا چڑھتا اور گھنٹوں ایک ہی پوزیشن میں کھڑا رہتا تھا۔

بھوت پریت پر میرا یقین نہ اس وقت تھا نہ اب ہے، لیکن نہ جانے کیوں اس دن کے بعد سے میں نے کبھی اس قسم کی شرط لگانے کی کوشش نہیں کی۔

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی