'فوجی افسران کے خلاف تحقیقات چار ہفتوں میں مکمل کی جائیں'

وزارت دفاع کو فوجی افسران کے خلاف تحقیقات مکمل کر کے چار ہفتے میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم۔

2002 میں سپریم کورٹ نے جنرل (ر) اسلم بیگ اور جنرل (ر) اسد درانی کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا۔

سپریم کورٹ میں اصغر خان عمل در آمد کیس کا آغاز ہو تو جسٹس گلزار احمد نے اٹارنی جنرل سے سوال پوچھا کہ ابھی تک ملوث فوجی افسران کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔

جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی عدالتی بینچ نے عمل در آمد کیس کی سماعت کی اور وزارت دفاع کو حکم دیا کہ پاک فوج کے ملوث افسران کے خلاف چار ہفتوں میں تحقیقات مکمل کر کے عدالت میں رپورٹ جمع کرائی جائے۔

کیس کے سماعت کے دوران جسٹس گلزار احمد نے اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ پاک فوج کے ملوث افراد کا کورٹ مارشل کرنے کی بجائے تحقیقات کیوں ہو رہی ہیں جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کورٹ مارشل سے پہلے تفتیش قانونی تقاضا ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ فوجی حکام تو ملوث افسران کا پتہ بھی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو دینے کو تیار نہیں۔

کیس کے دوران متحدہ قومی موومنٹ کے بانی الطاف حسین کا بھی ذکر آیا۔ جسٹس گلزار احمد نے اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ الطاف حسین کا نام بھی رقم لینے والوں میں شام تھا، ان کا کیا ہوا؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ الطاف حسین لندن میں مقیم ہیں اور ان کی واپسی کے لیے برطانوی حکام سے بات چیت جاری ہے اور اس سلسلے میں اہم پیش رفت جلد متوقع ہے۔

جسٹس گلزار احمد نے ایف آئی اے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ایف آئی اے کیس سے ہاتھ اٹھانا چاہتی ہے۔ جسٹس گلزار احمد نے مزید کہا کہ ایف آئی اے کی رپورٹ کے مطابق اگر بینکوں میں 28 سال سے پرانا ریکارڈ موجود نہ ہونے سے شواہد نہیں مل رہے تو ہم بینکوں کے سربراہوں کو بلا لیتے ہیں۔

سماعت کے آخر میں سپریم کورٹ نے وزارت دفاع کو ملوث فوجی افسران کے خلاف تحقیقات کی رپورٹ چار ہفتے میں پیش کرنے کا حکم دیا اور وزارت دفاع کی رپورٹ آنے کے بعد ایف آئی اے کی رپورٹ کا جائزہ لینے کا کہا۔ دونوں رپورٹوں کے بعد سپریم کورٹ فیصلہ کرے گی کہ آیا سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد ہوا یا نہیں۔

کیس کی سماعت چار ہفتے کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان