فوج سیاست کرے گی تو نام بھی لیں گے اور تنقید بھی کریں گے: مولانا فضل الرحمٰن

جے یو آئی ف کے رہنما نے پشاور میں پی ڈی ایم جلسے سے خطاب میں کہا کہ حکومت کو ڈنڈے کے زور سے ٹھیک کریں گے کیونکہ دھاندلی ہوئی ہے اور دھاندلی کرنے والے بھی ہمیں معلوم ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن ، بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز پشاور میں جلسے کے دوران (اے پی)

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ پاکستان فوج اگر خود کو دفاعی امور تک محدود رکھے گی تو ہم ان کا احترام کریں گے لیکن اگر وہ سیاست میں آئے گی تو ہم ان کا نام بھی لیں گے اور ان پر تنقید بھی کریں گے۔

انہوں نے اتوار کو پشاور میں پی ڈی ایم کے جلسے  سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز، سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے خاندان سے ان کے والدہ بیگم شمیم کی وفات پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے شرکا کو بتایا کہ فوتگی کی وجہ سے مریم نواز شریف جلسے سے خطاب نہیں کر سکیں گی۔

انہوں نے کہا ’ہم نے پہلے بھی بتایا تھا کہ انتخابات میں دھاندلی کی گئی اور آج یہ قوم کی متفقہ آواز ہے کہ حکمران جماعت ڈرے ہوئے ہیں۔ عوام نے ثابت کر دیا کہ وہ جنگ کا اعلان کر چکے ہیں، وہ جنگ سے پیچھے نہیں ہٹیں گے کیونکہ موجود حکومت کو عوام مسترد کر چکے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ اشارے کی باتیں گزر چکیں، اب ان (حکومت کو) کو ڈنڈے کے زور سے ٹھیک کریں گے کیونکہ دھاندلی ہوئی ہے اور دھاندلی کرنے والے بھی ہمیں معلوم ہیں۔’ہم فوج کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر وہ سیاست کریں گے تو پھر وہ یہ نہ کہے کہ ان کا نام نہ لیا جائے۔ ہم ان کا پھر نام بھی لیں گے اور ان پر تنقید بھی کریں گے۔ فوج سیاست میں نہ آئے اور ملک کے دفاع کا کام کرے۔‘

انہوں نے افغانستان کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان ہمارے ساتھ تجارت کرنا چاہتا تھا لیکن اس حکومت کی وجہ سے وہ نالاں ہے اور ہمارے ساتھ تجارت نہیں کرنا چاہتا جبکہ سعودی عرب کی اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری بھی موجودہ حکومت کی وجہ سے تباہ ہو چکی۔ ’جس طرح امریکی عوام نے ٹرمپ کو مسترد کردیا اسی طرح ہماری عوام پاکستان کے ٹرمپ کو مسترد کر دیں گے۔‘

مولانا فضل الرحمٰن نے مزید کہا عجیب بات ہے کہ یہ حکومت کہتی ہے کہ اپوزیشن کے سیاست دان ان سے این آر او چاہتے ہیں لیکن  اصل میں یہ خود این آر او چاہتے ہیں۔

خارجہ پالیسی کے بارے میں بات کرتے ہوئے جے یو آئی ف کے سربراہ نے کہا کہ امریکہ، چین اور ایران سمیت افغانستان موجودہ حکومت پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں۔ ’سعودی عرب نے دوستی نبھاتے ہوئے حکومت کو دو ارب ڈالرز دیے لیکن اب وہ اتنے ناراض ہیں کہ ڈرتے ہیں کہ ایسا نہ ہو کہ حکومت ان کے پیسے کھا جائے۔ اسی طرح  متحدہ عرب امارات  اور چین نے موجود حکومت کو پیسے دیے لیکن وہ بھی آپ پر اعتماد نہیں کرتے۔‘

’ہم اس ملک کو اسلامی، جمہوری اور پارلیمانی پاکستان بتائیں گے۔ہم صوبوں کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ہم ہمیشہ عوام کی جنگ لڑیں گے اور عوام کے ساتھ ایک صف میں کھڑے رہیں گے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج خیبر پختونخوا نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے موجود حکومت کو مسترد کردیا ہے۔’آج اگر سوات اور  وزیرستان میں پاکستان کا پرچم لہرایا جاتا ہے تو یہ جمہوری نظام کی وجہ سے ہے جبکہ اس 'سلیکٹڈ ' حکومت میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ یہ دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھا سکے۔‘

انھوں نے کہا کہ آج اگر این آر او دیا گیا تو آرمی پبلک سکول کے قاتل احسان اللہ کو جیل سے نکال کر این آر او دیا گیا۔ 'یہ کس قسم کی جمہوریت ہے کہ اتنے بڑے دہشت گرد کو نہیں سنبھال سکتے اور آج بھی گڈ اور بیڈ طالبان کھیلتے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ موجود حکومت نے قبائلی اضلاع کے عوام کو بھی ریلیف نہیں دیا جو  ملٹری آپریشن کی وجہ سے بے گھر ہوئے تھے۔

مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے جلسے کے دوران سٹیج پر آکر  صرف اتنا کہا کہ  وہ اپنی دادی کی وفات کی وجہ سے خطاب نیہں کر سکیں گی۔ انہوں نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ حاضرین ان کی دادی اور والد کے لیے دعا کریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست