پنجاب: پٹواری کا عہدہ بدلنا ’دھوتی کی بجائے پتلون پہنانے‘ جیسا ہے

صوبے میں اب پٹواری کا نام ویلج آفیسر ہو گا۔ تاہم ماہرین پٹواری نظام میں متعارف تبدیلیوں سے مطمئن نہیں۔

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار (ٹوئٹر)

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں پٹواری کے عہدے کا نام تبدیل کر کے ’ویلج آفیسر‘ رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

صوبے میں موجودہ پٹواری نظام میں تبدیلیاں 29 اکتوبر کو ہوئی تھیں جن کا اعلان اتوار کو وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی زیر صدارت اجلاس میں ہوا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ اب پٹواری کو گیارہویں سے چودہواں سکیل دے کر ویلج آفیسر کے عہدے کا نام دیا جائے گا۔

اس کے علاوہ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے عملے کی ترقی کے لیے سروس سٹرکچر بنایا جائے گا، حاضر سروس پٹواریوں کو 11واں سکیل اور گردآور کو 14واں سکیل دینے، اسسٹنٹ ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ کو تحصیل دار اور لینڈ ریکارڈ آفیسر کو نائب تحصیل دار کے عہدوں میں بدلنے اور عملے کی بھرتیاں پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے کرنے کا بھی بتایا گیا۔

عملے کے لیے بھرتی کے بعد چھ ماہ کی تربیت لازم ہوگی جبکہ ویلج آفیسر کو لیپ ٹاپ بھی ملیں گے۔ اجلاس میں لاہور کی ایک تحصیل کو ریونیو کے حوالے سے ماڈل تحصیل بنانے کا فیصلہ بھی ہوا۔

وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کے ذرائع نے بتایا کہ اجلاس کے دوران عثمان بزدار نے کہا صوبے کے دور دراز علاقوں میں 115 اراضی مراکز کے قیام کو دسمبر تک مکمل کیا جائے۔

ذرائع نے متعارف کرائی گئی مزید تبدیلیوں کے بارے میں بتایا کہ لینڈ ریکارڈ سینٹرز پر ادائیگی کے لیے بینک کاؤنٹرز بنائیں جائیں گے، جس سے شہریوں کو لینڈ ریکارڈ سینٹر کے بار بار چکر لگانے کی زحمت سے چھٹکارا ملے گا۔

عہدے کا نام بدلنے کا کیا فائدہ؟

لاہور کے ایک سینیئر تحصیل دار نے، جن کا نام ظاہر نہیں کیا جا رہا، انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں پٹواری کے عہدے کا نام تبدیل کرنے کے فیصلے کو عوام کے ساتھ مذاق قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا عہدوں کے نام تبدیل کرنا ’دھوتی کی جگہ پتلون پہنانے کے سوا کچھ نہیں۔‘

انہوں نے الزام لگایا کہ حکومتیں ہمیشہ سے نظام کی بجائے عہدوں کے نام تبدیل کر کے یا کبھی نظام کو آن لائن کر کے لوگوں کو ’دھوکہ دیتی رہی ہیں‘۔

ان سے پوچھا گیا اگر پٹواری اور قانون گو کے عہدوں پر پڑھے لکھے لوگ آئیں گے تو کیا نظام زیادہ بہتر نہیں ہوگا؟ تو انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ’جیسے پہلے لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرکے نظام آن لائن کرنے کا دھوکہ دیا گیا اسی طرح اب عہدوں پر پڑھے لکھے افراد کی تقرری کا اعلان کر کے عوام کو بے وقوف بنایا جارہا ہے۔‘

انہوں نے کہا پہلے ہر موضع کا پٹواری جائیدادوں کا ملکیتی ثبوت فرد ملکیت اور زمین کا ریکارڈ فراہم کرتا تھا لیکن نظام کو آن لائن کرنے کے نام پر چند مراکز بنا کر لوگوں کو پہلے سے بھی زیادہ پریشان کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’لاہور میں 377 موضعات کے لیے 265 پٹواری ہیں جبکہ پنجاب بھر میں موضعات کی تعداد کے مقابلے میں 50 فیصد سیٹیں خالی ہیں، جن پر تقرریوں کی بجائے آن لائن سینٹرز بنا دیے گئے۔ ‘

’لاہور میں پانچ تحصیلوں کی سطح پر پانچ ہی سینٹرز بنائے گئے ہیں، جہاں ٹوکن لے کر دور دراز سے آنے والوں کو 100 روپے فیس ادا کر کے فرد ملکیت اور ریکارڈ لینے کے لیے گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔‘

انہوں نے کہا زمینوں کا ریکارڈ، رجسٹریاں درج کرنا، سکنی وزرعی زمینوں کی حدود کا احاطہ کرنا، کاشت کا اندراج کرنا، عدالتوں میں ریکارڈ کی تصدیق کے لیے پیشیاں بھگتنا ایک پٹواری کی ہی ذمہ داری ہوتی ہے۔

ان کے خیال میں اگر نظام تبدیل کرکے لوگوں کو سہولت پہنچانا مقصود ہوتو ایک پٹواری کو تین افراد پر مشتمل عملہ دیا جانا چاہیے، سزا و جزا کا موثر نظام بنا کر سفارش کلچر کا بھی خاتمہ ضروری ہے۔

انہوں نے کہا پی ایچ ڈی پاس کو بھی پٹواری کا کام سیکھنے میں کئی سال لگتے ہیں اور عہدے کے نام بدلنے سے لوگوں کو ایماندار کیسے بنایا جا سکتا ہے؟

پٹواریوں کے تحفظات

پنجاب میں مختلف اضلاع میں فرائض انجام دینے والے ایک پٹواری نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا ہر حکومت اپنے سیاسی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے سرکاری نظام کو چلانے کی کوشش کرتی ہے جس سے خرابیاں دور ہونے کی بجائے بڑھ جاتی ہیں۔

انہوں نے کہاعام تاثر ہے کہ پٹواری کرپشن کرتے ہیں جبکہ یہ کوئی معلوم نہیں کرتا کہ اعلیٰ افسران کو اوپر سے ملنے احکامات پر پٹواری کوئی بھی غیر قانونی کام کرنے سے کیسے انکار کرسکتا ہے، جو انکار کرے اس کے خلاف انتقامی کارروائیاں ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا پٹوار خانوں کو ویلج آفیسر کے سپرد کرنے سے کیا گارنٹی ہے کہ وہ کرپشن یا سفارش پر غیرقانونی کام نہیں کریں گے؟

انہوں نے کہا پٹواریوں کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے نظام کو بہتر کرنے کی بجائے ہر حکومت سیاسی پوائنٹ سکورنگ کر کے لوگوں میں شہرت حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے لیکن حقیقی مسائل حل کرنے کے لیے کوئی بھی تیار نہیں، سرکاری ملازمین کے مسائل حل کیے بغیر عوامی مشکلات ختم نہیں ہوسکتیں۔

محکمہ ریونیو پنجاب کور کرنے والے صحافی عامر محمود نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا وزیر اعلیٰ پنجاب کا تعلق جس سیاسی جماعت (پی ٹی آئی) سے ہے ان کے کارکنوں نے پنجاب میں پٹواری کا لفظ اپنے سیاسی حریفوں سے منسوب کر رکھا ہے، اس لیے شاید صوبائی حکومت اپنے کارکنوں کو خوش کرنے کے لیے عہدے کا نام تبدیل کر رہی ہے کیونکہ پٹوار خانوں، زمینوں کےریکارڈ سے متعلق کورس میں کوئی مضمون موجود نہیں، اس لیے جتنا بھی پڑھا لکھا شخص زمینوں کے معاملات پر معمور کیا جائے گا اسے پہلے فیلڈ میں کام سیکھنا اور سمجھنا ہوتا ہے۔

’ویسے تو سی ایس ایس یا پی سی ایس پاس کر کے تعینات ہونے والے اسسٹنٹ کمشنرز یا ڈپٹی کمشنرز بھی زمینوں کے ریکارڈ اور قانونی معاملات پر عبور نہیں رکھتے لہذا انہیں بھی اپنے تحصیل داروں اور پٹواریوں سے کام سیکھنا پڑتا ہے، جو نہیں سیکھتا اسے فائلیں پڑھنے اور کیسوں کے فیصلے کرنا مشکل لگتاہے۔‘

انہوں نے کہا حکومتیں نام نہاد کاموں سے کارکردگی دکھانے کی بجائے نظام میں قابل عمل بہتری کو یقینی بنائیں تو ہی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان