طلبہ نکمے ہیں یا استاد نااہل؟

جب سے ملک میں تعلیم کے حوالے سے نت نئی پالیسیاں بننی شروع ہوئی ہیں تب سے ملک سے علم اُٹھ گیا ہے۔

اب وطن عزیز میں صرف تعلیمی ادارے ریوڑیوں کی طرح ڈگریاں بانٹ رہے ہیں(اے ایف پی)

جب سے ملک میں تعلیم کے حوالے سے نت نئی پالیسیاں بننی شروع ہوئی ہیں تب سے ملک سے علم اُٹھ گیا ہے۔

اب وطن عزیز میں صرف تعلیمی ادارے ریوڑیوں کی طرح ڈگریاں بانٹ رہے ہیں۔ امتحانات ایک غیر ضروری عمل کا نام رہ گیا ہے جس میں رٹے رٹائے سوالات آتے ہیں اور جن کے جوابات لکھ کر نمبرز دیے جا رہے ہیں۔

کوئی بھی آؤٹ آف کورس سوال پیپر میں دے دیں طلبہ آؤٹ آف کورس کا راگ الاپنا شروع کردیتے ہیں کہ یہ تو ہمیں پڑھایا ہی نہیں گیا۔

تعلیمی ڈھانچہ پورے ملک میں تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ چھوٹی کلاسوں سے لے کر بڑی کلاسوں تک، سب کا ایک ہی حال ہے۔ سب ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں۔

اگر ہم کہیں کہ 2000 سے پہلے ملک کا تعلیمی نظام کامیاب تھا تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہوگا کیونکہ اُس وقت علم ہوا کرتا تھا۔ اساتذہ کتاب پڑھا کرتے تھے اور طالب علموں کے پاس صرف اور صرف کھیل کے ذرائع تھے اور وقت ہی وقت تھا۔

نئی ٹیکنالوجی کی آمد سے معلومات میں حد درجہ اضافہ ہوگیا ہے مگر جو علم تھا وہ نہیں رہا۔

اساتذہ بھی سہل پسند ہوکر گوگل پر ہی اکتفا کر رہے ہیں اور طالب علم بھی گوگل سے ہی اسائنمنٹ بنا کر اساتذہ کو دے رہے ہیں، جن کو یہ پتہ ہوتا ہے کہ یہ سرقہ نویسی ہے مگر وہ خاموش ہوجاتے ہیں کیونکہ اساتذہ خود سرقہ نویسی میں ملوث ہیں۔

شاید ہی کوئی ٹیچر یا طالب علم کتاب پڑھنے کی جسارت کرے۔ اب ایم سی کیوز سے معلومات کا پیمانہ ناپا جاتا ہے، جس میں تُکوں سے بھی کام چل جاتا ہے۔

سکولوں میں اساتذہ اور طالب علموں کے درمیان بے تکلفی نے بھی تعلیم کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔

کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھی یہی بے تکلفی تعلیم کے حصول میں ایک رکاوٹ بن گئی ہے۔ پہلے سی ٹی، پی ٹی سی، بی ایڈ اور ایم ایڈ کے کورسز کروائے جاتے تھے مگر اب ملازمت کے حصول کے لیے وہ شرط بھی ختم کردی گئی ہے۔

یعنی یہ کورسز پڑھائی کے طریقے سکھاتے تھے کہ کس طرح طلبہ کو پڑھایا جائے، مگر اب وہ بھی ضروری نہیں رہا۔

کالجوں اور یونیورسٹیوں کے اساتذہ کا معیار بہت گر گیا ہے۔ وہ ڈگری حاصل کرکے پڑھانے لگ جاتے ہیں۔ پڑھنا ایک الگ کام ہے اور پڑھانا الگ۔

اب یہ ضروری تو نہیں کہ کلاس کا ٹاپر ہی بہترین طریقے سے پڑھا بھی سکتا ہو، مگر ہمارے ہاں یہ ایک رجحان بن گیا ہے کہ جو ٹاپر ہے وہی اچھا استاد بھی ہوگا، جو بالکل غلط ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سے کم ازکم میں تو متفق نہیں۔ خاص طور پر یونیورسٹی کے اساتذہ کے لیے ٹیچنگ کی ایک سالہ تربیت لازمی ہونی چاہیے، جس میں انہیں پڑھانے کے طریقے سکھائیں جائیں۔

ملک عزیز میں پی ایچ ڈی اساتذہ پڑھانے کے طریقے سے نابلد ہیں، وہ کلاس میں اپنی کہانیاں ہی سناتے پائے جاتے ہیں، جس ملک سے ڈگری لی ہوگی وہاں کی کہانیوں کی پوٹلیاں بھر بھر کر طلبہ کے سامنے پیش کی جاتی ہوں گی۔

کلاس کے آخر میں فوٹو کاپی شدہ نوٹس طلبہ کے حوالے کر کے کہا جائے گا، اس کو پڑھیں کل اس پر کلاس میں گفتگو کی جائے گی اور پھر طلبہ کو کلاس میں انگیج کرکے خود آرام سے بیٹھیں ہوں گے۔

جبکہ کبھی کبھار کوئی موضوع دے کر کہا جائے گا کہ اس کو سرچ کرلیں جس حوالے سے اساتذہ کو خود بھی معلومات نہیں ہوں گی۔

پہلے وقتوں کے اساتذہ اور آج کے اساتذہ میں زمین آسمان کا فرق ہے، آج بھی اُن اساتذہ کو یاد کیا جاتا ہے جبکہ موجودہ دور میں سمسٹر کے خاتمے کی ساتھ ہی استاد کو بُھلا دیا جاتا ہے مگر جن اساتذہ نے جان ماری ہوتی ہے وہ اساتذہ ایک ہفتہ پڑھانے کے بعد بھی طالب علموں کے ذہنوں سے نہیں نکلتے اور بہترین اساتذہ کی طرح اُن کا نام روشن ہوتا ہے۔

موجودہ دور میں طالب علم ٹیکنالوجی کے باعث تیز ہوگئے ہیں وہ کبھی کبھار پڑھ کر آتے ہیں تو اساتذہ کے لیے مشکل پیدا ہوجاتی ہے۔

جو اساتذہ خود کو حرف آخر سمجھتے ہیں اور بغیر لیکچر تیار کرکے کلاس روم میں جاتے ہیں تو انہیں جب طلبہ کے تیکھے سوالات کا سامنا ہوتا ہے تو اُن کے پسینےچھوٹ جاتے ہیں اور وہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگتے ہیں۔

اُن طالب علموں کے نمبرز پھر امتحان میں کم آتے ہیں جو زیادہ سوالات کرکے استاد کو تنگ کرتے ہیں کیونکہ ایسے طلبہ کو نالائق استاد بس نمبروں کی مار دیتا ہے۔

یونیورسٹی کے اساتذہ کو ہائیر ایجوکیشن کی جانب سے ایک اور مسئلے کا سامنا ہے جس میں اساتذہ کو تحقیقی مقالے لکھنے کی دوڑ میں ڈال دیا گیا ہے، جس سے اُن کی پروموشن کی جاتی ہے خاص کر پی ایچ ڈی اساتذہ کو اس نشے میں مبتلا کردیا گیا ہے۔

جس سے وہ سر نہیں اُٹھا سکتے اور اس کا نقصان یہ ہورہا ہے کہ اساتذہ پڑھانے میں دلچسپی نہیں لیتے اور ہر وقت اپنے تحقیقی پیپرز میں مصروف رہتے ہیں۔

وہ طلبہ کو پڑھانے سے زیادہ اپنے لیے مصروف ہوتے ہیں کیونکہ اُن کی فوقیت پڑھانا مقصود ہی نہیں۔

دوسری جانب طلبہ بھی نکمے ہوگئے ہیں جن کے پاس سوشل میڈیا پر وقت گزارنے کے لیے گھنٹوں ہوں گے مگر پڑھائی کے لیے پندرہ منٹ بھی نہیں ہوں گے یعنی اگر اساتذہ نے پڑھانا چھوڑ دیا ہے تو طلبہ بھی حد سے زیادہ نکمے ہوگئے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ