بارڈر کھل جائے تو برصغیر میں خوشحالی آسکتی ہے: عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے کرتارپور میں گردوارہ دربار صاحب کی مکمل تزئین و آرائش اور بھارت سے یہاں آنے جانے کے لیے راہ داری کا افتتاح کر دیا۔

عمران خان کرتارپور راہ داری کا افتتاح کرتے ہوئے  (اے ایف پی)

وزیراعظم عمران خان نے ہفتے کو کرتارپور میں گردوارہ دربار صاحب کی مکمل تزئین و آرائش اور بھارت سے یہاں آنے جانے کے لیے راہ داری کا افتتاح کر دیا۔

آج کم سے کم 700 یاتری راہ داری سے گزرے جبکہ آنے والے دنوں میں روزانہ پانچ ہزار زائرین یہاں آ سکیں گے۔ اس گردوارے کا افتتاح 12 نومبر کو گرو نانک کی 550 ویں یوم پیدائش سے کچھ دن پہلے کیا گیا۔

اس موقعے پر سابق بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کے علاوہ مشرقی پنجاب کے وزیراعلیٰ امرندر سنگھ، بالی ووڈ کے اداکار سنی دیول اور دیگر اہم شخصیات بھی موجودہ تھیں۔

راہ داری سے گزرنے والے پہلے یاتریوں میں سابق بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ بھی شامل تھے جنہوں نے پاکستانی سرکاری میڈیا کو بتایا کہ یہ ایک ’بڑا لمحہ‘ ہے۔ ’مجھے امید ہے کہ کرتارپور کے افتتاح کے بعد پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں بہتری آئے گی۔‘

گردوارے کی تزئین و آرائش اور راہ داری کا افتتاح ایک غیر معمولی حیثیت اختیار کر چکا ہے، بالخصوص جب آج بھارتی سپریم کورٹ نے ایک تاریخی اور اہم مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے حکم دیا کہ بابری مسجد کی متنازع جگہ پر مندر تعمیر کیا جائے اور مسجد کے لیے علیحدہ سے جگہ مختص کی جائے۔

افتتاحی تقریب سے خطاب میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا پاکستان اور بھارت کی خوش حالی میں مسٔلہِ کشمیر سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔’آج کشمیرمیں جو کچھ ہورہا ہے وہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے، کشمیرمیں اس وقت زمین کا نہیں انسانیت کا مسئلہ ہے۔‘

وزیراعظم نے نریندرمودی پر زور دیا کہ وہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے لوگوں کو انصاف دیں۔ ’مودی اگر میری بات سن رہے ہیں تو میں کہتا ہوں انصاف سےامن ہوتاہے، ہم کشمیر کا مسئلہ بات چیت کے ذریعے حل کرسکتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کشمیر میں ’انسانیت سوز مظالم‘ پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ صرف ایک مسئلہ کشمیرکا ہے جسے ہمسائیوں کی طرح بات چیت سے حل کیا جا سکتا ہے۔ ’کشمیر کا مسئلہ 70برس سے حل نہ ہونے کی وجہ سے نفرتیں ہیں۔ لیڈرانسانیت کو اکھٹا کرنے کی بات کرتے ہیں تقسیم کی نہیں، نفرتیں پھیلا کر ووٹ لینےوالا لیڈر نہیں بن سکتا۔‘

نہوں نے کہا پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدیں کھل جائیں تو تجارت ہو گی، غربت ختم اور خوشحالی آ جائے گی۔ ’اگر ہم فرانس اور جرمنی کی طرح اپنے اختلافات حل کر لیں تو برصغیر بھی تمام مسٔلوں سے آزاد ہو جائے گا۔ یہ شروعات ہے اور ایک دن بھارت سے ایسے تعلقات ہوں گے جیسے ہونے چاہیے تھے تاکہ پورا برصغیر خوشحال ہو سکے۔‘

اس موقعے پر انہوں نے پاکستان فوج سے جڑی تعمیراتی کمپنی ایف ڈبلیو او کو ریکارڈ 11 مہینے میں گردوارے کی تزئین و آرائیش اور راہ داری پر کام مکمل کرنے پر خراج تحسین پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا ’مجھے معلوم ہی نہیں کہ میری حکومت اتنی مستعد ہے۔‘

’کرتارپور راہ داری دنیا کو جنت بنانے کے عمل کا آغاز‘

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق برصغیر کی 1947 کی تقسیم سے آزاد ہونے والے دونوں ملکوں کے مابین ایک معاہدے کے بعد سیکڑوں بھارتی سکھ  آج  ایک تاریخی یاترا پر پاکستان میں موجود اپنے مذہب کے سب سے مقدس مقام پر پہنچے۔

بھارت میں ڈیرہ بابا نانک سے ایک نئے تعمیر کردہ امیگریشن ہال سے  نکلنے والے سکھوں نے اپنی خوشی  کا  اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کئی دہائیوں  سے ایک دوسرے کے حریف ملکوں کے مابین یہ تعاون کی ایک نادر مثال ہے جس کے باعث وہ آج پاکستان کی سرحد عبور کرکے اپنے مقدس ترین مقام کا دیدار کرنے کے قابل ہوئے ہیں۔

ان سکھوں میں کچھ والدین اپنے بچوں کو کندھوں پر اٹھا کر پاکستان میں داخل ہو رہے تھے۔

پاکستانی سرحد میں بسیں انھیں تقریباً چار کلو میٹر طویل نئی تعمیر شدہ راہ داری کے ذریعے سکھ مت کے بانی گرو نانک کی آخری آرام گاہ تک لے جانے کے لیے تیار کھڑی تھیں۔

سرجیت سنگھ باجوہ نے اے ایف پی کو بتایا: ’عام طور پر لوگ کہتے ہیں کہ خدا ہر جگہ موجود  ہوتا ہے لیکن اس سفر میں محسوس ہوتا ہے کہ میں براہ راست گرو نانک سے آشیرباد حاصل کروں گا۔‘

دنیا بھر میں 14 کروڑ سکھوں کے لیے سفید گنبد والا یہ گردوارہ اس  مذہب کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک ہے۔

تاہم بھارتی سکھوں کے لیے اس تک رسائی ناممکن تھی۔ یہ ان سے اتنا قریب تھا کہ وہ سرحد پر کھڑے ہو کر دیکھ تو سکتے تھے لیکن یہاں ماتھا نہیں ٹیک سکتے تھے۔

جب 1947 میں برطانوی راج کے اختتام پر پاکستان آزاد ہوا تو کرتار پور سرحد کے مغربی کنارے پر پاکستانی علاقے میں چلا گیا جبکہ خطے کے بیشتر سکھ دوسری طرف رہ گئے۔

سرحد کے دونوں اطراف کے یاتریوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اس راہ داری سے بھارت اور پاکستان کے تعلقات میں بہتری آ ہوسکتی ہے۔

سکھ یاتریوں میں سے ایک نے، جنھوں نے اپنا نام نہیں بتایا،  پاکستان  کے سرکاری ٹی وی کو بتایا: ’جب حکومتوں کے تعلقات کی بات کی جاتی ہے تو یہ نفرت پر مبنی ہیں لیکن دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان تعلقات میں گرم جوشی پائی جاتی ہے۔‘

اس سے قبل بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے پاکستانی ہم منصب عمران خان کو ’بھارتیوں کے جذبات کا احترام‘ کرنے پر پاکستان سے اظہار تشکر کیا ۔

گرو نانک کے یوم پیدائش کی تقریبات سے قبل دنیا بھر سے سکھ پاکستان پہنچ رہے ہیں۔

پاکستان نے راہ داری کے لیے سینکڑوں ملازمین کو بھرتی کیا ہے جو بارڈر امیگریشن چیک پوائنٹ پر تعینات ہیں جبکہ گروارے کو مزید توسیع دینے کے لیے تعمیراتی کام بھی جاری رہے گا۔

سکھ مذہب کا آغاز 15 ویں صدی میں پنجاب سے ہوا تھا۔ یہ خطہ جو آج بھارت اور پاکستان کے مابین تقسیم ہے۔ گرو نانک نے ایک ایسے عقیدے کی تعلیم دینا شروع کی جس نے مساوات کی تبلیغ کی تھی۔

آزادی بعد دونوں جانب پُرتشدد فسادات کے بعد لاکھوں افراد نے تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت کی۔ پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق 20 ہزار سکھ رہ گئے تھے۔

ایک بھارتی یاتری دیوندر سنگھ وڈہ نے پاکستان پہنچنے کے بعد اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’زندگی مختصر ہے۔ ہم سب کو مر جانا ہے ... تو کیوں نہ زندگی سے لطف اٹھائیں اور اس دنیا کو جنت بنائیں اور مجھے لگتا ہے کہ یہ (کرتارپور راہ داری) اس کا آغاز ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان