رگبی کھیلتی وہیل ’روس کی جاسوس‘ تھی؟

تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ کے رگبی شائقین کے ساتھ کھیلنے والی یہ وہیل ’ہوالڈیمیر‘ ہو سکتی ہے، جو دراصل روسی بحریہ کی تربیت یافتہ جاسوس نر وہیل تھی جو لاپتہ ہو گئی تھی۔

جنوبی افریقہ کے رگبی شائقین کے ساتھ کھیلتے ہوئے اس وہیل کی ویڈیو کو سوشل میڈیا پر ایک کروڑ 90 لاکھ سے زائد مرتبہ دیکھا جاچکا ہے۔ (ویڈیو سکرین گریب)

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں جنوبی افریقہ کے رگبی شائقین کے ساتھ کھیلتے ہوئے نظر آنے والی سفید (بلوگا) وہیل کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ شاید یہ روسی فوج کے جاسوسی پروگرام سے فرار ہو گئی تھی۔

تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ یہ وہیل ’ہوالڈیمیر‘ ہو سکتی ہے، جو دراصل روسی بحریہ کی تربیت یافتہ جاسوس نر وہیل تھی جو لاپتہ ہو گئی تھی۔

ہوالڈیمیر کی خبر میڈیا میں اُس وقت آئی تھی جب رواں سال اپریل میں اسے ناروے کے ساحل کے قریب دیکھا گیا تھا۔ اُس وقت اس کے جسم کے ساتھ ایک پٹہ بندھا ہوا تھا جس پر تحریر تھا: ’ایکوپمنٹ آف سینٹ پیٹرزبرگ‘ یعنی سینٹ پیٹرزبرگ کا آلہ کار۔

اس وہیل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنی معصومانہ حرکتوں سے ایک کشتی پر سوار لوگوں سے خوراک طلب کی۔ یہ ایک سدھائے ہوئے پالتو جانور کی طرح برتاؤ کر رہی تھی اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ انسانوں سے بات چیت  کرنے کی عادی ہے۔

جنوبی افریقہ کے رگبی شائقین کے ساتھ کھیلتے ہوئے اس وہیل کی ویڈیو کو سوشل میڈیا پر ایک کروڑ 90 لاکھ سے زائد مرتبہ دیکھا جاچکا ہے۔

’نیو یارک ٹائمز‘ اور ’سائنٹیفک امریکن‘ کے مصنف فرس جابر نے ویڈیو کے بارے میں بتایا: ’یہ غالباً ایک مغوی وہیل ہوالڈیمیر ہے جو روسی فوجی پروگرام سے فرار ہو گئی تھی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’تنہائی کی شکار، غذائیت کی کمی اور زخمی ہونے کی وجہ سے یہ انسانوں سے خوراک اور توجہ حاصل کرنے کے لیے سمندر میں گھوم رہی تھی۔‘

آبی ممالیہ کے محقق کواڈ فن اور ماہرِ حیاتیات ڈیرن نیش دونوں نے اس نظریے کی تائید کی ہے۔

ویڈیو میں ایک شخص کو کشتی کے لوگو (Logo) کے ساتھ جیکٹ پہنے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے، جو اُس وقت ناروے کے پانیوں میں سفر کر رہے تھے تاہم اس ویڈیو کے اصل ماخذ کے بارے میں معلومات نہیں ہیں۔

ناروے کے ’انسٹی ٹیوٹ آف میرین ریسرچ‘ اور وہیل کی دیکھ بھال میں مدد دینے والی تنظیم ’والڈیمیر فاؤنڈیشن‘نے ابھی تک اس دعوے کی تصدیق کرنے کی درخواست پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

کواڈ فن نے کہا کہ ان کے خیال میں ویڈیو میں نظر آنے والی وہیل والڈیمیر تھی اور اس کا انسانوں کے ساتھ رویہ ’قدرتی‘ نہیں تھا۔

انہوں نے کہا: ’والڈیمیر کو سمندر سے پکڑا گیا تھا اور اسے انسانوں سے کھانا حاصل کرنے کے بدلے میں چیزیں لانے جیسی حرکات کرنے کی تربیت دی گئی تھی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کواڈ فن نے مزید کہا: ’اس کی حرکات سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ غذائیت کی کمی کا شکار ہے اور پھر بھی سمندر سے قدرتی طور پر خوراک تلاش کرنے کی بجائے وہ انسانوں پر خوراک کے لیے انحصار کر رہی تھی۔‘

رواں سال کے آغاز میں ایک اور وائرل ویڈیو میں ہوالڈیمیر کو ایک آئی فون بازیاب کرنے میں مدد دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جو اس کے قریب پانی میں گر گیا تھا۔

ہوالڈیمیر فاؤنڈیشن کے مطابق وہیل شاید ہاتھ سے کھانا کھانے کی عادت کی وجہ سے انسانوں پر انحصار کر چکی تھی اور وہ خود سمندر سے اپنی خوراک تلاش کرنے کے قابل دکھائی نہیں دے رہی ہے۔

جب ستمبر کے اوائل میں اسے ناروے کے ساحل کے قریب دیکھا گیا تھا تو وہ کسی کشتی یا بحری جہاز کو دھکیلنے والے پنکھوں سے زخمی دکھائی دیتی تھی۔

امریکہ اور روس دونوں ہی آبی ممالیہ جیسے ڈولفن اور وہیل کو فوجی پروگرام کے لیے تربیت دیتے ہیں، جو سمندری بارودی سرنگوں کا پتہ لگانے اور غیر محفوظ ٹارپیڈو کی بازیابی میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

روسی فوج کے ایک ترجمان نے اپریل میں اس بات کی تردید کی تھی کہ ہوالڈیمیر وہیل اس کے کسی تربیتی پروگرام کا حصہ تھی تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ فورسز بعض اوقات ڈولفن کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

دوسری جانب روس میں ناروے کے سابق سفارت کار مارٹن وکیبے نے ایک متبادل نظریہ پیش کیا ہے جس کے مطابق والڈیمیر روس اور ناروے کی سرحد کے قریب معذور بچوں کی تھراپی پروگرام کا حصہ تھی۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ٹرینڈنگ