’کیا حکومت کے پاس منیر اکرم سے زیادہ قابل شخص موجود نہیں؟‘

سفارت کار منیر اکرم کی مستقل مندوب برائے اقوام متحدہ تعیناتی کے خلاف ویمن ایکشن فورم کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر۔

ایمبیسیڈر منیر اکرم مارچ 2003 میں اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل سے خطاب کر رہے ہیں (اے ایف پی)

نیویارک میں پاکستان کے مستقل مندوب برائے اقوام متحدہ منیر اکرم کی بطور مندوب تعیناتی کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں ویمن ایکشن فورم کی طرف سے دائر درخواست پر سماعت میں حکومتی وکیل کو دو ہفتوں کے اندر منیر اکرم سے ہدایات لے کر ویمن ایکشن فورم کی طرف سے عائد اعتراضات کا جواب دینے کا کہا گیا ہے۔

ویمن ایکشن فورم نے گذشتہ ماہ منیر اکرم کی تعیناتی کے خلاف درخواست دائر کی تھی اور کہا تھا کہ ریٹائرڈ اہلکار کی دوبارہ تعیناتی سول سرونٹس ایکٹ کے سیکشن 14(1) کی خلاف وزری ہے۔ ویمن ایکشن فورم کے مطابق منیر اکرم کی تعیناتی غیر قانونی اور غیر آئینی ہے جس کی وجہ سے ان کی تعیناتی کو منسوخ کیا جانا چاہیے۔

اپنی درخواست میں ویمن ایکشن فورم نے کہا ہے کہ منیر اکرم کے خلاف گھریلو تشدد کے الزامات ہیں اور ان کی تعیناتی کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر غلط تاثر جاتا ہے اور ان کی تعیناتی سے سرکاری اہلکاروں کی تعیناتی بھی متاثر ہوتی ہے۔

درخواست میں تفصیلات دیتے ہوئے الزام عائد کیا گیا ہے 2003 میں منیر اکرم نیو یارک میں پاکستان کے مستقل مندوب تھے جب ان پر ایک خاتون پر گھریلو تشدد کا الزام لگایا گیا تھا جسے بین الاقوامی اخباروں نے رپورٹ کیا تھا۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ اس وقت اخباروں نے یہ بھی رپورٹ کیا تھا کہ امریکی محکمہ خارجہ نے منیر اکرم کا سفارتی استثنی ختم کرنے کے لیے پاکستان سے درخواست بھی کی تھی تا کہ ان کے خلاف امریکی قوانین کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔ درخواست میں امریکی اخبار ’نیو یارک ٹائمز‘ کے 8 جنوری 2003 کے مضمون کی کاپی بھی لگائی گئی ہے۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کی اس وقت کی ایک رپورٹ کے مطابق 10 دسمبر 2002 کو ایک خاتون نے نیو یارک پولیس کو منیر اکرم کے گھر پر بلایا تھا جنہوں نے الزام لگایا تھا کہ منیر اکرم نے ان پر تشدد کیا ہے۔ اے ایف پی نے اخبار رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ خاتون نے پولیس کو بتایا تھا کہ ان کے سر کو دیوار پر مارا گیا تھا اور ماضی میں بھی ان پر تشدد ہوا تھا۔

انڈپینڈنٹ اردو نے جب درخواست گذار اور ویمن ایکشن فورم - کراچی کی نمائندہ مدیحہ لطیف سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ سرکاری نمائندوں کا ماضی بے داغ ہونا چاہیے اور کسی بھی تعیناتی سے پہلے امیدوار کی مکمل جانچ پڑتال ہونا ضروری ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ حکومت ان لوگوں کو ہی تعینات کر رہی ہے جنہیں الزامات کا سامنا رہا ہے۔ انہوں نے راولپنڈی سے گرفتار مبینہ طور پر 30 بچوں سے زیادتی کرنے والے سہیل ایاز کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں بھی حکومت نے صحیح جانچ پڑتال نہیں کی تھی۔

کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ منیر اکرم کی تعینانی کو چیلنج کرنے کے پیچھے ویمن ایکشن فورم کے عزائم کچھ اور ہیں، تاہم مدیحہ لطیف نے اس تاثر کی تردید کرتے ہوئے کہا: ’ ویمن ایکشن فورم صرف اتنا چاہتی ہے کہ حکومت اپنے فیصلوں میں انسانی حقوق کمیشن، جو کہ حکومت کا ہی حصہ ہوتے ہیں، ان سے بھی مشاورت کرے۔

ان کا کہنا تھا: ’منیر اکرم جنہیں ریٹائر ہوئے کافی عرصہ گذر چکا ہے، انہیں ہی دوبارہ تعینات کرنے کا مقصد کیا ہے؟ کیا حکومت کے پاس اس ذمہ داری کے لیے کوئی اور قابل شخص موجود نہیں ہے؟‘

ایمبیسیڈرمنیر اکرم کا موقف جاننے کے لیے انڈپینڈنٹ اردو نے نیو یارک میں پاکستان کے مشن کے میڈیا امور دیکھنے والے سیکنڈ سیکریٹری ذوالقرنین چھینہ سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا اس حوالے سے دفتر خارجہ ہی ردعمل دے سکتا ہے۔ 

جب دفتر خارجہ سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ایک دو دن میں اس حوالے سے جواب دیا جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان