امریکی صدر کا مواخذہ: ’ٹرمپ ہمیں ڈرا دھمکا رہے ہیں‘

مواخذے کی اہم گواہ اور یوکرین میں سابق سفیر میری یووانوچ جب کانگریس میں ٹرمپ کے خلاف گواہی دے رہی تھیں تو امریکی صدر نے عین اُس وقت ان پر لفظی گولہ باری کرتے ہوئے تضحیک کا نشانہ بنایا۔

قومی ٹیلی ویژن پر حلف کے تحت گواہی دیتے ہوئے میری یووانوچایک ٹھوس اور ثابت قدم شخصیت بن کر سامنے آئیں (اے ایف پی)

امریکی صدر کے خلاف مواخذے کی اہم گواہ اور یوکرین میں واشنگٹن کی سابق سفیر میری یووانوچ نے الزام لگایا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں ڈرایا دھمکایا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جب میری جمعے کو کانگریس میں امریکی صدر کے خلاف گواہی دے رہی تھیں تو ٹرمپ نے عین اُس وقت ان پر لفظی گولہ باری کرتے ہوئے انہیں تضحیک کا نشانہ بنایا۔

قومی ٹیلی ویژن پر حلف کے تحت گواہی دیتے ہوئے میری ایک ٹھوس اور ثابت قدم شخصیت بن کر سامنے آئیں، جنہوں نے پانچ گھنٹوں تک ٹرمپ کے اتحادیوں کے کڑے سوالات کا سامنا کیا ،جن کا الزام تھا کہ میری نے یوکرین میں امریکی خارجہ پالیسی کو نقصان پہنچایا ۔

33 سالہ سفارتی تجربہ رکھنے والی میری نے جب اپنا طویل بیان ختم کیا تو حاضرین نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر ان کو داد دی۔

 اس بیان میں انہوں نے اپنے ذاتی احساسات بھی بتائے کہ کیسے انہوں نے کیف سے واپس طلب کیے جانے سے پہلے ایک تکلیف دہ اور توہین آمیز مہم کا سامنا کیا۔ واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے میری کو ان کے عہدے سے برخاست کر دیا تھا۔

میری کے کانگریس میں جاری بیان کے ایک گھنٹے بعد صدر ٹرمپ نے اپنی ایک ٹویٹ میں ان پر ذاتی حملہ کرتے ہوئے لکھا: ’میری یووانوچ کو جہاں بھی بھیجا گیا وہاں انہوں نے کام خراب ہی کیا۔‘

جب میری سے پوچھا گیا کہ وہ ٹرمپ کی ٹویٹ کا ان کی اور باقی گواہوں کی گواہی پر کیا اثر ہو گا تو انہوں نے کہا کہ وہ اس سے خوف زدہ ہیں۔

انہوں نے پینل کو بتایا: ’یہ ڈرانے دھمکانے والی بات ہے، میں ایسی کوئی بات نہیں کرنا چاہتی جیسی صدر ٹرمپ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اس کا اثر یقیناً دھمکانے جیسا ہی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

میری نے قانون سازوں کو بتایا کہ امریکی سفارت کاروں کے لیے اپنی ہی انتظامیہ کی حمایت نہ ہونا ان کے لیے کتنا خطرناک ہو سکتا ہے۔

سماعت ٹی وی پر لائیو دکھائی گئی اور سوشل میڈیا پر بھی اس پر بحث جاری رہی جس سے امریکی قوم کو موقع ملا کہ وہ اس معاملے کو قریب سے دیکھ سکیں۔

جمعہ کیپیٹل ہل کا ایک اہم دن تھا ،جہاں میری کے بعد ایک اور عہدے دار نے مواخذے کے تفتیش کاروں کو بند دروازے کے پیچھے اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔

عہدےدار نے مبینہ طور پر بتایا کہ انہوں نے کس طرح ایک فون کال سنی جس میں ٹرمپ یوکرینی رہنما سے اپنے سیاسی مخالف کے خلاف ’تحقیقات‘ کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔

دوسری جانب ٹرمپ اپنی اشتعال انگیز ٹویٹس کے ذریعے ان عوامی سماعتوں پر تنقید جاری رکھے ہوئے ہیں جو ان کی بے چینی کی عکاسی کرتی ہے۔

اس مواخذے کی باقاعدہ سماعت بدھ کو دو سینیئر سفارت کاروں کی گواہی کے ساتھ ہوئی جس میں یوکرین میں موجودہ اعلیٰ مندوب ولیم ٹیلر بھی شامل ہیں۔

اس تفتیش کا مرکز 25 جولائی کو ہونے والی وہ فون کال تھی جس میں صدر ٹرمپ نے یوکرین کے نو منتخب صدر ولودیمیر زیلینسکی سے ’ایک فیور‘ مانگی۔

ٹرمپ یوکرین کی حکومت سے 2016 کے انتخابات کے دوران ڈیموکریٹس کی سرگرمیوں اور 2020 کے امریکی صدارتی انتخابات میں اپنے ممکنہ حریف جو بائڈن کے خلاف تفتیش کا کہہ رہے تھے۔

 یہ ایسے وقت میں کیا گیا جب امریکہ اپنے مشرقی یورپی اتحادی یوکرین کی فوجی مدد روکے ہوئے تھا جب وہ اپنے پڑوسی روس کی جانب سے جارحیت کا سامنا کر رہا تھا۔

ڈیموکریٹس کا کہنا تھا کہ صدر ’رشوت‘ اور ’دھونس جمانے‘ کے مرتکب ہوئے ہیں۔ جبکہ ری پبلکنز کے مطابق کچھ ہوا ہی نہیں کیونکہ یوکرین کی فوجی امداد کانگریس کی شکایت کے بعد بحال کر دی گئی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ