سپریم کورٹ کا آرمی چیف کی مدت ملازمت میں تین ماہ کی مشروط توسیع کا عندیہ

عدالت نے جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق نئی سمری میں تاحال موجود غلطیاں دور کرنے کا حکم دیا ہے۔

(اے ایف پی)

سپریم کورٹ نے حکومتِ پاکستان کو مشکل سے نکالنے کے لیے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں تین ماہ کی مشروط توسیع دینے کا عندیہ دیا ہے۔

جمعرات کو چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

بینچ نے اٹارنی جنرل کو مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق سمری میں غلطیاں دور کرنے کے لیے دوپہر ایک بجے تک کی مہلت دی ہے۔

بینچ نے حکومت کو ہدایت کی کہ وہ دوپہر ایک بجے تک سمری میں موجود غلطیاں درست کر کے دوبارہ عدالت میں جمع کرائے تاکہ مختصر فیصلہ جاری کیا جا سکے۔

عدالت نے حکومت کو یہ بھی ہدایت کی کہ نئی سمری میں آرمی چیف کی مدت ملازمت، تعیناتی، توسیع، الاؤنس اور مراعات واضح کی جائیں، تین سال کی مدت کا ذکر ختم کیا جائے اور عدالت کا ذکر سمری سے نکالا جائے۔

چیف جسٹس نے حکومت کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف ملکی دفاع پر نظر رکھیں یا آپ کے ساتھ بیٹھ کرقانونی غلطیاں دورکریں۔

انہوں نے اٹارنی جنرل انور منصور سے کہا کہ انہوں نے آرمی ایکٹ کا جائزہ لیا جس کے بعد ان کے خلاف پراپیگنڈہ شروع ہوگیا۔

’ہمیں بھارتی اور سی آئی اے ایجنٹ کہا گیا۔ کہا گیا کہ یہ ففتھ جنریشن وار ہے۔ ہمیں پوچھنا پڑا کہ ففتھ جنریشن وار ہوتی کیا ہے۔ ہماراحق ہے کہ سوال پوچھیں۔‘

اس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا ’ہماری بحث کا بھارت میں بہت فائدہ اٹھایا گیا اور ویسے بھی سوشل میڈیا بے قابو ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چیف جسٹس نے کہا کم از کم سوشل میڈیا پر اداروں کا احترام لازم ہونا چاہیے۔

سماعت کے آغاز میں چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل انور منصور سے سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع اور جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کی دستاویزات طلب کیں تاکہ وہ دیکھ سکیں کہ ماضی میں توسیع اور ریٹائرمنٹ کس طریقہ کار کے تحت ہوئی تھی؟

آج جب سماعت کے دوران گذشتہ روز بنائی جانے والی سمری عدالت میں پیش کی گئی تو عدالت نے دوبارہ اِس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا سمری میں لکھا ہوا ہے کہ اس میں تبدیلی عدالت عظمیٰ کے کہنے پر کی گئی۔

چیف جسٹس کھوسہ نے کہا کہ عدالت کو کیوں درمیان میں لاتے ہیں؟ آپ بوجھ خود اٹھائیں ہمارے کندھے کیوں استعمال کرتے ہیں، اپنا کام خود کریں۔

چیف جسٹس نے سمری کا جائزہ لیتے ہوئے مزید کہا کہ تعیناتی آج 28 نومبر سے کر دی ہے جبکہ آج تو جنرل باجوہ آرمی چیف ہیں جو عہدہ ابھی خالی ہی نہیں ہوا، اس پر تعیناتی کیسے ہو سکتی ہے؟

تاہم چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کی آج کی تیاری کی تعریف کرتے ہوئے کہا لگتا ہے اس بار کافی سوچ بچار کی گئی، توآپ تین سال کے لیے توسیع دے رہے ہیں۔

اس کے جواب میں اٹارنی جنرل نے بتایا کہ مدت کا تذکرہ نہیں کیا۔

عدالت نے استفسار کیا کل کوئی قابل جنرل آئے گا تو پھر کیا اسے 30 سال کے لیے توسیع دیں گے؟ ماضی میں تو کسی کو ایک سال، کسی کو دو سال کی توسیع دی گئی۔

’کل جب ہم کہہ رہے تھے کہ جنرل ریٹائر ہوتے ہیں تو آپ کہہ رہے تھے نہیں ہوتے۔ پھر آج کہہ رہے ہیں کہ ہو رہے ہیں۔‘

چیف جسٹس نے مزید کہا آرمی ایکٹ میں ابہام ہے، لہذا پارلیمنٹ کو چاہیے کہ وہ اس ابہام کو دور کرے۔

’ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ ابھی جا کر قانون بنا کرآئیں، جوقانون 72 سال میں نہیں بن سکتا وہ اتنی جلدی میں نہیں بن سکتا۔‘

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اس وقت ان کے پاس کوئی بھی قانون نہیں سوائے ایک دستاویزکے، لیکن وہ کوشش کررہے ہیں کہ اس معاملے پر کوئی قانون بنائیں جس کے لیے تین سے چھے ماہ کا وقت درکار ہو گا۔

اس پر بینچ نے جنرل قمر باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع پر مشروط رضامندی ظاہر کرتے ہوئے کہا ’آپ نے قانونی سازی کے لیے تین ماہ مانگے ہیں تو ہم تین ماہ کے لیے مدت ملازمت میں توسیع کردیتے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان