طلبہ یکجہتی مارچ: ’وقت لگے گا لیکن ہم نہیں کریں گے تو کون کرے گا‘

اس مظاہرے کے لیے ’سٹوڈنٹ ایکشن کمیٹی‘ کے تحت چاروں صوبوں سے نوجوان اپنے حقوق کے لیے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئے۔

اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ اور ملتان سمیت بہت سے شہروں میں طلبہ مارچ میں شریک ہیں

پاکستان بھر میں طلبہ تنظیمیں اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر جمع ہوئیں جہاں ’انقلاب انقلاب‘ کے نعروں کے ساتھ طلبہ نے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا اور ساتھ میں اپنے مطالبات بھی پیش کیے۔

اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ اور ملتان سمیت بہت سے شہروں میں طلبہ اور نئی نسل مختلف مطالبات کے پلے کارڈ اٹھائے نعرے بازی کرتے سڑکوں پر نظر آئے۔

اس مظاہرے کے لیے ’سٹوڈنٹ ایکشن کمیٹی‘ کے تحت چاروں صوبوں سے نوجوان اپنے حقوق کے لیے دوپہر دو بجے کے بعد سے اعلان کردہ مقامات پر جمع ہو رہے تھے۔

دیکھیے لاہور سے انڈپینڈنٹ اردو کا فیس بک لائیو: 

اس تحریک کے بنیادی مطالبات میں پاکستان میں طلبہ یونینز پر 35 برس سے عائد پابندی کا خاتمہ اور قومی سطح پر ان کے انتخابات ہیں۔ یہ تحریک تعلیمی اداروں کی نجکاری کے خلاف اور مفت تعلیم کے حق میں ہے۔

طلبہ تحریک کو جہاں سول سوسائٹی کی حمایت حاصل ہے وہیں وفاقی وزیر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے طلبہ یونینز پر پابندی کو جمہوریت کے منافی قرار دیا ہے۔

فواد چوہدری  نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’طلبہ یونین پر پابندی مستقبل کی سیاست کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔ طلبہ سیاست کو تشدد سے پاک بنانے کے لیے اقدامات کیے جا سکتے ہیں لیکن طلبہ سیاست پر پابندی غیرجمہوری اقدام ہے۔‘

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے بھی اپنی ایک سلسلہ وار ٹوئٹس میں کہا ہے کہ ’پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ سٹوڈنٹ یونینز کی حمایت کی ہے۔ بے نظیر بھٹو کی جانب سے طلبہ یونین کی بحالی کو ایک مقصد کے تحت ختم کیا گیا تاکہ معاشرے کو غیر سیاسی کیا جائے۔ آج طلبہ یونیونز کی بحالی، تعلیم حاصل کرنے کے حق کو نافذ کرنے کے لیے یکجہتی مارچ کر رہے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لاہور کے مارچ میں شریک ایکٹوسٹ منہا حیدر نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ مارچ ناصر باغ کے سامنے گورنمنٹ کالج کے گیٹ سے شروع ہوا۔ تھوڑی دیر تو سارے طلبہ نے وہیں کالج کے سامنے کھڑے ہوکر احتجاج کیا کہ اندر بیٹھے سٹوڈنٹس کو بھی مارچ میں شامل ہونے کی اجازت دی جائے، اس کے بعد مارچ چیرنگ کراس پہ آ کر رک گیا۔

مارچ کے دوران مختلف انقلابی ترانے چلائے جاتے رہے نیز طلبہ نے اپنے مذکورہ بالا مطالبات کے حوالے سے بات بھی کی۔

ایک اور طالب علم حریم کا کہنا تھا کہ ’ہمیں معلوم ہے کہ وقت لگے گا لیکن بطور طالب علم اور مسائل کو جانتے ہوئے ہم بات نہیں کریں گے تو کون کرے گا۔‘

مارچ کے دوران لاہور کا مزدور طبقہ بھی طلبہ سے یکجہتی کا اظہار کرتا دکھائی دیا جن کا کہنا تھا کہ ’ہمیں تو حق ملتا نہیں لیکن ہم جانتے ہیں کہ طلبہ کو بھی ان کا حق نہیں مل رہا اس لیے ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘

کوئٹہ سے سماجی کارکن جلیلہ حیدر نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس مارچ میں پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن، پشتون سٹوڈنٹس آرگنائزیشن، بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن، ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ سمیت ریوولیوشنری سٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے شرکت کی جبکہ طلبہ کی کئی دیگر جماعتیں بھی اس مظاہرے میں شامل تھیں۔

سٹوڈنٹ ایکشن کمیٹی کے سپوکس پرسن ظہیر بلوچ نے مارچ سے خطاب کرتے ہوئے فیسوں میں ناجائز اضافے، ایچ جی سی کے دیے سکالر شپ کی کٹوتی، طلبہ کی ہراسانی، نسلی اور لسانی بنیادوں پر طلبہ کی پروفائلنگ، طلبہ کے ہوسٹل مسائل سمیت دیگر اہم امور کی نشاندہی کی۔ کوئٹہ کا یہ مارچ بلدیہ لان سے شروع ہو کر پریس کلب پر ختم ہوا۔

جلیلہ حیدر کے مطابق دیگر بڑے شہروں کی طرح کوئٹہ میں بھی یہ ایک کامیاب مارچ تھا۔

ملتان سے ڈاکٹر زری اشرف نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ مہنگی کتابوں، بڑھتے ہوئے ہاسٹل اخراجات اور مہنگے نظام تعلیم کے خلاف گول باغ سے 6 نمبر چونگی تک طلبہ نے یہ مارچ منعقد کیا۔

اگرچہ مارچ میں خواتین کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی لیکن پھر بھی یہ ایک بھرپور اور کامیاب احتجاج کہا جا رہا ہے۔ زری اشرف کے مطابق اس مارچ میں طلبا اور مزدور لیڈر، وکلا، ہیومن رائیٹس کے کارکن، سول سوسائٹی ارکان سمیت کسان نمائندے بھی شامل تھے۔ مارچ کے تمام راستے میں انقلابی نغمے گائے گئے اور نعرے بھی لگائے گئے۔

کراچی سے انڈپینڈنٹ اردو کے نمائندے امر گرڑو کی لائیو کوریج: 

کراچی میں ہونے والے مارچ میں شریک طالب علم نے کہا کہ جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہوتے، اور ان کی بات سنی نہیں جاتی تب تک ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔

رواں ماہ لاہور میں منعقد فیض فیسٹول میں پنجاب یونیورسٹی کے نوجوانوں نے طلبہ یونینز کی بحالی کے لیے آواز اٹھانے کی ایک ویڈیو سوشل میں پر خوب مقبول ہوئی اور  دو نوجوان عروج اورنگزیب  اور علی حیدر کے جوش نے طلبہ یونین کی بحالی کو ایک تحریک میں تبدیل کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور اقتدار کے بعد 2008 میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنے پہلے خطاب میں طلبہ یونینز کی بحالی کا اعلان تو کیا تھا لیکن اس پر کوئی عمل نہ کیا گیا۔

اس کے بعد 23 اگست 2017 کو سینیٹ نے متفقہ قرار داد پاس کی کہ یونینز کی بحالی کے لیے اقدامات کیے جائیں لیکن قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی اکثریت ہونے کے باوجود وہ اسے اسمبلی سے پاس نہیں کرواسکی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس